مشرق وسطیٰ سے ترسیلات زر میں رواں مالی سال 14 فیصد کمی ریکارڈ
مشرق وسطیٰ سے آنے والی ترسیلات زر میں رواں مالی سال میں 2022 کے مقابلے میں 14 فیصد کمی ہوئی ہے۔
مالی سال 2024 کے نو ماہ میں ترسیلات زر 11 اعشاریہ 25 ارب ڈالرز رہیں۔ جو 2022 میں اسی عرصے کے دوران 12 اعشایہ 79 ارب ڈالرز تھیں۔ سعودی عرب سے ترسیلات زر 5 فیصد کمی سے 5 ارب ڈالرز جبکہ متحدہ عرب امارات سے ترسیلات زر 14 اعشاریہ 6 فیصد کی کمی سے 3 اعشایہ 66 ارب ڈالرز تک آگئیں۔ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک سے ترسیلات زر 15 فیصد کمی سے 2 اعشاریہ 26 ارب ڈالرز رہیں۔
اس دوران پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان نئے قرض پروگرام پر اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف نے 6 سے 8 ارب ڈالر کے نئے بیل آؤٹ پیکیج کے لیے پاکستان کی درخواست منظور کر لی ہے۔ آئی ایم ایف سے نیا قرض پروگرام تین سال سے زائد مدت کیلیے ہونے کا امکان ہے۔ مجوزہ بیل آؤٹ پیکیج میں توسیعی فنڈ کی سہولت اور کلائمیٹ فنانسنگ کیلیے فنڈنگ شامل ہیں۔ آئی ایم ایف وفد نئے قرض پروگرام پر مذاکرات کیلیے آئندہ ماہ کے دوران پاکستان پہنچے گا۔
وسری جانب واشنگٹن میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ترکیہ کے ٹی وی چینل ( ٹی آر ٹی ورلڈ ) کو انٹریو میں کہا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے بڑے اور طویل المدتی بیل آؤٹ پروگرام کا خواہاں ہے۔ آئی ایم ایف حکام کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ یہ پروگرام آئی ایم ایف کا نہیں بلکہ پاکستان کا پروگرام ہے جس کی حمایت، معاونت اور مالی اعانت آئی ایم ایف کر رہا ہے۔ بعض شعبے جن کو بڑے پیمانے پر ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت ہے۔ ان میں زراعت ، رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی کی تعمیرات ودیگر شعبے شامل ہیں۔