اور کتنے دریا عبور کرنے ہیں!
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 20 / اپریل / 2024
کچھ اشعار اور ضرب الامثال دہائیوں بلکہ صدیوں تک ہمارے معاشرے کے عکاس رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک شعر منیر نیازی کا بھی ہے جو ضرب المثل کی طرح ہمارے ساتھ ساتھ زندہ جاوید ہے:
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
کالم لکھنا شروع کیا ہی تھا کہ ایک دوست کا فون آ گیا۔ سوموار کو جو مہمان آ رہے تھے انہوں نے پروگرام کینسل کر دیا ہے۔ ہم نے حیرت سے پوچھا، ہائیں! وہ کیوں؟
لگتا ہے آپ نے نیوز نہیں سنیں
جی نہیں۔۔۔ کیا ہوا؟
آج کراچی میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا، اس میں غیر ملکی ورکرز کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر بڑے عالمی میڈیا نیٹ ورک پر موجود ہے۔ اسی کے پیش نظر سپین سے آنے والے مہمانوں نے عین آخری وقت اپنا پروگرام منسوخ کر دیا۔
ہمارے دوست کی آواز میں مایوسی اور بے بسی صاف محسوس ہورہی تھی۔ اسپین سے آنے والے اس بڑے کسٹمر کے لیے انہوں نے کئی ہفتے تیاری کی تھی۔ وہ توقع کر رہے تھے کہ اس وزٹ کے بعد کافی بڑا ایکسپورٹ آرڈر حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن کراچی میں ہوئے ایک واقعہ نے ان کے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ ایک ہمارے دوست ہی کیا ایکسپورٹ انڈسٹری کو ایک بار ملکی امیج کا دریا عبور کرنے کا مرحلہ پھر سے درپیش آ گیا۔
تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں رپورٹ ہوئی: پولیس کے مطابق دھماکے میں جاپانی شہریوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں چار غیر ملکی سوار تھے، جو محفوظ رہے جبکہ دونوں حملہ آور مارے گئے۔ لانڈھی مانسہرہ کالونی کے قریب خود کش حملہ آور نے خود کو گاڑی کے قریب دھماکے سے اڑا دیا جبکہ دھماکے کے وقت فائرنگ بھی ہوئی جس میں دو سیکیورٹی گارڈ بھی زخمی ہوئے۔ ادھر واقعہ ہوا ادھر دنیا بھر کے میڈیا کی ہیڈ لائن کی زینت بن گیا۔
گلوبلائزیشن کے اس دور میں امپورٹ ایکسپورٹ کے کاروبار اور سرمایہ کاری کے دھندے میں سب سے پہلا سوال کسی بھی ملک کی گورننس اور امن و امان سے متعلق ہوتا ہے۔ پاکستان کا عکس میڈیا میں کیا ہے، گزشتہ دو روز کی چند ہیڈ لائینز اسٹوریز کی زبانی کچھ یوں ہے:
وفاقی وزیر داخلہ نے کچے کے علاقے میں مشترکہ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان کی پولیس کو نئی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے لیے تفصیلی مشاورت و غورکیا گیا ۔ چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے بارے میں کیے گئے اقدامات کا بغور جائزہ لیا گیا۔ وضع کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی اجلاس میں ایرانی صدر کے دورے کے دوران اسلام آباد ، کراچی اور لاہور میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔
گزشتہ دو ماہ سے ٹویٹر جس کا نیا نام ایکس ہے کا سوشل پلیٹ فارم غیر فعال ہے ۔ ٹویٹر پر کاروبار سے جڑے ہزاروں لاکھوں لوگوں کے ساتھ جو بیتی سو بیتی لیکن روز مرہ کی خبریں اور آپسی رابطوں کے لیے یہ سوشل پلیٹ فارم غیر فعال ہونے سے بے تحاشہ جھوٹی خبریں چلیں اور پروپیگنڈا بھی ہوا ۔ معاملہ عدالت میں پہنچا تو ایف ائی اے کا جواب کچھ یوں تھا: چیف جسٹس کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے اکاؤنٹس کو بین کرنے کی درخواست کو ایکس کے حکام نے نظر انداز کیا۔ ان کا عدم تعاون ایکس کے خلاف ریگولیٹری اقدامات بشمول عارضی بندش کا جواز بنا ۔ حکومت کے پاس ایکس کی عارضی بندش کے علاوہ کوئی اور راستہ موجود نہیں۔ یہ اقدام قومی سلامتی اور امن و عامہ کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔ شدت پسندانہ نظریات اور جھوٹی معلومات کی تشہیر کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ چند شر پسند عناصر کی جانب سے عدم استحکام کو فروغ دینے کے لیے ایکس کو بطور آلہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایکس کی بندش کا مقصد آزادی اظہار پر قدغن لگانا نہیں بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا قانون کے مطابق ذمہ دارانہ استعمال کی کوشش ہے۔
انرجی کی قیمتیں اس وقت مہنگائی کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہیں اور عوام میں شدید بے چینی اور غم و غصے کا باعث بھی۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے بقول معیشت کی آدھی سے زائد خرابی بجلی شعبے کی نااہلی ہے۔ ان کے بقول بجلی کے شعبے میں نقصانات سب سے بڑا چیلنج ہیں۔ کروڑوں روپے کی اوور بلنگ کی جا رہی ہے جبکہ اربوں سے زائد مالیت کی بجلی چوری ہو جاتی ہے ۔ معیشت کی آدھی سے زائد خرابی بجلی کے شعبے کی نااہلی کی وجہ سے ہے۔ ڈسکوز میں بیٹھے افسران اور ملازمین بھی شعبے کی خرابی کا باعث ہیں۔ ڈسکوز کے 20 فیصد ملازمین بجلی چوری میں ملوث ہیں۔ بقول وزیر موصوف ملک ان چوروں لٹیروں کا مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔
پاکستان کے وزیر خزانہ اپنے وفد کے ہمراہ اس وقت واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ ایک طویل مدت قرض پروگرام کے لیے مصروف ہیں۔ اس دوران ایک اور خبر ان کے سامنے نئے دریا کی صورت یوں نمودار ہوئی: آئی ایم ایف نے پاکستان کو سنگین تنازعات کا سامنا کرنے والے چھ ممالک میں شامل کر لیا ۔ دیگر ممالک میں عراق، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن ہیں۔ مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے خطے پر اپنی رپورٹ میں آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان کو 2024 کے آغاز میں تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کو ان ممالک کے ساتھ جوڑنا جن کو خانہ جنگی سمیت سنگین تنازعات کا سامنا ہے، ملک کے عالمی امیج کے لیے اچھا نہیں ۔ ظاہر ہے یہ سرمایہ کاری کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی ملک کو جنگ سے متعلق کم از کم 25 ہلاکتیں، مسلح تصادم کے مقام اور واقعات کے اعداد و شمار کے ذریعے ریکارڈ کی گئی ہوں تو اسے تنازع کا شکار سمجھا جاتا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سول اور مسلح افواج پر دہشت گرد حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جن میں چینی شہریوں پر مہلک حملہ بھی شامل ہے جس کے نتیجے میں پانچ چینی شہری ہلاک ہوئے۔۔
یہ تمام خبریں وہ ہیں جنہیں آپ میڈیا سے جان چکے ہیں۔ ایک طرف ملک کو امن و امان، عالمی طور پر اپنے امیج اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام ، گورننس، کرپشن اور مایوسی میں اضافہ نئی حدوں کو چھو رہا ہے۔ عملاً نئے الیکشن اور حکومت کے قیام کے بعد استحکام کو پاؤں رکھنے کی جگہ ملنی چاہیے تھی لیکن بدقسمتی سے منظر مختلف نظر آرہا ہے۔
منیر نیازی کا شعر ہر میدان میں مستقبل کے چیلنجز کی طرف اشارہ کرتا نظر آ رہا ہے۔ ہماری حکمران اشرافیہ اپنے پرانے نسخوں کی بجائے کچھ نئے اقدامات کا تردد کر سکے تو شاید اس دلدل سے نکلنے کی کوئی صورت بنے۔ اگر وہی پرانے انداز و طوار کے ساتھ معاملات جاری رکھے گئے تو ایسی خبروں کا سلسلہ رکتا نظر نہیں آ رہا۔۔