سانحہ بہاولنگر پر پاک فوج کٹہرے میں

  • ہفتہ 13 / اپریل / 2024

پاک  فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بہاولنگر سانحہ کی تحقیقات کروانے کا اعلان کیا ہے تاہم اس کے ساتھ ہی یہ شکایت  بھی کی ہے کہ اس معاملہ کو بعض عناصر کی طرف سے جھوٹا پروپگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے حالانکہ پولیس اور  فوج  نے یہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرلیا  ہے۔ 

یہ بیان اس حد تک تو خوش آئیند ہے کہ فوج نے اس وقوعہ کی سنگینی کو محسوس کیا ہے اور اب تحقیقات کا عندیہ دیا ہے۔  لیکن فوج کو یہ بھی باور کرنا چاہئے کہ اس ناخوشگوار واقعہ کے بعد پاک فوج مسلسل کٹہرے میں کھڑی ہے اور اسے پاکستانی عوام کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت ہے۔  بہاولنگر کے تھانہ مدرسہ پر فوجی جوانوں کے دھاوے، مارپیٹ اور تشدد کی ویڈیوز کے علاوہ متعدد عینی شاہدوں کے بیانات بھی ریکارڈ پر آچکے ہیں۔

گو  کہ کہا جاسکتا ہے کہ اس مواد کو بعض عناصر سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کررہے ہیں لیکن یہ شکایت کرنے   اور ان عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے سے پہلے فوج کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ملک و قوم پاک فوج پر اعتماد کرتے ہیں ۔ اسے ملکی سرحدوں کی حفاظت اور امن و مان بحال رکھنے کے لیے  منتخب سول حکومت سے تعاون کرنے اور اس کی مدد کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی  ہے۔ یہ ذمہ داریاں نبھانے کے لئے فوج کو ہمہ قسم گولہ بارود، آتشیں اسلحہ ،  آلات حرب  حتی کہ جوہری ہتھیاروں تک دسترس حاصل ہے۔  جب  ایسے ہتھیار کسی ادارے کے حوالے کیے جاتے ہیں تو اس سے مکمل ڈسپلن اور قواعد و ضوابط کی سو فیصد تکمیل کی یقین دہانی  حاصل کی  جاتی ہے۔  بہاولنگر سانحہ کے حوالے سے سب سے پہلی اور سب سے سنگین پریشانی  یہی ہے کہ  کیا واقعی فوج پر بطور ادارہ اور اس کے اہلکاروں پر بطور سپاہیوں کے  ایسا اعتبار کیا جاسکتا ہے کہ ان کی عسکری طاقت کسی ذاتی مقصد کی تکمیل اور گروہی مفاد کے حصول کے لیے استعمال نہیں ہوگی؟

بدقسمتی سے  اس سانحہ کے بعد پاک فوج بطور ادارہ اس قسم کی غیر واضح اور غیرمتزلزل یقین دہانی کروانے میں ناکام رہا ہے۔  آئی ایس پی آر نے دو  روز انتظار کے بعد جو پریس ریلیز جاری کی ہے ، اس کے الفاظ پر غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ فوج نے  کوئی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے ،  ایسے ان دیکھے عناصر کو مورد الزام  ٹھہرانے کی کوشش کی   ہے جو اس واقعہ کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کو عام کرکے ااور ان پر  گرم و سرد تبصرے  کررہے ہیں جو فوج کے خیال میں اس پر الزام تراشی ہے۔     فوج کے اس شکوہ کو درست مانا جاسکتا تھا بشرطیکہ فوج بھی اس واقعہ کو محض چند فوجیوں کی بے اعتدالی سمجھ کر   نظر انداز کرنے اور پولیس سے ’پاک فوج زندہ باد‘ کے نعرے  لگوانے پر اکتفا کرنے کی بجائے ، حقیقی معاملہ کے بارے میں درست معلومات فراہم کرتی اور   اعلان کیا جاتا کہ جن فوجیوں نے بھی ڈسپلن اور قواعد وضوابط توڑے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

آئی ایس پی آار کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ حال ہی میں بہاول نگر میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جسے فوج اور پولیس حکام کی مشترکہ کوششوں سے فوری طور پر خوش اسلوبی سے حل کرلیا گیا۔ اس کے باوجود بعض دھڑوں نے اپنے مخصوص مفادات کی خاطر سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں اور سرکاری محکموں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کے لیے پروپیگنڈا شروع کر دیا۔قوانین کی خلاف ورزی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا۔ حقائق کا پتا لگانے کے لیے ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے گی۔ تحقیقات کے لیے سکیورٹی فورسز اور پولیس افسروں پر مشتمل مشترکہ انکوائری کی جائے گی‘۔

پاک فوج کی قیادت کے علم میں ہونا چاہئے کہ  فوج کے یونٹوں ، افسروں اور جوانوں کو اسی یقین کے ساتھ اسلحہ اور دیگر ساز و سامان فراہم کیا جاتا ہے کہ  وہ اسے مجاز افسر کے حکم کے مطابق کوئی جائز قومی ٹارگٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔   فوج پر اعتبار کا یہ بنیادی اصول ہے۔ اگر اس اصول کو ماننے سے انکار کیا جائے گا  یا اسے  ’غیر اہم ‘ سمجھ کر نظرانداز کیا جائے گا کیوں کہ فوجیوں نے  ایک سول سکیورٹی ادارے ’پولیس‘ کو سبق سکھانے کے لیے اقدام کیا تھا تو   اس سے افراتفری اور انتشار کا شدید اندیشہ پیدا ہوگا۔ ٖفوجی قیادت کسی صورت بھی ایسی صورت حال کو قبول نہیں کرسکتی کیوں کہ ایسا کوئی اقدام   ۔۔۔خواہ وہ کوئی  ایسا واقعہ ہو جس میں محض ایک فوجی اپنی رائفل کے ساتھ شہریوں کر دھمکاتا پایا جائے یا چند درجن فوجیوں کا گروہ ہو جو فوجی ٹرکوں پر سوار ہو کر سرکاری اسلحہ کے ساتھ کسی تھانے کے عملہ سے حساب برابر کرنے گئے  ہوں ۔۔۔  ڈسپلن کے اس اصول کی خلاف ورزی ہے کہ کوئی فوجی مجاز افسر کی اجازت کے  ساتھ ہی  طاقت کا استعمال کرسکتا ہے۔ کسی ادارے کو اسلحہ کی طاقت سے لیس کرتے ہوئے، اس پر اس کی حفاظت کے ساتھ اس کے درست استعمال کی    ضمانت بھی  لی  جاتی ہے۔ یہ ضمانت ہر فوجی قوم سے کیے گئے عہد کی صورت  میں پوری کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ بہاولنگر میں اسی  عہد کی خلاف ورزی دیکھنے میں آئی ہے۔

پاک فوج ایک منظم اور قابل اعتبار ادارہ ہے۔  اس نے یہ اعتبار شدید ڈسپلن اور اپنی صفوں میں نظم و ضبط کے ذریعے حاصل کیا ہے۔ گزشتہ سال 9 مئی کے موقع پر جب ایک سیاسی پارٹی کے کارکنوں نے اشتعال میں عسکری تنصیبات پر حملے کیے اور شہدا کی یادگاروں کو نقصان پہنچایا تو شہریوں  کو ذمہ دار قرار دینے کے ساتھ فوجی قیادت نے سب سے پہلے ان فوجی  اہلکاروں اور افسروں کا احتساب کیا تھا جو اس ہنگامہ آرائی کے دوران جذبات سے مغلوب ہوئے یا کسی کوتاہی کی وجہ سے اپنا فرض منصبی ادا کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اسی  کارروائی کے نتیجے میں جن لوگوں کو عہدوں سے فارغ کیا گیا ان میں  ایک جرنیل سمیت دیگر اعلیٰ افسر بھی شامل تھے۔ حالانکہ کسی لیفٹیننٹ جنرل  نے تو   عسکری  تنصیبات پر پتھراؤ نہیں کیا تھا ۔ لیکن فوجی قیادت نے باور کیا کہ ان لوگوں نے اپنی ذمہ داری بخوبی ادا نہیں کی ، اس طرح یہ لوگ فوجی ڈسپلن کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ۔ اسی اقدام کی وجہ سے پاک فوج کے اس  مؤقف کو وسیع سیاسی حمایت بھی حاصل ہوئی کہ جن لوگوں نے بھی 9 مئی کو بلوہ کرنے اور فوج کو لڑانے کی کوشش کی انہیں قرار واقعی سزا ملنی چاہئے۔ ایسے ایک سو کے لگ بھگ شہری اس وقت بھی فوجی عدالتوں کا سامنا کرنے کے لیے فوج کی حراست میں ہیں۔

بعینہ یہ   بھی اہم ہے کہ جن عناصر  نے بھی بہاولنگر میں ایک فوجی  یا اس کے خاندان کے خلاف پولیس کی ’زیادتی‘ یا غیر قانونی کارروائی  کا بدلہ لینے کے  ایکشن میں حصہ لیا یا اس  اقدام کی اجازت دی، انہیں فوری طور سے فوجی ڈسپلن کے تحت جواب دہ کیا جاتا۔ پاک فوج  بعض دھڑوں سے فوج کو بدنام کرنے یا دو  د سرکاری محکموں کو آپس میں لڑانے کا شکوہ کرنے سے پہلے یہ اعلان کرتی کہ  جو فوجی بھی چھاؤنی سے نکل کر پولیس تھانے گئے اور متعدد پولیس اہلکاروں  پر تشدد کیا، ان کی جواب طلبی کرلی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بتایا جاتا کہ  یہ  فوجی کس افسر کے حکم پر یا غفلت کی وجہ سے  ایسے سنگین واقعہ میں  ملوث ہوئے یا کم از کم یہ بتا دیا جاتا کہ جو لوگ بھی اس واقعہ میں کسی بھی سطح پر ملوث ہیں، انہیں فوری طور سے فوج کے اندروانی ڈسپلن کے تحت سزائیں دی جارہی ہیں۔ ایسی صورت میں نہ تو سیاسی  مقاصد کے لئے اس واقعہ کو  استعمال کرنے والوں کو کوئی کامیابی ہوتی اور نہ ہی سوشل میڈیا  پر پروپیگنڈا کرنے والوں کی باتوں پر کان دھرا  جاتا۔

البتہ اس کے برعکس  دیکھنے میں آیا کہ ایک تو پولیس اہلکاروں پر ناجائز طور سے تشدد کیا گیا ، پھر  فوجی افسروں نے پولیس افسروں کے ساتھ ملک کر  تھانہ مدرسہ کے ان اہل کاروں کو معطل کروایا جن  کے  خلاف ایک فوجی یا کئی فوجیوں کو شکایت  تھی ۔ اس کے بعد ان افسران نے پولیس اہلکاروں کو جمع کرکے انہیں پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگانے پر آمادہ  کیا۔ اور پولیس سے اعلان کروادیا گیا کہ ’معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرلیا گیا ہے‘۔  کسی معاملہ کو حل کرنے کا یہ ایک بھونڈا طریقہ تھا جس سے شکایت دور ہونے کی بجائے شبہات اور بداعتمادی میں اضافہ ہؤا۔ بدقسمتی سے آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز بھی   شبہ کی اس فضا کو ختم  نہیں کرسکی۔ کیوں کہ یہی  معلوم ہوتا  ہے کہ ہر صورت میں پولیس اہلکار ہی قصور وار تھے۔ اسی لیے وہ معطل ہوگئے  اور انہیں غیر قانونی کارروائی کرنے پر گرفتار بھی کرلیا گیا لیکن جن درجنوں فوجیوں نے  کسی  ایک فوجی ساتھی کی  مدد کے لیے ایک تھانے    پر دھاوا بولا اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ، ا ن کے بارے میں پولیس یا آئی ایس پی آر کے بیانات خاموش ہیں۔

آئی ایس پی  آر کا بیان جمعہ کی شام کو جاری  ہؤا۔ اس میں پولیس اورفوجی افسروں کی طرف سے  مشترکہ تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے۔  اس  کا  مطلب ہے کہ ابھی یہ تحقیقات ہوں گی ، تب ہی قصور واروں کا تعین ہوسکے گا ۔ پھر کن فوجی افسروں نے مستعدی دکھاتے ہوئے  مقامی پولیس افسروں  کو اپنے  ہی عملہ کو سزا دینے پر مجبور کیا؟ دیکھا جائے کہ کیا یہ طریقہ کا رفوجی قواعد و ضوابط کے مطابق تھا؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تھانے کے معاملات  پولیس قیادت دیکھتی اور فوجی افسر چھاؤنی کے اندر بے ضابطگی کرنے والے جوانوں کو طلب کرکے ان سے  پوچھتے کہ انہیں اپنی حیثیت استعمال کرنے کا اختیار کس نے دیا تھا۔  پاک فوج جب تک ان تمام فوجیوں کو عبرت کا نشان نہیں بنائے گی جو اس واقعہ میں براہ راست یا بعد میں اس کی پردہ داری میں ملوث رہے ہیں، اس وقت تک سوشل میڈیا پر جھوٹے یا سچے پروپیگنڈا کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔

یہ معاملہ ایک تھانے میں ہلڑ بازی یا چند پولیس افسروں کے ساتھ مارپیٹ سے زیادہ فوجی ڈسپلن  سے تعلق رکھتا ہے۔ اس معاملہ میں شفافیت کا مظاہرہ کرکے فوج درحقیقت ایک طرف عوام کا اعتماد بحال کرسکتی ہے اور دوسرے یہ واضح کرسکتی ہے کہ پاک فوج ملکی قوانین کا مکمل احترام کرتی ہے۔ اور اس کی اپنی صفوں میں جو بھی قانون شکنی کا مرتکب ہوگا، اسے معاف نہیں کیا جائے گا۔  صرف ایسا دو ٹوک اعلان اور  قانون شکن عناصر کے خلاف سخت کارروائی سے ہی فوج کے دامن پر لگا ہؤ داغ دھویا جاسکتا ہے۔ فوجی قیادت کو سمجھنا چاہئے کہ چند فوجی اپنی جذباتی حرکت کی وجہ سے پورے ادارے کے لیے تہمت  بنے ہیں ۔