جنرل صاحب سوچیں انہیں کیسے یاد رکھا جائے گا!

پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے واضح  کیا ہے کہ ’آج کے دور میں معاشی استحکام کے بغیر مکمل خود مختاری کا تصور ممکن نہیں ہے۔پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے سفر میں کسی قسم کا عدم استحکام برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔ اسلام آباد میں ’گرین پاکستان انیشیٹیو کانفرنس ‘سے خطاب کرتے ہوئے انہوں  نے منفی پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا ٹرولز  سے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر ہمیں پاکستان اور  عوام کی ترقی  وخوشحالی کے لیے کام کرنے سے نہیں روک سکتے۔

کانفرنس سے پر جوش خطاب میں جنرل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے سفر میں رخنہ ڈالنے اور توجہ ہٹانے والوں کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی۔ ہم  سب’ ٹیم پاکستان‘  ہیں۔  ’عوام کے تعاون اور  مدد سے ہم سب مل کر منفی قوتوں کو  مسترد  کریں  اور پاکستان کی ترقی اور استحکام کے سفر پر مرکوز رہیں‘۔ ملکی معاشی بحالی کے لئے ملک کی طاقت ور فوج  کے سربراہ کا یہ عزم قابل تحسین ہے لیکن اس کے ساتھ  ہی یہ  دیکھنا بھی اہم ہے کہ معاشرے میں  پائی جانے والی بے چینی کو کیا صرف امید افزا تقریروں  اور پاک فوج کے اس عزم سے دور کیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی کو بھی ملکی استحکام برباد کرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔

پاک فوج کے سربراہ کے طور پر جنرل عاصم منیر کو صرف اپنے زیرکمان فوج کی طاقت اور صلاحیتوں پر ہی نگاہ نہیں رکھنی چاہئے بلکہ یہ غور بھی کرنا چاہئے کہ فوج   کی بھی  کچھ حدود و قیود ہیں اور وہ یک و تنہا کیوں کر سرحدوں کی حفاظت بھی کرے گی، ملک میں بدامنی پر بھی قابو پائے گی، پہلے سے متعدد صنعتی اور رہائشی منصوبوں کا انتظام بھی سنبھالے گی اور اب حکومت  کے کہنے پر ملک میں سرمایہ کاری لانے  کے علاوہ  زراعت کے وسیع اور ہمہ گیر منصوبے کو مکمل کرکے پاکستان میں  دودھ و شہد کی نہریں بہانے کا مقصد بھی حاصل کرے گی؟

حکومت نے معاشی ترقی کے لئے ملک کی زرعی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے  کے منصوبے پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی کو ’گرین پاکستان انیشیٹیو‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے تحت 44 لاکھ ایکڑ سرکاری اراضی پر فارمنگ کی جائے گی۔ حکومت کا تخمینہ ہے کہ اس منصوبہ سے آئیندہ پانچ سال میں 40 ارب ڈالر کی آمدنی ہوگی اورروزگار کے  4 لاکھ  مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ منصوبہ پاک فوج کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کانفرنس  کے بارے میں پریس ریلیز بھی پاک فوج کے شعبہ معلومات عامہ کی طرف سے جاری ہوئی ہے۔   حیرت انگیز طور پر ملک کے کسان و کاشتکار موجودہ حکومت کی زرعی پالیسیوں سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے لیکن ایک منتخب حکومت ملکی  دفاع کے لیے قائم کی گئی فوج کی مدد سے اب زرعی انقلاب لانے کا خواب دیکھ رہی ہے۔

یا  تو موجودہ حکومت میں  زراعت کے بارے میں بنیادی مہارت کے حامل لوگ ہی  موجود نہیں ہیں یا پھر شہباز شریف کا سیاسی وژن  اتنا ہی محدود اور ناقص ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ  ملکی تعمیر کا ہر منصوبہ صرف فوج ہی کے ذریعے مکمل کیا جاسکتا ہے۔   سیاسی حکومت کی ایسی حکمت عملی  یا تو اس کی کوتاہ نظری اور کم بصری کی آئینہ دار ہوسکتی ہے یا پھر  مٹھی بھر سیاست دان دہائیوں پرانے طریقے اختیار کرتے  ہوئے عسکری اداروں کی خدمت گزاری سے ملک پر حکمران رہنا چاہتے ہیں۔ البتہ اب  ہر کس و ناکس  جان چکا ہے کہ کیسے محدود سیاسی  مقاصد کے لیے ملک کے وسیع المدت مفادات کو داؤ پر لگایا جارہا ہے۔

اس سے پہلے شہباز شریف کی سابقہ حکومت کے دور میں   سرمایہ کاری کی سہولت کاری کونسل  (ایس آئی ایف سی) قائم کی گئی تھی۔ اگرچہ اس کی صدارت وزیر اعظم کرتے ہیں اور اس میں متعدد وفاقی وزرا اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہیں لیکن اس میں آرمی چیف کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ آرمی چیف نے نہ صرف اس  ذمہ داری کو قبول کیا ہے بلکہ وہ مستعدی سے اس کونسل کے ہر اجلاس میں شریک بھی ہوتے ہیں۔درحقیقت جنرل عاصم منیر جب بھی معیشت کی بحالی کے بارے میں عزائم کا اظہار کرتے ہیں تو وہ  اس کونسل کے  رکن کے طور پر  ہی بات  کررہے ہوتے ہیں ۔جیسے اب گرین منصوبہ کی کانفرنس میں  اگرچہ  وفاقی وزرا بھی شریک تھے لیکن  توجہ کا مرکز جنرل عاصم منیر ہی تھے اور وہی ملکی معاشی بحالی کے علم بردار کے طور  پر سامنے آتے ہیں۔  درحقیقت یہی صورت حال   شبہات پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے کہ  ملک کا اصل حکمران کون  ہے اور کون تمام اہم معاشی، انتظامی اور سیاسی فیصلے کرتا ہے۔

آرمی چیف اور وزیر اعظم سمیت  ملکی اقتدار پر قابض سب عناصر بخوبی اس  تاثر سے باخبر ہیں۔ تحریک انصاف کے اسیر  بانی چئیرمین  عمران خان متعد دبار جنرل عاصم منیر کو ملک کا اصل حکمران اور شہباز شریف کو محض کٹھ پتلی قرار دے چکے ہیں۔ ملک کے تبصرہ و تجزیہ نگار براہ راست یا بالواسطہ طور سے اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔  اخباری کالم ہوں، میڈیا کے ٹاک شوز ہوں یا یوٹیوب  کی نشریات،  یہی معاملہ موضوع گفتگو رہتا  ہے۔   جمہوری انتخابی عمل سے گزرنے اور  تمام صوبوں اور مرکز میں بظاہر  عوام کی منتخب حکومتیں قائم ہونے کے بعد   بھی اس بارے میں مسلسل ’بے یقینی‘ کا اظہار کیا جاتا ہے کہ  ملک کا اصل حکمران کون ہے۔

کسی حد تک پاکستانی سیاست دانوں کی طرح ملکی عوام بھی اس حقیقت سے سمجھوتہ کرچکے ہیں کہ  سیاسی جوڑ توڑ میں ملکی فوج فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ البتہ جیسی بے بسی موجودہ حکومت کے قول و فعل میں دکھائی دیتی ہے اور جس تمکنت سے ملکی فوج کا سربراہ قومی معاملات پر حکم جاری کرتا ہے، اس کی روشنی میں یوں لگتا ہے کہ مرکزی حکومت کا سیکریٹریٹ اسلام آباد سے راولپنڈی کے جی ایچ کیو  میں منتقل کردیا گیا ہے۔ یہ صورت حال دراصل مہنگائی اور  سماجی دباؤ   کے ماحول میں پاکستانی عوام کے  بے بسی، مایوسی اور لاچاری میں اضافہ کررہی ہے۔ ممکن ہے کہ اس وقت یہ مایوسی کسی بڑے غصے یا سیاسی طوفان کی شکل اختیار نہ کرسکے لیکن اگر ارباب اختیار درست فیصلے کرنے میں ناکام رہیں گے اور سیاسی ماحول  کو عوامی خواہشات کے مطابق کشادہ نہیں کیا جائے  گا تو  حالات کی سنگینی  میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

اس پس منظر میں  آرمی چیف کو سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں اور منفی پروپیگنڈے کے بارے میں  ضرورسوچنا چاہئے۔ یہ تو درست ہے کہ سوشل میڈیا کو صحت مندانہ رجحانات کی بجائے  جھوٹی خبریں پھیلانے اور کردار کشی کے لیے استعمال کرنا ناجائز اور ناقابل قبول طریقہ ہے۔ لیکن دوسری طرف اگر  نکتہ چینی سے گھبرا کر حکومت سوشل میڈیا پر پابندی لگانے اور مختلف قوانین کا سہارا لے کر   ہمہ قسم اظہار  روکنے  کا طریقہ اختیار کرے گی تو اس سے یہ رویے  تبدیل نہیں ہوسکتے۔ جنرل عاصم منیر کا یہ دعویٰ درست ہے کہ اگر  حکومت معیشت کے لیے دیرپا فیصلے کرنے کا عزم کرچکی ہے اور ترقی اور خوشحالی کے سفر میں حکومت اور فوج مل کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو  سوشل میڈیا ٹرینڈز ان کا راستہ نہیں روک سکتے۔ تاہم یہ نکتہ سمجھتے ہوئے یہ تسلیم کرنا بھی اہم ہے کہ   سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کون سے عناصر کیوں کر ایسا پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال کررہے ہیں جو ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے اور جس سے  بعض عہدوں  پر فائز افراد کے بارے میں ہرزہ سرائی بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ بے چینی اور مایوسی کا علاج کیے بغیر  آگے بڑھنے کا عزم  یا متنبہ کرنے اور ڈرانے سے یہ طریقے ختم نہیں ہوسکتے۔

گو کہ پاکستان ایک مکمل جمہوری معاشرہ نہیں ہے لیکن یہاں پر انتخابات کے ذریعے حکومت سازی کا طریقہ تسلیم شدہ آئینی طریقہ  ہے۔ موجودہ  حکومت ہی نہیں بلکہ فوجی قیادت بھی اسی طریقے کو ملک کے لیے بہترین طرز حکمرانی سمجھتی ہے۔  جمہوریت کو آئینی طریقہ مان لینے کے بعد ،   بنیادی جمہوری حقوق سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ملک میں انتخابی جمہوریت درکار ہے تو یہاں میڈیا  اور شہریوں کو اپنے خیالات  ظاہر کرنےکا مکمل حق بھی دینا ہوگا۔ اگر  اظہار کا یہ طریقہ کبھی کسی فرد یا عہدیدار کے حقوق پر اثر انداز ہوتا ہے تو ملک میں ازالہ حیثیت عرفی کے قوانین کو مؤثر بنایا جاسکتا ہے تاکہ قانون شکنی کرنے والے افراد کو مناسب قانونی طریقے سے جوابدہ کیا جاسکے۔  البتہ ایکس پر پابندی یا سوشل میڈیا کی نگرانی کے طریقے اختیار کرنے سے   عوام کے آئینی حقوق  متاثر ہوتے ہیں لیکن   ناجائز پروپیگنڈے کو پھیلنے سے نہیں روکا  جاسکتا۔ اس کی روک  تھام کے لیے مزید آزادی، استقامت اور وسیع النظری کی ضرورت ہوگی۔ تب ہی اگر جھوٹی اور منفی خبریں پھیلائی جائیں گی تو انہیں رد کرنے والی آوازیں بھی توانا ہوں گی۔

یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے آئین کے تحت  متعین کردہ حدود کا احترام کرنا بے حد ضروری ہے۔  ماضی قریب میں کیے گئے  تجربوں کی وجہ سے اس وقت  کئی ادارے اپنی حدود سے تجاوز کررہے ہیں۔ جن میں سے ایک معاملہ شہریوں کو اٹھاکر لاپتہ کرنے سے متعلق ہے جس میں ملک کی بااثر ایجنسیاں ملوث ہیں اور سال ہا سال کے احتجاج کے باوجود یہ معاملہ حل ہونے کا نام نہیں لیتا۔ اسی طرح حکومت سازی میں عسکری قیادت کے اثر و رسوخ کو  نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اب معاملہ اس سے بڑھ کر فوج کو بطور ادارہ معیشت سے متعلق معاملات سونپنے تک پہنچ چکا ہے۔ اس سے پہلے اداروں کی سربراہی کے لئے سابق فوجی افسروں کی تقرریاں تو دیکھنے میں آتی رہی ہیں لیکن سرمایہ کاری سے لے کر زرعی انقلاب کے منصوبوں تک میں فوج کو ’فری ہینڈ‘ دینے کے فیصلے  آئین میں مقرر کی گئی حدود  کی خلاف ورزی ہی کہے جاسکتے ہیں۔ محض یہ کہہ دینے سے کام  نہیں چل سکتا کہ یہ فیصلہ حکومت نے کیا ہے ، اس لیے فوج مجبوراً اس پر عمل کررہی ہے۔  فوج کو سرکاری زمینیں  دینے کاسلسلہ نگران حکومتوں کے دور میں شروع ہؤا تھا جنہیں ایسے فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ اب موجودہ حکومت فوج کی خوشامد یا اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے گرین انقلاب لانے کے لیے فوج کا کاندھا استعمال کررہی  ہے۔

فوج کو حکومت کے غلط اور غیر آئینی فیصلوں کا بوجھ اٹھانے سے گریز کرنا چاہئے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو  معلوم ہونا چاہئے کہ  فوج کو کن  شعبوں میں مہارت حاصل ہے۔ اسے ایسے کسی  شعبہ  کی ذمہ داری قبول نہیں کرنی چاہئے  جس کے بارے میں اسے بنیادی صلاحیت   ہی حاصل نہیں ہے۔ زرعی منصوبے، فارمنگ کے علاوہ سرمایہ کاری  انہی شعبوں میں شامل ہے۔  پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ فوج کو سیاست زدہ  کر گئے ہیں تاہم  ریٹائرمنٹ سے پہلے انہوں نے فوج کو سیاست سے علیحدہ رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ اب وہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر اپنی بے گناہی کا یقین دلانے کی کوشش کرتے پائے جاتے ہیں۔

جنرل عاصم منیر فوج کو معاشی منصوبوں میں ملوث کرنے کی بجائے اپنی  لیگیسی کے بارے میں متفکر ہوں تو بہتر ہوگا۔  انہیں سوچنا چاہئے کہ اس عہدے سے فارغ ہونے کے بعد انہیں  فوجی و عوامی حلقوں میں کس  طرح یاد کیا جائے گا ۔