فلسطینی ریاست قائم ہو نے پر حماس ہتھار ڈال دے گی

  • جمعرات 25 / اپریل / 2024

فلسطینی تنظیم حماس کے اعلیٰ سیاسی رہنما خلیل الحیہ نے کہا ہے کہ حماس اسرائیل کے ساتھ پانچ سال یا اس سے زیادہ عرصے کی جنگ بندی پر راضی ہونے کی خواہاں ہے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خلیل الحیہ نے کہا کہ اگر 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہوتی ہے تو حماس ہتھیار ڈال دے گی اور ایک سیاسی جماعت میں تبدیل ہو جائے گی۔ حماس کے اعلیٰ سیاسی رہنما کی جانب سے یہ انٹرویو بدھ کو استنبول میں دیا گیا ہے اور یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کے لیے مہینوں سے جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

خلیل الحیہ حماس کے اعلیٰ عہدے دار ہیں جو جنگ بندی اور یرغمالوں کے تبادلے کے لیے مذاکراتی عمل میں حماس کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ان کا لہجہ کبھی مفاہمانہ تو کبھی جارحانہ ہوتا ہے۔ خلیل الحیہ کی جانب سے یہ تجویز ہے کہ حماس غیر مسلح ہو جائے گی، یہ بظاہر ایک رعایت معلوم ہوتی ہے کیوں کہ عسکریت پسند گروپ اسرائیل کو تباہ کرنے کا عزم ظاہر کرتا ہے۔

البتہ یہ امکان نظر نہیں آتا کہ اسرائیل اس تجویز پر غور کرے گا۔ کیوں کہ سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیل نے فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کو کچلنے کا عزم کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کی موجودہ قیادت 1967 کی مشرقِ وسطیٰ جنگ میں اسرائیل کی جانب سے قبضہ کی گئی زمینوں پر فلسطینی ریاست کے قیام کی سخت مخالف ہے۔

خلیل الحیہ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ حماس فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) میں شامل ہونا چاہتی ہے تاکہ غزہ اور مغربی کنارے کے لیے ایک متحد حکومت بنائی جائے۔ واضح رہے کہ پی ایل او کی سربراہی حماس کا حریف دھڑہ 'الفتح' کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حماس اسرائیل کی 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں ایک مکمل خود مختار فلسطینی ریاست اور بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کو قبول کرے گی۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو حماس کا عسکری ونگ تحلیل ہو جائے گا۔

 

حماس رہنما نے کہا کہ "قابضین" کے خلاف لڑنے والوں کے تمام تجربات یہی رہے ہیں۔ جب وہ آزاد ہوئے اور اپنے حقوق اور ریاست حاصل کی تو ان قوتوں نے کیا کیا؟ وہ سیاسی جماعتوں میں تبدیل ہو گئیں اور ان کا دفاع کرنے والی فورسز قومی فوج میں تبدیل ہو گئیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست کے امکان پر اپنی پوزیشن میں لچک دکھائی ہے۔ لیکن اس کا باضابطہ سیاسی مؤقف دریائے اردن سے بحیرۂ روم تک "فلسطین کی مکمل آزادی" رہا ہے۔

اس معاملے پر اسرائیل یا فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ خود مختار حکومت ہے جس نے حماس کو اس وقت باہر نکال دیا تھا جب حماس نے فلسطینی پارلیمانی الیکشنز جیتنے کے ایک سال بعد 2007 میں غزہ پر کنٹرول حاصل کیا تھا۔

غزہ پر حماس کے کنٹرول کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے پاس اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے کے نیم خود مختار حصوں کا انتظام رہ گیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ میں ایک آزاد ریاست کے قیام کی امید رکھتی ہے۔ یہ وہی علاقے ہیں جن پر 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔

عالمی برادری بھی اس طرح کے دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ البتہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی سخت گیر حکومت اسے مسترد کرتی ہے۔

غزہ میں جنگ تقریباً سات ماہ سے جاری ہے اور جنگ بندی کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ جنگ کا آغاز سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے سے ہوا جس میں اسرائیلی حکام کے بقول 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ تقریباً 250 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد غزہ میں اسرائیل کی فضائی اور زمینی کارروائی شروع ہوئی جس میں اب تک غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 34 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس جنگ میں غزہ کی 23 لاکھ آبادی کا تقریباً 80 فی صد بے گھر ہو گیا ہے۔ اسرائیل اب جنوبی شہر رفح میں زمینی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے جہاں 10 لاکھ سے زیادہ فلسطینی پناہ کے لیے منتقل ہوئے تھے۔