ایران اسرائیل آویزش کا انجام کیا ہو گا؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 18 / اپریل / 2024
اس وقت عالمی میڈیا یا سیاست میں اسرائیل ایران چپقلش یا آویزش پوری طرح چھائی ہوئی ہے جس کا آغاز فروری 1979 میں خمینی انقلاب کے ساتھ ہی ہوگیا تھا۔
کیونکہ ماقبل شاہ ایران کے دور میں عربوں کی اسرائیل کے خلاف جس قدر مخالفت تھی، شاہ کی اسی قدر اسرائیل سے دوستی تھی۔ یہ تعلقات سفارتی، تجارتی اور تہذیبی حوالوں سے بڑھ کر عسکری بھی تھے۔ پھر وقت ایسے بدلا کہ جس ریشو سے عربوں کی اسرائیل کے خلاف دشمنی و منافرت ختم ہوتی چلی گئی اسی قدر ایرانی ولایت فقیہہ کی مخاصمت بڑھتی چلی گئی، جس کا عملی مظاہرہ وہ اپنی مضبوط پراکسیوں لبنانی حزب اللہ، غزہ میں حماس اور یمنی حوثی باغیوں کے ذریعے کرتا چلا آرہا ہے۔
شیعہ مقدس عقائد کے پس منظر میں شامی علوی قیادت حافظ الاسد اور مابعد بشارالاسد کے ساتھ بھی ان کے گہرے مراسم کوئی سربستہ راز نہیں ہیں۔ داعش کا ظہور بھی اسی پس منظر میں ہوا۔ عالمی سیاست کا دلچسپ پہلو
یہ ہے کہ بڑے تنازع کے باوجود اسرائیل اور عرب دونوں امریکی کیمپ میں نہ صرف یہ کہ گردانے جاتے ہیں بلکہ فی الواقع موجود ہیں۔ جبکہ امام خمینی کے اسلامی انقلاب کا روزِ اول سے بنیادی سلوگن یا دین ایمان ہی ”مرگ برامریکا“ کا بیانیہ رہا ہے جس کا آغاز انقلاب بپا ہوتے ہی امریکی سفارتکاروں کو یرغمالی بناتے ہوئے کردیا گیا تھا۔ آیت اللہ خمینی کے عزائم تو یہ تھے کہ وہ اپنے اسلامی انقلاب کو دیگر مسلم و عرب ممالک میں بھی برآمد کریں گے اور انہوں نے اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں رکھا تھا۔ مگر عراقی صدر صدام حسین کی قیادت میں عرب و عجم کی جو خوفناک طویل جنگ برپا ہوئی جس میں ہر دو اطراف لاکھوں مسلمان لقمۂ اجل بنادیے گئے ان کڑوے یا زہریلے گھونٹوں نے ایرانی انقلابیوں کے عزائم خاک میں ملادیے۔ امریکی اثر و رسوخ کی برکت سے جس طرح بشمول
پی ایل او اسرائیل کے قریب ترین عرب ہمسائے جمہوریہ مصر اور اردن، اسرائیل کو تسلیم کرچکے تھے۔ اسی طرح مراکش، سوڈان ، بحرین اور متحدہ عرب امارات جیسے کئی عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرلیے۔ اب سب سے اہم اقدام سعودی عرب کا تھا جس کی عرب اور مسلم ورلڈ میں قیادت و اہمیت سب پر واضح ہے۔
مڈل ایسٹ کی سیاست پر نظر رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ ادراک کرسکتا ہے کہ یو اے ای، سعودی مشاورت و معاونت کے بغیر اس حد تک نہیں جاسکتا تھا۔ سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے خود تسلیم کیا کہ وہ کچھ شرائط کے ساتھ اسرائیل سے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرنے جارہے تھے۔ دہلی کی جی20 کانفرنس کے بعد انڈیا اور امارات کو ملاتے ہوئے ریاض سے براستہ اردن حیفہ کی اسرائیلی بندرگاہ تک زمینی کاریڈور کا پلان بھی طے پاچکا تھا۔ عین اس مرحلے پر سب کچھ سبوتاژ کرنے کے لیے 7اکتوبر 2023 کو ایرانی پراکسی حماس کے ذریعے اسرائیل کے اندر گھس کر زمینی کے ساتھ راکٹوں اور میزائلوں کے ذریعے فضائی حملہ کروادیا گیا جس سے 11سو کے قریب اسرائیلی شہری اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور دوسو کے قریب یرغمالی بنالیے گئے۔
اس کے ردِ عمل میں اسرائیل نے پوری غزہ کی پٹی بالخصوص رفح کا تورا بورا بنا ڈالا۔ بلاشبہ ایرانی پراکسی حماس نے جو وحشیانہ حرکت کی، یہ دہشت گردی کی بدترین مثال تھی۔ لیکن جواباً اسرائیل نے جو ردِعمل دیا وہ اتنا شدید تھا کہ اسرائیل کے ہمدرد بھی اسے جواز فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ اسرائیل کا یہ ردِ عمل دیگر ایرانی پراکسیوں سے ہوتے ہوئے یکم اپریل کو دمشق میں ایرانی سفارتخانے تک پہنچا جس میں سات ہلاکتیں ہوئیں۔ جس کے بدلے میں ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کا حالیہ حملہ ہوا ہے۔ اس ایرانی حملے کی مذمت اگرچہ بشمول امریکا و یورپ دنیا کے دیگر بہت سے ممالک بھی کررہے ہیں لیکن اس حملے کی شدت یا سنگینی کو جو چیز کمتر کرتی ہے وہ کسی بھی انسانی ہلاکت کا نہ ہونا ہے۔
اسرائیل کا جدید ترین ایروائیرئیل ڈیفنس لیزر یا آئرن ڈوم سسٹم اتنا مضبوط ثابت ہوا ہے جو اگرچہ مہنگا ضرور ہے اور بتایا جارہا ہے کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کا خرچہ اٹھا ہے لیکن امریکا اور یہود کے لیے یہ کوئی اتنی بھاری رقم بھی نہیں ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ تین سو ڈرونز اور میزائلوں سے بچاؤ میں امریکا اور کچھ یورپی ممالک نے ہی اسرائیل کی معاونت نہیں کی ہے، عرب اسلامی ملک اردن اور خاندان بنو ہاشم کے چشم و چراغ شاہ عبداللہ دوئم نے بھی اسرائیل کو پورا دفاع و تحفظ فراہم کرتے ہوئے ان میزائلوں کو مارگرایا ہے۔ عرب ممالک میں سوائے شام کے کسی نے بھی اس ایرانی حرکت یا اقدام کی حمایت نہیں کی ہے۔
خود ایرانیوں نے بھی کہا ہے کہ معاملے کو یہیں پر ختم سمجھا جائے۔ ایک لحاظ سے انہوں نے اشک شوئی یا فیس سیونگ کی ہے۔ اسی لیے انہوں نے بشمول امریکا عرب ہمسسایوں کو بھی پیشگی اپنی کارروائی کی اطلاع دے دی تھی کیونکہ اس کا مقصد خود کو کسی جنگ میں جھونکنا نہیں تھا۔ البتہ یہ دھمکی ضرور دی ہے کہ اگر دوبارہ ہم پر حملہ ہوا تو اس سے سخت جواب آئے گا۔
روسی صدر پوٹن نے بھی کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں نئے تصادم کے اثرات تباہ کن ہوں گے اس لیے فریقین برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔ امریکی صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو کو مشورہ دیا ہے کہ فی الوقت وہ کسی بھی جوابی کارروائی سے باز رہیں۔ اقوام متحدہ اور یورپین ممالک نے اگرچہ ایرانی حملے کی شدید مذمت کی ہے مگر کسی نے بھی جوابی کارروائی یا تصادم بھڑکانے کی حمایت نہیں کی۔ حتیٰ کہ اسرائیلی رائے عامہ بھی کسی بڑی جنگ یا کارروائی کی حمایت میں نہیں ہے۔
اس لیے اب بڑا سوالیہ نشان یہ ہے کہ کیا اسرائیل اس کا کوئی ردِعمل دکھائے گا اور ممکنہ ردِ عمل ایرانی جوہری پروگرام کو ملیا میٹ کرنے کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے؟ (جاری ہے)