قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 22 نشستوں پرضمنی انتخابات کل ہوں گے

  • ہفتہ 20 / اپریل / 2024

قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 22 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔ 2024 کے عام انتخابات کے بعد پہلے بڑے ضمنی انتخابات کا انعقاد 21 اپریل بروز اتوار کو ہوگا۔

الیکشن کمیشن کے ایک سینئر افسر نے ڈان کو بتایا کہ انتخابی مہم 19 اور 20 اپریل کی درمیانی شب ختم ہو گئی۔ قومی اسمبلی کی 5 خالی نشستوں، پنجاب اسمبلی کی 12، خیبرپختونخوا اور بلوچستان اسمبلیوں کی 2، 2 نشستوں جبکہ سندھ اسمبلی کی ایک نشست پر ضمنی انتخابات ہوں گے۔

اس کے علاوہ پی بی 50 (قلعہ عبداللہ) کے تمام حلقوں میں بھی اسی روز دوبارہ پولنگ ہوگی۔ این اے 8 باجوڑ اور پی کے 22 باجوڑ کے انتخابات امیدوار ریحان زیب خان کے قتل کے باعث ملتوی کردیے گئے تھے۔ این اے 44 ڈیرہ اسمعٰیل خان کے حلقے سے علی امین گنڈا پور کامیاب ہوئے لیکن انہوں نے قومی اسمبلی کی یہ نشست چھوڑ دی اور وہ اپنی صوبائی اسمبلی کی نشست برقرار رکھ کرکے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ بنے۔

لاہور کا این اے 119 سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کامیاب ہوئی تھیں جنہوں نے پی پی 159 سے ممبر پنجاب اسمبلی بننے کو ترجیح دی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کی 2 اور صوبائی اسمبلی کی 2 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے این اے 132 قصور اور لاہور کی پی پی 158 اور پی پی 164 کی نشستیں چھوڑ دیں اور این اے 123 لاہور کی نشست سے قومی اسمبلی کے رکن بنے۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی دو نشستیں جیتی تھیں۔ انہوں نے این اے 194 لاڑکانہ کی نشست اپنے پاس رکھی اور این اے 196 قمبر شہداد کوٹ کی نشست خالی کردی۔ آصف علی زرداری نے صدرِمملکت منتخب ہونے کے لیے این اے 207 شہید بےنظیر آباد کی نشست چھوڑ دی تھی مگر آصف زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو پہلے ہی اپنے والد کی جانب سے چھوڑی گئی نشست سے بلامقابلہ رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوچکی ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشست پی کے 91 کوہاٹ میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما کے انتقال کے بعد پولنگ ملتوی کردی گئی تھی۔ سندھ اسمبلی کی ایک نشست پی ایس 80 دادو سے الیکشن جیتنے والے عبدالعزیز جونیجو کے انتقال کے بعد یہ نشست بھی خالی ہوگئی تھی۔

بلوچستان میں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے این اے 256 کی نشست برقرار رکھتے ہوئے پی بی 20 خضدار کی نشست چھوڑ دی۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما غلام عباس نے این اے 53 راولپنڈی کی نشست برقرار رکھی اور پی پی 22 کی نشست چھوڑ دی۔ اسی طرح مسلم لیگ (ق) کے چوہدری سالک حسین نے این سے 64 کی نشست برقرار رکھی اور پی پی 32 گجرات سے دستبردار ہوگئے۔