اسرائیل ایران کشیدگی، سلامتی کونسل کا اجلاس بغیر کسی اہم نتیجے کے ملتوی

  • سوموار 15 / اپریل / 2024

ایران کے اسرائیل پر میزائل اور ڈرونز حملے کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس رسمی کارروائی کے بعد ملتوی کردیا گیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس 14 اپریل کو اسرائیل کی درخواست پر بلایا گیا. 13 اپریل کو رات گئے ایران نے اسرائیل پر تقریباً 300 ڈرون اور میزائل داغ کر پہلی بار براہ راست حملے کیے تھے۔ سلامتی کونسل اجلاس کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تمام ممالک کے اراکین کو خبردار کیا کہ ایران کے خلاف انتقامی کارروائیوں سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کا استعمال منع ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر ایران کے حملے کی بھی مذمت کی۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرق وسطیٰ تباہی کے دہانے پر ہے۔ خطے کو تباہ کن جنگ کے خطرے کا سامنا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ کشیدگی کم اور زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔

امریکا کے نائب مندوب رابرٹ ووڈ نے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل ایران کے جارحانہ اقدامات کی مذمت کرے۔ فرانس کے مندوب نے ایران اور اس کے اتحادیوں سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے سے گریز کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا کہ ’آئندہ چند دنوں میں امریکا دیگر ممالک کے ساتھ مشاورت کے بعد ایران کو اقوام متحدہ میں جوابدہ بنانے کے لیے مزید اقدامات کرے گا‘۔

ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تو ایران مناسب ردعمل کا حق استعمال کرے گا۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاد اردان نے اجلاس میں ایران پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

چین کے سفیر ڈائی بنگ نے شام میں ایران کے قونصل خانے پر پچھلے حملے کو ’شیطانی‘ قرار دیا۔ چین نے اسرائیل پر ایران کے حملے پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا اور تمام فریقوں سے ’سکون اور تحمل‘ کا مطالبہ کیا۔ چین نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ وہاں انسانی تباہی ناقابل قبول ہے۔

چین کے ساتھ ساتھ روس نے بھی اسرائیل کی حمایت کرنے اور ایرانی قونصل خانے پر حملے کی مذمت نہ کرنے پر امریکا کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اسرائیل اقوام متحدہ سے کہا ہےکہ  ایران کی جانب سے اس کی سرزمین پر کیے گئے حملوں پر تہران کو سزا ملنی چاہیے۔ اسرائیل نے ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد اسرائیل نے سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اتوار کو ہونے والے اجلاس میں اسرائیل اور ایران کے سفیروں نے ایک دوسرے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاد اردان نے کہا کہ ایران ریڈ لائن عبور کر چکا ہے۔ لہذٰا اسے کڑی سزا ملنی چاہیے۔ ایران پر مزید پابندیوں کے ساتھ ساتھ پاسدرانِ انقلاب کو دہشت گرد گروپ قرار دیا جائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم کئی برسوں سے ایران کی سرگرمیوں سے متعلق عالمی برادری کو خبر دار کر رہے تھے، لیکن کسی نے ہماری نہیں سنی۔ اب ایران کے چہرے سے نقاب اُتر گیا ہے اور اب عالمی برادری کو ضرب لگانے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ایران نے اسرائیل کی جانب سینکڑوں ڈرونز اور میزائل داغے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے زیادہ تر میزائل اور ڈرونز راستے میں ہی تباہ کر دیے گئے۔