ضمنی انتخابات میں ن لیگ کی کامیابی

سوائے سن ستر کے پاکستان میں اب تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ جس کی شفافیت پر انگلی نہ اٹھائی گئی ہو۔ یا اسے متنازع اور دھاندلی زدہ قرار نہ دیا گیا ہو۔

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ہر انتخاب میں کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ بے ضابطگیاں ضرور ہوتی ہیں لیکن یہ کہنا کہ ہر انتخاب میں منصوبہ بندی کے ساتھ منظم دھاندلی ہوتی ہے، درست نہیں۔ ہم پری پول رگنگ کی ٹرم ضرور استعمال کرسکتے ہیں کہ طاقتوروں نے جسے جتوانا ہوتا ہے اس کے لیے الیکشن سے قبل ایک طرح سے سازگار ماحول بنادیا جاتا ہے۔ اور جسے ہرانا مقصود ہوتا ہے اس کے لیے ماحول ناگوار کرتے ہوئے اتنی مشکلات پیدا کردی جاتی ہیں کہ نہ صرف وہ لیڈر اور پارٹی کڑھتے رہتے ہیں۔ بلکہ رائے عامہ کو بھی طریقے سلیقے سے ایک نوع کا اشارہ یا پیغام دے دیا جاتا ہے کہ اپنے حق میں بے وقوفی کرنے یا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے سے باز رہنا۔

اکثر اوقات عوام ان اشاروں کو سمجھ کر بالعموم ان کی مطابقت میں ہی ووٹ کاسٹ کرتے ہیں لیکن بعض اوقات یا بعض خطوں میں عوامی ریلا اس کے بالمقابل بھی بہہ نکلتا ہے۔ مشرقی پاکستان میں فاطمہ جناح کو ایوبی آمریت میں جو ووٹ پڑا یا مابعد ستر میں شیخ مجیب الرحمن کو جو وسیع تر عوامی ووٹ ملا وہ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ 77 اور 85 سے لے کر 18 اور 24 کے انتخابات تک ہر چناؤ کا ایسے مختلف تناظر میں جائزہ لیاجاسکتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ آخر الذکر دونوں انتخابات کے نتائج پوری طرح نہ سہی بڑی حد تک وہی برامد ہوئے ہیں جو طاقتور ایسٹیبلشمنٹ کو درکار تھے۔ لیکن کے پی میں پوری طرح اور پنجاب میں جزوی طور پر پی ٹی آئی کی حمایت میں جو عوامی لہر اٹھی یہ ایسٹیبلشمنٹ کی تمناؤں یا توقعات کے قطعی برعکس تھی۔ اگرچہ پی ٹی آئی اپنے قائد سابق کھلاڑی کے اناڑی پن اور غیر سیاسی اپروچ کے کارن عوامی ہمدردی کی اس لہر سے کماحقہ مستفید ہونے سے قاصر رہ گئی۔

ہمارے معروف سیاسی تجزیہ کاروں کے برعکس درویش کا یہ گمان یا اندازہ ہے کہ وقت کے ساتھ تیس مار خاں کی حمایت میں اٹھنے والی یہ لہر بجائے مزید اوپر جانے کے بتدریج اس کا گراف نیچے گرتا چلا جائے گا۔ اٹھارہ والا عروج دوبارہ دیکھنا اس کے لیے محض ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔ چوبیس میں اسے جو ووٹ ملا ہے وہ بھی مثبت کی بجائے اس لحاظ سے منفی ہے کہ اس میں کھلاڑی کی اپنی کارکردگی نہیں بلکہ مخالفین بالخصوص شہباز حکومت کی سولہ ماہ پر محیط حماقتوں کے باعث تھا ۔ درویش نے 8 فروری کے بعد یہ لکھا کہ اب پی ٹی آئی کارکنان کی امیدیں ٹوٹنے کے بعد جوں جوں مایوسی بڑھے گی یہ لوگ بددل ہوکر بیٹھتے چلے جائیں گے۔

21اپریل کے ضمنی انتخابات کی خود پی ٹی آئی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ جن حلقوں میں شہباز شریف، مریم نواز، احسن اقبال اور رانا تنویر حسین جیسے بڑے ناموں کی لیڈ برائے نام تھی وہاں ان کے متبادل نمائندوں کو اتنی بھاری لیڈز کیسے ملی ہیں؟ پی ٹی آئی کے لیڈر عمر ایوب نے ان کے اپنے الفاظ میں ’’پنجاب میں کھلی دھاندلی‘‘ کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے اسی نوع کے سوالات اٹھائے ہیں اور سارا ملبہ الیکشن کمیشن پر ڈالا ہے کہ اس کے اور پنجاب حکومت کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت ایف آئی آرز کاٹی جائیں اور کامیاب ہونے والوں کے نوٹیفیکیشن روکے جائیں۔ ظاہر ہے یہ کھوکھلے مطالبات ہیں جو ٹکے کی حیثیت نہیں رکھتے۔ قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی سولہ سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہوئے ہیں، درویش نے تین حلقوں کا ذاتی طور پر وزٹ کیا ہے جیسے کہ لاہور میں محترمہ مریم نواز نے قومی اسمبلی کا جو حلقہ چھوڑا ہے، یہ ظاہر ہے ن لیگ کا گڑھ کہا جاتا ہے۔ پرویز ملک بھی یہاں سے جیت کر اسمبلی میں پہنچتے رہے ہیں۔ اور اب ان کے بیٹے علی پرویز ملک نے جتنے ووٹ لئے ہیں انتخابات سے پہلے یہ دکھائی دے رہے تھے۔

شیخوپورہ کے حلقہ پی پی 139سے رانا تنویر حسین کوئی دو ہزار کے مارجن سے جیتے تھے مگر حالیہ ضمنی انتخاب میں رانا صاحب کے بھائی رانا افضال حسین کوئی سترہ ہزار کی لیڈ سے جیتے ہیں۔ ان کے حاصل کردہ ووٹ ساڑھے چھیالیس ہزار ہیں جبکہ ان کے مخالف سنی اتحاد کونسل کے امیدوار نے انتیس ہزار ووٹ حاصل کئے ہیں۔ رانا تنویر حسین ضلع شیخوپورہ کی مقبول ترین شخصیت ہیں جو 1985سے لے کر چند ایک مواقع چھوڑ کر مسلسل جیتتے چلے آ رہے یں ان کا ذاتی و آبائی حلقہ این اے 113مریدکے اور نارنگ منڈی کے علاقوں پر مشتمل ہے جہاں سے انہوں نے اپنے بھتیجے اور رانا افضال حسین کے بیٹے رانا عتیق انور کو ایم این اے منتخب کروایا ہے۔ جبکہ شرقپور اور ملحقہ آبادیوں پر مشتمل حلقہ این اے 114سے منتخب ہو کر وہ خود قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں۔ یہیں پر پی پی 139سے وہ حالیہ قومی انتخابات میں ممبر پنجاب اسمبلی بھی منتخب ہوئے تھے جسے چھوڑتے ہوئے ضمنی انتںخابات میں انہوں نے اپنے بھائی رانا افضال حسین کو اس حلقے سے پنجاب اسمبلی میں پہنچایا ہے۔ جو ماقبل اپنے بیٹے والی سیٹ پر ممبر قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔

رانا تنویر حسین کی مقبولیت کا راز محض ن لیگ سے ان کی مضبوط اور غیر متزلزل وابستگی ہی نہیں ہے بلکہ ان کا ذاتی ووٹ بنک بھی اتنا بھرپور ہے کہ وہ پارٹی کا اثاثہ خیال کئے جاتے ہیں۔ ان کے ڈیرے پر جائیں تو مل نے والوں کا تانتا بندھا ہوتا ہے جو انہیں وفاقی وزیر سے بڑھ کر شیخوپورہ کا وزیراعظم تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی ان کی  جیت یقینی سمجھی جاتی ہے۔ ضلع نارووال میں یہی حیثیت اس وقت ن لیگ کے مرکزی

سیکرٹری جنرل احسن اقبال کی ہے یہاں کسی زمانے میں چوہدری انور عزیز کا طوطی بولتا تھا۔ ایک مرتبہ فلڈ کے موقع پر میاں نواز شریف نے یہاں وزٹ کیا تو کچھ بزرگ خواتین کو دیکھ کر میاں صاحب رک گئے، میاں صاحب آگے بڑھے ایک بزرگ خاتون کے قریب ہوئے تو اس نے سر پر پیار کرتے ہوئے دعائیں دیں۔ میاں صاحب نے یہ والہانہ پن دیکھتے ہوئے پوچھ لیا ماں جی آپ نے پہچانا ہے کہ میں کون ہوں؟ ماں جی جھٹ سے بولیں بیٹا ہم تجھے کیسے بھول سکتی یں تو تو ہمارا پیار انور عزیز ہے۔ آج احسن اقبال کے لئے کتنی بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے اسی پاپولر لیڈر چوہدری انور عزیز کا طلسم توڑتے ہوئے اپنے لئے وہی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ چوہدری دانیال عزیز کی صلاحیتوں سے انکار نہیں لیکن انہوں نے پیہم کچھ ایسی سیاسی غلطیاں کی ہیں جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور اپنی ٹھوس کارکردگی دکھاتے ہوئے آج احسن اقبال جس طرح قومی سطح پر اپنی پہچان رکھتے ہیں، اسی طرح ضلع نارووال کے مقبول ترین رہنما گردانے جاتے ہیں جسے ٹکٹ دلواتے ہیں کامیابی اسی کے نام کروا لیتے ہیں۔

انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے نارووال جیسے پسماندہ ضلع کا حلیہ تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نارووال کے عوام پیہم ان پر اعتماد کرتے ہوئے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے کھڑے کئے گئے نمائندوں کو بھی اسمبلیوں میں بھیج رہے ہیں۔

24 کے الیکشن میں انہوں نے رانا تنویر حسین کی طرح قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 54ظفروال سے کامیابی حاصل کی تھی، مقابلہ بہت سخت تھا۔ روپو چک کے چوہدری سرور کا اثر و رسوخ سب پر واضح تھا جن کے بھتیجے اویس قاسم یہاں سے جیتتے آ رہے تھے۔ پیر سعید الحسن کا بھی اپنا حلقہ ارادت ہے۔ کھلاڑی کی مقبولیت بھی ایک حد تک تھی لیکن وہ بھی کوئی اثر دکھانے سے قاصر رہی۔ یوں احسن اقبال یہاں سے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوگئے اور حالیہ ضمنی الیکشن میں انہوں نے یہاں سے اپنے بیٹے اور سیاسی جانشین سابق چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل احمد اقبال کو کھڑے کیا جو ساٹھ ہزار سے زائد ووٹ لیتے ہوئے بھاری مارجن سے ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوگئے۔ ان کے مدمقابل سنی اتحاد کونسل کے حمایت یافتہ اویس قاسم نے چھیالیس ہزار ووٹ حاصل کئے۔

یہاں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنان کئی مقامات پر گتھم گتھا بھی ہوئے۔ افسوسناک سانحہ یہ ہوا کہ ایک پولنگ سٹیشن کے باہر کارکنان کی لڑائی میں ن لیگ کے کارکن محمد یوسف کو سر میں ڈنڈا مارا گیا جس سے وہ جاں بحق ہوگئے۔ تمام سیاسی قائدین اپنے کارکنان کو اس نوع کی تلقین کریں کہ الیکشن کو الیکشن سمجھ کر لڑیں اسے کفر اسلام، دین ایمان یا زندگی موت کی جنگ نہ بنائیں۔ جمہوریت ہمیں برداشت اور ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا سکھاتی ہے۔    ہمارے سابق کھلاڑی نے جب اپنی کرسی کی جنگ کو جہاد کہا اور اپنے سیاسی مخالفین کو چور، کرپٹ، باطل اور گمراہ کہتے ہوئے سیاست میں مذہبی تڑکے لگانے شروع کئے تو صورتحال پہلے سے بگڑی ہوئی صورتحال خراب سے خراب ہوتی چلی گئی، لہذا ایسی جنونیت اور شدت پسندی سے بچنے کی ایک ہی راہ ہے کہ مذہب کا سیاسی استعمال روک دیا جائے۔