اسرائیل کا ڈرونز اور میزائیلوں سے اسرائیل پر براہ راست حملہ

  • اتوار 14 / اپریل / 2024

دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر تین سو کے لگ بھگ  ڈرون اور کروز میزائل سے حملہ کیا تاہم اسرائیل نے امریکہ، بارطانیہ اور دیگر ممالک کے تعاون سے سب ڈرون اور میزائل ناکارہ کردیے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق گزشتہ شب ایران نے اسرائیل پر براہ راست ڈرون حملے کیے۔ حملے میں اسرائیلی دفاعی تنصیبات اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایران نے اسرائیل میں 50 فیصد اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل پر حملے میں ان کے اتحادی یمن، لبنان اور عراق بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگری نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے 300 کے قریب ڈرون اور میزائل داغے۔ ان حملوں میں کم از کم 12 افراد زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والوں میں ایک 7 سالہ بچی بھی شامل ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ صرف چند ایرانی میزائل اسرائیلی سرزمین میں گرے جس سے فوجی اڈے اور انفراسٹرکچر کو معمولی نقصان پہنچا۔ ایرانی حملوں کے جواب میں امریکا اور اردن نے اسرائیل کی مدد کرتے ہوئے کئی ایرانی ڈرونز مار گرائے۔

یمن کے حوثی، لبنان کی حزب اللہ کی جانب سے بھی اسرائیل پر حملے کی بھی اطلاعات ہیں۔ یاد رہے یکم اپریل کو اسرائیل کے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کے بعد ایران نے اسرائیل پر جوابی حملے سے خبردار کیا تھا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ایران نے حزب اللہ اور حماس سمیت اپنے اتحادیوں کے ساتھ برسوں سے جاری پراکسی جنگیں چھیڑنے کے بعد اسرائیل پر براہ راست حملہ کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے اسرائیل پر حملے کے جواب میں امریکی فورسز نے 70 سے زائد ایرانی ڈرونز اور کم از کم 3 بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ایران کے 3 بیلسٹک میزائل کو بحیرہ روم میں موجود امریکی جنگی جہازوں نے روکا۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اسرائیل پر 100 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے۔

ایران کے اسرائیل پر میزائل اور ڈرونز حملے کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج (14 اپریل) شام مقامی وقت کے مطابق 4 بجے طلب کر لیا گیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے سلامتی کونسل کا یہ ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔ صدر سلامتی کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں اسرائیل نے کہا ہے کہ ایران کا حملہ ’عالمی امن اور سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے‘۔ خط میں ایران پر متعدد الزامات عائد کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے اپنے جوابی خط میں ایران کے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اسے ’اپنے دفاع میں اٹھایا گیا اقدام‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عالمی قوانین کے عین مطابق تھا۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے گزشتہ رات کے حملوں پر جوابی کارروائی کی تو اسے سنگین نتائج بگھتنا ہوں گے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع کا حق کو استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ اگر اسرائیلی حکومت دوبارہ کسی فوجی جارحیت کا ارتکاب کرتی ہے تو ایران کا ردعمل رات بھر کی بمباری سے ’کہیں بڑا‘ ہوگا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے صورتحال پر ہنگامی جنگی کابینہ کا اجلاس بلایا ہے۔ ایک بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر داغے جانے والے تقریباً تمام ڈرونز اور میزائلوں کو مار گرانے میں مدد کی ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے ایران کو واضح پیغام دیا کہ وہ اسرائیل کے لیے دفاع میں اس کا ساتھ دیں گے۔ ایران کے حملوں کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی ٹیم سے ہنگامی ملاقات کی۔

وائٹ ہاؤس نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ معاملے پر اسرائیل اور دیگراتحادیوں سے رابطے میں ہیں۔ ایران کے حملے کے بعد امریکا نے مشرقی وسطی میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے اسرائیل پر حملے کے جواب میں امریکی فورسز نے 70 سے زائد ایرانی ڈرونز اور کم از کم 3 بیلسٹک مزائل مار گرائے ہیں۔