برآمدات دو گنا کرنے کی ضرورت ہے: وزیراعظم

  • بدھ 24 / اپریل / 2024

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں اپنی برآمدی صنعت کو مضبوط اور اگلے 5 سال میں برآمدات کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی میں کاروباری برداری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا آپ پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کے بعد نئی حکومت آئی ہے۔ سب صوبوں میں مختلف پارٹیوں کی حکومتیں ہیں۔ تاہم ہمیں اس سے غرض نہیں کہ کس کی حکومت کہاں ہے، ہمیں اس سے غرض ہونی چاہیے کہ ہمیں اپنی ذاتی پسند ناپسند سے بالاتر ہو کر ہم اکٹھے ہو جائیں۔ اپنی توانائیاں اکٹھی کریں اور سمجھیں کہ مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے حل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ سے بطور وزیراعظم نہیں بلکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر بات کررہا ہوں تاکہ میں آپ کے مشوروں سے اچھی پالیسیاں بنا سکیں اور پاکستان کے لیے دن رات محنت کریں۔ ہمیں ضرورت ہے کہ برآمدی صنعت کو مضبوط کریں اور تہیہ کریں کہ اگلے 5 سال میں برآمدات کو دگنا کریں گے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کریں، زراعت میں انقلاب لے کر آئیں اور مثبت پہلوؤں کو استعمال کرتے ہوئے اس ملک کو اقوام عالم میں اس کا جائز مقام دلائیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے۔ ہم چاہتے ہیں ہماری حقیقی صنعتی اور زرعی ترقی ہو۔  ہماری برآمدات دوگنی ہو جائیں۔ یہ عظیم ملک بہت قربانیوں سے بنا ہے اور اب تہیہ کریں کہ پاکستان کو بنانا ہے تو آپ کی بصیرت اور اجتماعی محنت سے یہ ضرور بنے گا۔

کراچی میں ملاقات کے دوران  تاجروں نے وزیراعظم شہباز شریف کو پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے بات چیت کرنے کی تجویز دی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق تاجروں نے وزیراعظم کو بھارت سمیت دیگر پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کی بھی تجویز دی۔

عارف حبیب گروپ کے سربراہ عارف حبیب نے کہا کہ آپ نے پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں سے ہاتھ ملایا۔ میں چاہتا ہوں آپ مزید ہاتھ ملائیں، ایک ہاتھ پڑوسی ملک بھارت سمیت دیگر ممالک سے ملائیں اور ایک ہاتھ اڈیالہ جیل کے باسیوں سے ملائیں۔ آپ نے اسٹاک مارکیٹ کو اوپر پہنچایا مگر بجلی کی قیمت بھی کم کریں۔

کراچی میں سندھ کابینہ کی صدارت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے ہمیں صوبوں کی ترقی و خوشحالی کے لیے وفاق میں گہرا تعاون اور گہرے تعلق کو پذیرائی دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ مل کر پاکستان کے مسائل کو حل کرسکیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جیسے غیر ملکی وفود آرہے ہیں تو آنے والے ہفتوں میں امید کی جاتی ہے کہ ایسے اور وفود آئیں گے سرمایہ کاری کے لیے۔ ضروری ہے کہ ہم میں یکسوئی ہو۔ میرا دورہ صوبہ سندھ کا مقصد ہے کہ پاکستانی عوام کے لیے مل کر کام کریں گے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔