حکومت کو ایکس بندش پر رپورٹ جمع کرانے کا حکم

  • بدھ 17 / اپریل / 2024

سندھ ہائی کورٹ نے ایک ہفتے میں ایکس کی بندش سے متعلق جواب جمع کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ایکس اور انٹرنیٹ کی بندش کے خلاف درخواست کی سماعت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ عقیل احمد عباسی اور جسٹس عبدالمبین لاکھو نے کی۔

درخواست گزار جبران ناصر کے وکیل عبدالمعز جعفری ایڈووکیٹ نے کہا کہ وزارت داخلہ نے تسلیم کرلیا ہے کہ ایکس کی بندش کوئی وجوہات نہیں بتائی گئیں جو قانونی شرط ہے۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ کس وجہ سے ایکس بند کیا گیا ہے۔  ایڈیشنل اٹارنی ضیا مخدوم ایڈووکیٹ نے ایکس کی بندش سے متعلق وزارت داخلہ کا نوٹیفکیشن پڑھ کر سنادیا۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کہیں نہیں ہے کہ حساس اداروں کی رپورٹس پر وزارت داخلہ کارروائی کرے۔ کچھ لوگ سوچ رہے ہیں جو کام وہ کررہے ہیں وہ ٹھیک ہے۔ اتنے طاقتور ہیں کہ ملک چلارہے ہیں مگر چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بند کرنے سے کیا مل رہا ہے۔ پوری دنیا ہم پر ہنستی ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بادی النظر میں ایکس پر پابندی کا کوئی جواز پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے ایک ہفتے میں پی ٹی اے کو ایکس کی بندش کی معقول وجہ بیان کرتے ہوئے جواب جمع کروانے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے حکم دیا کہ 20 مارچ کوعدالت میں جمع کرائے گئے جواب کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے سماعت 9 مئی تک ملتوی کردی۔

دوسری طرف وزارت داخلہ نے ایکس کی بندش کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایکس کی بندش کا فیصلہ قومی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔ وزارت داخلہ نے استدعا کی ہے کہ درخواست گزار کا کوئی بنیادی حق سلب نہیں ہوا۔ درخواست کو ابتدائی مرحلے میں ہی خارج کیا جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایکس کی جانب سے پلیٹ فارم کے غلط استعمال سے متعلق حکومت پاکستان کے احکامات کی پاسداری نہیں کی گئی۔ حکومت پاکستان کے احکامات کی پاسداری نہ ہونے پر ایکس پر پابندی لگانا ضروری تھا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ نے ایکس سے چیف جسٹس کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے اکاؤنٹس پر پابندی کی درخواست کی۔

رپورٹ کے مطابق حکومت کے پاس ایکس کی عارضی بندش کے علاوہ کوئی اور راستہ موجود نہیں۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی درخواست پر وزارت داخلہ نے 17 فروری 2024 کو ایکس کی بندش کے احکامات جاری کیے۔ ایکس کی بندش کا فیصلہ قومی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا، شدت پسندانہ نظریات اور جھوٹی معلومات کی ترسیل کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔

وزارت داخلہ نے رپورٹ میں کہا کہ چند شر پسند عناصر کی جانب سے امن و امان کو نقصان پہنچانے، عدم استحکام کو فروغ دینے کے لیے ایکس کو بطور آلہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایکس کی بندش کا مقصد آزادی اظہار رائے یا معلومات تک رسائی پر قدغن لگانا نہیں ہے۔

اس دوران پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سندھ ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ قابلِ اعتراض مواد شائع کرنے پر 12 لاکھ 50 ہزار سے زائد ویب ایڈریس (یو آر ایلز) کو بلاک کردیا گیا ہے۔ پی ٹی اے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ ہونے والے ’قابلِ اعتراض، غیراخلاقی اور غیر قانونی‘ مواد کے خلاف درخواست میں اپنا جواب عدالت کو جمع کروایا۔