پاکستان کو میزائل بنانے میں مدددینے والی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں

  • ہفتہ 20 / اپریل / 2024

امریکہ نے چین کی تین اور بیلا روس کی ایک کمپنی پر پاکستان کے میزائل پروگرام کی تیاری اور ترسیل میں تعاون کرنے کے الزام میں پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی محمکہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ یہ چار کمپنیاں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ان کی ترسیل میں ملوث رہی ہیں۔ امریکہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے اور اس کے لیے وہ ان پروکیورمنٹ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔

بیان کے مطابق ان کمپنیوں میں سے تین چین میں جبکہ ایک بیلاروس میں واقع ہے اور انہوں نے پاکستان کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سمیت بیلسٹک میزائل بنانے میں معاونت فراہم کی ہے۔ ان کمپنیوں میں منسک وہیل ٹریکٹر پلانٹ، شیان لونگڈ ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، تیانجن کری ایٹِو انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی لمیٹڈ، گرینپیکٹ کمپنی لیمیٹڈ شامل ہیں جو ایسی سرگرمیوں اور لین دین میں ملوث رہی ہیں۔

بیان کے مطابق ’ان کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ یا ان کی ترسیل کے لیے پاکستان کو مواد فراہم کرنے میں تعاون کیا ہے جس سے پاکستان کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری، حصول اور نقل و حمل کی کوششوں میں مدد ملی ہے‘۔ امریکی بیان کے مطابق ان کمپنیوں نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام سمیت اس کے بیلسٹک میزائل کی تیاری میں مددگار اشیا فراہم کی ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اکتوبر 2023 میں بھی امریکہ نے پاکستان کو بیلسٹک میزائل پروگرام کے پرزہ جات اور سامان فراہم کرنے کے الزام میں چین کی تین کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے گزشتہ سال 20 اکتوبر کو جاری بیان میں جن کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، ان میں جنرل ٹیکنالوجی لمیٹڈ، بیجنگ لو لو ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور چانگ زو یوٹیک کمپوزٹ کمپنی لمیٹڈ شامل تھیں۔

دسمبر 2021 میں بھی امریکہ کا پاکستانی کمپنیوں کے حوالے سے ایک ایسا فیصلہ سامنے آ چکا ہے جس میں امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام میں مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے کے الزام میں عائد کی تھیں۔

دوسری جانب پاکستان ماضی میں ایسے الزامات پر دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل مقامی طور پر اپنی صلاحیت و مہارت سے تیار کیے ہیں جن میں غوری اور شاہین نسل کے میزائل شامل ہیں۔

اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ نے ایک فیکٹ شیٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کمپنیوں کے امریکہ میں موجود یا امریکی افراد کی تحویل میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔