ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل ’ناقابل تسخیر‘ نہیں رہا

اسرائیل پر ایران کے ڈرون اور میزائل  حملوں کو اگرچہ بڑے پیمانے پر ناکام بنا دیا  گیا ہے لیکن اس کے بعد مشرق وسطی میں بڑی جنگ کا خطرہ  ہے۔ ایران نے متنبہ کیا ہے کہ  اس  کی طرف سے بات ختم ہوگئی ہے۔ اس نے یکم اپریل کو دمشق میں اپنے قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کا ’بدلہ‘ لے لیا ہے ۔ البتہ اگر اسرائیل نے جوابی کارراوئی کی تو ایران کا رد عمل سخت اور درشت ہوگا۔  دوسری طرف اسرائیلی جنگی کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک وزیر نے کہا ہے کہ اسرائیل صحیح وقت پر ایران سے اس  حملے کی قیمت وصول کرے گا۔

امریکی صدر جو بائیڈن  نے ایرانی حملے  کے بعد  سفارتی کوششیں تیز کی ہیں اور جی سیون کے ایک ورچوئیل اجلاس کی صدارت بھی  کی ہے۔ امریکہ   کا مؤقف ہے کہ  اسرائیل کو ایران کے خلاف جوابی کارروائی نہیں کرنی چاہئے ۔ خبروں کے مطابق جو بائیڈن نے  وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر گفتگو میں زور دیا کہ اس تنازعہ کو بڑھانے سے گریز کیا جائے اور   اسرائیل ایران  پر جوابی حملہ نہ  کرے۔ البتہ اسرائیلی  حکومت یا فوجی ذرائع کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود اس حوالے سے خاموش تھے۔  اس پراسرار خاموشی میں دنیا مشرق وسطیٰ میں کسی بڑی جنگ  کا خطرہ محسوس کررہی ہے جس کے عالمی معیشت اور علاقائی بین الملکی  تعلقات پر دوررس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ایک اسرائیلی وزیر بینی غانتس نے کہا ہے کہ ’اسرائیل صحیح وقت آنے پر ایران کی جانب سے کیے گئے حملے کی قیمت وصول کرے گا۔ہم خطے میں ایک اتحاد بنائیں گے اور جو وقت اور طریقہ ہمیں صحیح لگے گا ، اس کے مطابق ایران  کے خلاف کارروائی  ہوگی۔سب سے اہم بات یہ  ہے کہ ہمارا دشمن ہمیں نقصان پہچانا چاہتا ہے، اس لیے ہم مزید متحد اور مضبوط رہنے کی ضرورت ہے‘۔ دوسری طرف  ایران نے اسرائیل کو متنبہ  کیاہے کہ  جوابی کارروائی کی صورت  میں وہ بڑے اقدامات اٹھائے گا۔ ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد باقری نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ اگر اسرائیل جوابی کارروائی کرتا ہے تو ایران کا ردعمل گزشتہ رات کے حملوں سے ’کہیں بڑا‘ ہوگا۔ انہوں نے واشنگٹن کو بھی خبردار کیا کہ ’اسرائیلی جوابی کارروائی کی حمایت نہ کی جائے۔  اگر امریکہ نے  جارحیت میں اسرائیل کا ساتھ دیا تو ایران امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا‘۔ ایران کے اقوام متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے۔ اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ’ایک اور غلطی کی‘ تو اس کے سخت نتائج ہوں گے۔

تل ابیب سے متعدد اسرائیلی صحافیوں اور تجزیہ نگاروں نے  خیال ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل شاید فوری طور سے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ اسرائیلی حکومت  کے ترجمان بھی تاثر دے رہے ہیں کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ اس تنازعہ میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔   تاہم یہ بات بھی نوٹ کی جاسکتی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو  نے غزہ میں جنگ جوئی کے حوالے سے نہ صرف امریکی مشوروں کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے بلکہ انہوں نے     سلامتی کونسل کی  جنگ بندی کے لیے قرار داد بھی  مسترد کردی تھی۔  اس لیے  کسی کے لیے بھی یہ قیاس کرنا ممکن نہیں ہے کہ ایران کے وسیع اور بھرپور حملہ کے بعد اسرائیلی حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے۔ البتہ یہ واضح ہے کہ اسرائیلی حملہ کی صورت میں ایران بھی خاموش نہیں بیٹھے گا ۔ اس طرح اگر جنگ پھیلتی ہے تو امریکی صدر کی طرف سے بار بار تحمل  کی اپیل کے باوجود امریکہ کے لیے  اس جنگ سے اپنا دامن  بچانا ممکن نہیں ہوگا۔  یہی وجہ ہے کہ اس وقت عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔

اسرائیلی درخواست پر  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا  اجلاس آج رات منعقد ہورہا ہے۔ اسرائیلی درخواست میں  ایرانی پاسدارانِ انقلاب  کو ’دہشت گرد‘  قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے کیوں کہ اس کی طرف سے اسرائیل پر حملہ کرکے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ مضحکہ خیز مطالبہ ایک  ایسے ملک کی طرف سے کیا جارہا ہے جس نے  مقبوضہ فلسطینی علاقے خالی کرکے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کام کرنے کی اقوام متحدہ کی کوششوں  کو مسلسل مسترد کیا ہے۔ اس کے علاوہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملہ کے بعد سے غزہ میں مسلسل جنگ جوئی کی ہے جس میں اب تک 34 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں 10 ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔ کسی مزاحمت کے بغیر  بیس پچیس لاکھ نہتے شہریوں کو گھیر کر ہلاک کرنے کی ایسی بدترین مثال حالیہ انسانی تاریخ میں کم ہی دیکھنے میں آئی ہے۔  اس کے باوجود امریکہ نے اسرائیل کی فوجی و سفارتی حمایت  جاری رکھی ہوئی ہے۔

اس پس منظر کے باوجود  یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ ایران نے   غزہ کے فلسطینیوں کی حمایت کے لیے اسرائیل پر حملہ نہیں کیا بلکہ اس نے علاقے میں اپنی  ساکھ بحال رکھنے اور یہ واضح کرنے کے لیے حملہ کیا ہے کہ اگر کوئی ملک  ایران کی خود مختاری  کو چیلنج کرے گا تو اسے جواب دیا جائے گا۔ اس طرح اس  نے اسرائیل جیسی  عسکری طاقت  اور جدید اسلحہ و ٹیکنالوجی سے لیس  ملک  کو نشانہ بنا کر  یہ پیغام دیا ہے کہ اسرائیل بھی ناقابل تسخیر نہیں ہے اور اس کے جرائم کو ہر وقت ہر قیمت پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔ متعدد مبصرین کی جانب سے جائز طور سے یہ سوال کیا جارہا ہے کہ ایران کو بخوبی علم تھا کہ اس کے بھیجے ہوئے ڈرون اور میزائل اسرائیل اپنے فضائی دفاعی نظام کی وجہ سے ناکارہ بنا دے گا۔ اس  لیے  اس حملے  سے خفت کے سوا کیا حاصل ہؤا۔ خاص طور سے یہ نکتہ بھی متعدد مباحث میں اٹھایا جارہا ہے کہ ایرانی ڈرون   نو دس گھنٹے  کا سفر کرکے اسرائیل پہنچے جبکہ اس کے میزائلوں کو بھی نشانے تک پہنچنے میں  پندرہ منٹ سے دو گھنٹے  صرف ہوئے۔ جنگ کا عمومی طریقہ تو دشمن کو حیران کرنا اور اچانک وار کرکے ہدف حاصل کرنا ہوتا ہے لیکن ایران بہر صورت  ایسی عسکری  صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کرسکا۔ ناقدین کے خیال میں ا س طرح اسرائیل کو اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر اس حملے کو ناکارہ بنانے کا موقع مل گیا تھا۔

 تاہم   ایرانی حملہ کے بارے میں خود امریکی صدر چند روز پہلے بتا چکے تھے ۔ ایرانی وزیر خارجہ نے بھی بتایا ہے کہ ہمسایہ ممالک  کے علاوہ  امریکہ کو بھی 72 گھنٹے پہلے ایرانی کے ’حق دفاع‘ کے بارے میں  مطلع کردیا گیا تھا کیوں کہ اسرائیل نے دمشق میں ایرانی قونصل خانہ پر حملہ کرکے جارحیت میں پہل کی تھی جس کا جواب دینا ایران کا حق تھا۔  یہ درست ہے کہ ایرانی ڈرون اور میزائل اسرائیل  کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا سکے لیکن یہ پہلو بھی اتنا سادہ نہیں ہے۔  ایک تو حالت جنگ میں کوئی ملک بھی  درست معلومات فراہم  نہیں کرتا۔ اسرائیل نے یہی دعویٰ کیا ہے کہ  ایران کے 90 فیصد ڈرون اور میزائل ضائع کردیے  گئے لیکن یہ نہیں بتایا کہ باقی دس فیصد کا کیا بنا؟ کم از کم ایک اسرائیلی ائیر بیس پر  میزائل  گرنے کا اعتراف  تو اسرائیلی فوج نے بھی  کیا ہے۔ اس لیے اسرائیل کو پہنچنے والے نقصان کی حقیقی صورت حال شاید کافی عرصے تک سامنے نہ آسکے۔

یہ بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل  بھاری بھر کم  فضائی دفاعی  صلاحیت کے باوجود  امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور اردن کی مدد سے ہی اس حملے کو ناکارہ بنانے میں کامیاب ہؤا ہے۔ اردن نے پہلے اپنی فضائی حدود بند کردی تھیں لیکن بعد میں انہیں حلیف ممالک کی ائیر فورسز کے لیے کھول دیا گیا۔ خیال ہے کہ  بیشتر ایرانی ڈرون اور میزائل ارد ن کی فضائی حدود میں نشانہ بنائے گئے۔ اس طرح ایران کم از کم یہ نکتہ واضح کرنے میں کامیاب ہؤا ہے کہ اسرائیل کو اس کی  تمام تر عسکری طاقت کے  باوجود نشانے پر لیا جاسکتا ہے۔  درحقیقت  اس تنازعہ کا یہی پہلو اسرائیل کے علاوہ اس کے حلیف ممالک کو ہراساں کرنے  کا سبب بنا ہے۔ اب تک یہ باور کیا جاتا تھا کہ  اسرائیل کی تمام تر غنڈہ گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے باوجود کوئی ملک اسرائیل پر حملہ کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔  ایران نے یہ نفسیاتی حد عبور کرکے اسرائیل کو  دوٹوک اور واضح پیغام دیا ہے کہ اسے اپنی جنگی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا  ہوگی۔ اگرچہ اس  موقع پر اسرائیل یا اس کے حامی ممالک کھل کر اس نفسیاتی دباؤ کا اعتراف نہیں کریں گے  لیکن  اس حقیقت سے انکارکر ناممکن  نہیں ہے کہ اسرائیل اب خود کو  ایک روز پہلے کی طرح ایسی طاقت سمجھنے کی غلطی کرے گا جس کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔

اسرائیل پر ایرانی حملے  کے بعد البتہ یہ  سوال اپنی جگہ پر اہم رہے گا کہ    کیا ایران کے پاس اسرائیل  پر ناکام ڈرون و میزائل حملہ کرنے کے سوا اسرائیل کو اپنی حدود میں رہنے کا پیغام دینے کا کوئی طریقہ نہیں تھا؟ ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کے گٹھ جوڑ کے باوجود ایران کو چین کی حمایت حاصل ہے اور روس نے بھی اس کی سفارتی اعانت کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔  ایسے میں جنگ بڑھانے کے علاوہ  سفارتی ذرائع کو بروئے کار لانا  زیادہ سود مند ہوسکتا تھا۔  ایرانی حکومت نے ان حملوں سے اپنے ملک میں پائی جانے والی سیاسی بے چینی کو  کمزور کرنے  اور  فی الوقت ایرانی عوام کو ایک کھوکھلا احساس فخر دینے کا اہتمام تو کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی  اسرائیل  کے ساتھ جنگ کا آغاز کرکے ایران نے غزہ  میں اسرائیلی مظالم  کو منظر نامہ سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔  ایران گو کہ فلسطینی کاز کا بہت بڑا چیمپئن ہے اور حماس کی حمایت کرتا ہے لیکن اسرائیل پر حملہ  کے  بعد اب  غزہ کے فلسطینیوں کی حالت زار  اور فلسطینی مسئلہ حل  کرنے پر  مباحث کی بجائے آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں یہ بات ہوگی کہ ایران و اسرائیل  کے تصادم کو  کیسے روکا جاسکتا ہے۔ فلسطینی کاز  کے ایک حامی ملک نے اپنی انا کے لئے اس مسئلہ کو عالمی ایجنڈے پر  پھر سے پیچھے دھکیلنے میں کردار ادا کیا ہے۔

گزشتہ رات ایرانی حملوں سے پہلے دنیا بھر میں اسرائیل کو جارح اور عالمی قوانین  توڑنے والا  ملک تسلیم کیا جارہا تھا۔ مضبوط اسرائیلی لابی کے باوجود اسرائیل کے لئے ہمدردی میں کمی واقع ہورہی تھی ۔ یورپی ممالک میں تسلسل سے اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرے ہورہے تھے۔ لیکن ایران کے ناکارہ میزائل و ڈرون حملوں نے اسرائیل کو یک بیک ’مظلوم‘ بنادیا ہے اور اب وہ اپنے دفاع کی دہائی دے کر فلسطینیوں  پر مظالم  میں اضافہ کا جواز تلاش کرے گا۔