جماعت اسلامی کی نومنتخب امارت
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 19 / اپریل / 2024
جماعت اسلامی ہمارے ملک کی ایک منظم سیاسی و مذہبی تنظیم قرار دی جاتی ہے جس کی بنیاد مولانا مودودی نے 26 اگست 1941 کو یونائیٹڈ انڈیا کے اسی شہر لاہور میں رکھی اور وہ اس کے پہلے امیر چنے گئے۔
پارٹیشن کے حوالے سے بھی جماعت اور مولانا صاحب کا اپنا ایک مخصوص نقطہ نظر تھا جو اگر پوری طرح کانگرس کے حق میں نہیں تھا تو لیگ سے بھی مطابقت نہیں رکھتا تھا اور مولانا کھلے بندوں یہ فرماتے تھے کہ لیگ کے ادنیٰ کارکن سے لے کر اس کے قائد تک کے کردار میں خرد بین کے ذریعے بھی تلاش کریں تو اسلام کی کوئی رمق یا چھینٹ تک دکھائی نہیں دے گی۔ ایسی صورت میں جو ملک بنے گا وہ مسلمانوں کی کافرانہ ریاست ہوگی۔ انہوں نے اس کے لئے ’’ناپاکستان‘‘ کی اصطلاح بھی استعمال فرمائی تھی۔ مولانا کے یہ خدشات قطعی لایعنی و بے بنیاد نہ تھے۔ خونریز ی کا طوفان برپا کرتے ہوئے جب پارٹیشن ہوگئی تو حضرت مولانا نے اس مملکت کو کلمہ شریف پڑھانے کے لئے ’’شوکت اسلام‘‘ کا پرچم تھام لیا۔
جماعت اسلامی اگرچہ بظاہر جمہوریت کی دعویدار و علمبردار رہی ہے لیکن عوامی اعتماد کے حصول میں ہمیشہ بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ابتدائی برسوں میں ہی جماعت کے اندر ایک بحران اس ایشو پر پیدا ہوگیا تھا کہ جماعت کو انتخابی سیاست کرنی چاہیے یا محض اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے دعوتی و تبلیغی مشن اپنانا چاہیے۔ اس تنازعے میں جماعت کے بڑے بڑے اکابرین جیسے مولانا امین الدین اصلاحی اور ڈاکٹر اسرار احمد جیسی شخصیات اس سے الگ ہوگئی تھیں۔ ’تعبیر کی غلطی‘ کے ایشو پر مولانا وحید الدین خان صاحب نے بھی اپنی راہ الگ فرما لی تھی۔
قیام پاکستان کے بعد 1970 میں منعقد ہونے والے پہلے قومی انتخابات میں جماعت نے اپنے بانی کی قیادت میں سرگرم بلکہ جان توڑ حصہ لیا اور اپنے تئیں پورے ملک میں صالحین نمائندے کھڑے کئے۔ حالانکہ مولانا صاحب نے اسلام کی جو تعبیر فرمائی تھی اس کی رو سے کسی کا خود نمائندگی کے لئے کھڑے ہونا خلاف اسلام قرار دیا گیا تھا۔ اپنی تمام تر محنت، جدوجہد، سرمائے اور ماورائی تعاون کے باوجود جماعت محض چار سیٹیں حاصل کرپائی۔ اس شکست کے سے دلبرداشتہ ہوکر اپنی صحت کا جواز پیش کرتے ہوئے 1972 میں مولانا موودی جماعت کی امارت سے دستبردار ہوگئے اور اپنے جانشین میاں طفیل محمد کو 72 میں جماعت کا دوسرا امیر منتخب کروادیا گیا۔
میاں صاحب 1987 تک اپنی اس ذمہ داری پر فائز رہے اور پھر اپنی صحت کی خرابی کا جواز بیان کرتے ہوئے اپنی جماعت کی شوریٰ و قیادت سے گزارش کی کہ ارکان جماعت کی رہنمائی کے لئے جو تین نام بھیجے جاتے ہیں اب ان کا نام اس فہرست سے نکال دیا جائے۔ یوں میاں طفیل صاحب کے بعد قاضی حسین احمد جماعت کے تیسرے اور پھر سید منور حسن جماعت کے چوتھے، سراج الحق پانچویں اور اب حافظ نعیم الرحمٰن چھٹے امیر چنے گئے ہیں۔ جن کی تقریب حلف برداری پوری شان وشوکت کے ساتھ چند روز قبل منصورہ میں منعقد ہوئی ہے۔ جماعت
جماعت اسلامی اگرچہ جمہوریت کی نام لیوا ہے لیکن اس کی جمہوریت یا شورائیت ایرانی ولایت فقیہہ یا طالبانی امارت اسلامی سے ملتی جلتی نہ بھی کہی جائے تو بھی بڑی حد تک کنٹرولڈ ضرور قرار پائے گی۔ جماعت کا عام کارکن اس کا ووٹر نہیں بن سکتا، صرف اراکین جماعت ہی اس کے حقدار ہیں جو مختلف مدارج سے گزرتے ہوئے ایک پراسیس کے بعد رکن جماعت بنائے جاتے ہیں۔
مولانا مودودی اور میاں طفیل محمد کے ادوار میں یہ پراسیس زیادہ سخت تھا جسے قاضی حسین احمد نے خاصا ملائم کرڈالا اور بوجوہ میاں طفیل محمد فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے جماعت خالص دودھ جیسی شفاف بنائی تھی جسے قاضی حسین نے کچی لسی بنا دیا ہے۔ شاید اسی لئے جماعتی صحافت سے وابستہ کئی لوگ قاضی حسین احمد کو جماعت کا گورباچوف قرار دیا کرتے تھے جنہیں اس ملک میں اپنی سیاسی قیادت و لیڈری کے حصول کی شدید ترین تمنا و حسرت رہی۔ مگر مختلف النوع پینترے بدلنے اور طاقتوروں سے خصوصی تعاون و تعلقات کے باوجود وہ کامیابی سے اتنے ہی دور رہے جتنے ان سے پہلے کے امرا بلکہ کئی حوالوں سے ان کے دور میں جماعت تنزلی و زوال کا شکار ہوتی چلی گئی۔
قاضی حسین احمد کے بعد سید منور حسن کو اس اماراتی ذمہ داری پر اس امید کے ساتھ بٹھایا گیا کہ وہ نہ صرف یہ کہ اس کا کھویا ہوا اخلاقی معیار، وقاراور راسخ کردار واپس لوٹائیں گے بلکہ اسلامی جمعیت طلبا کے نوجوانوں اور صالحین کراچی کی عوامی پذیرائی سے جماعت کو پورے ملک میں پاپولر اسلامی تحریک بنائیں گے۔ سید منور حسن کے متعلق بہت کچھ لکھا بولا گیا۔ اس درویش نے بھی ان کے انٹرویوز کئے وہ ایک اپنی ہی وضع قطع کے شدت پسند متقی و پرہیز گار مرد مومن تھے جنہیں عصری و زمانی تقاضوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ سید منور حسن کو جس طرح بوجوہ محض ایک ٹرم کے بعد جماعت کی قیادت سے دستبردار ہونا پڑا اس کی اپنی ایک الگ داستان ہے ۔
ان کے بعد ایک سادہ دل سادہ لوح پختون سراج الحق کو امیر جماعت چنا گیا۔ اس امید کے ساتھ کہ کراچی کی طرح پختون بیلٹ میں بھی جماعت کا اثر و رسوخ آگے بڑھے اور پھلے پھولےگا ۔ انہوں نے پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کے ساتھ اچھی خاصی محبت و دوستی کی پینگیں بڑھائیں مگر اٹھارہ کے بعد چوبیس کے الیکشن میں بھی جماعت کوئی کارکردگی دکھانے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔ ردعمل میں انہوں نے امارت سے استعفیٰ دے دیا جسے اگرچہ اس وقت تو واپس کروا دیا گیا مگر اب اراکین جماعت کی رہنمائی کے لئے شوریٰ نے جو تین نام بھیجے تھے محترم لیاقت بلوچ اور حافظ نعیم الرحمٰن کے ساتھ تیسرا ان کا نام بھی موجود تھا مگر لگتا ہے کہ پشاور پر کراچی بھاری ثابت ہوا۔
درویش کی دعائیں تو لاہوری بلوچ کی لیاقت و قابلیت کے لئے تھیں اور وہ اس کے اہل و حقدار بھی تھے مگرحال چھوڑ شاید مستقبل قریب میں بھی جماعتی قیادت لاہور کی طرف آتی نہیں دکھتی۔ اور جماعت اپنی ماضی کی اہمیت بھی بڑی حد تک کھو چکی ہے جس کی بحالی نو منتخب امیر کیلیے اصل چیلنج ہو گا جس کا انہوں نے اپنے اولین خطاب میں عندیہ یا داعیہ بھی ظاہر کیا ہے۔