کیا ایرانی صدر کا دورہ نمائشی تھا؟
- تحریر افضال ریحان
- منگل 30 / اپریل / 2024
جس طرح عالمی سطح پر ہمیشہ پاکستان کو یہ کہاجاتا ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں بالخصوص بھارت سے اپنے تعلقات بہتر کرے اسی طرح اندرونِ ملک بھی اس نوع کی خواہشات کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔
حال ہی میں تاجر برادری نے کراچی میں وزیراعظم سے ملاقات میں ملک کی معاشی بہتری کے لیے اس بات پر زور دیا ہے کہ آپ اپنے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے ٹھوس قدم اٹھائیں۔ ممتاز کاروباری شخصیت عارف حبیب نے دست بستہ عرض کی کہ آپ لوگ ایک ہاتھ بھارت سے ملائیں اور دوسرا اڈیالہ جیل کے مکین سے۔ ان کا مدعا واضح تھا کہ اس وقت ہمارا یہ تضادستان جس معاشی بدحالی کا شکار ہے، ایسے میں یہ نہ تو کسی بیرونی دشمنی کا متحمل ہوسکتا ہے اور نہ کسی اندرونی خلفشار کا۔ ہر دو صورتوں میں اس کی معیشت آئی سی یو میں پہنچ جائے گی۔
حال ہی میں ہمارے وزیرخزانہ آئی ایم ایف کی معاونت حاصل کرنے کے لیے امریکی یاترا سے اس یقین دہانی کے ساتھ لوٹے ہیں کہ الحمدللہ وہ اگلی قسط کے لیے مان گئے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں کنگڈم کا اعلیٰ سطحی ذمہ داران اور سرمایہ کاران پر مشتمل وفد اسلام آباد سے ہوکرگیا ہے۔ اس توقع کے ساتھ کہ کراؤن پرنس کی آمد سے قبل پاکستان کو بدترین صورتحال سے نکالنے کے لیے کیا کیا ٹھوس اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔ کسی بھی بڑی بیرونی شخصیت کا یہاں آنا محض وعظ و نصیحت اور فارسی بھرے الفاظ کے ساتھ تقاریر کرجانا، آج کی عملیت پسند دنیا میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے۔ یہ وہ چیز تھی کہ جو کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے پاکستانی قیادت کو ان کے سہ روزہ انڈین دورے کے بعد پاکستان آمد کے مطالبے پر سمجھائی تھی کہ ایسے دورے کی ٹھوس افادیت یا آؤٹ پٹ کا پوری پلاننگ کے ساتھ اہتمام ہونا چاہیے۔
اب ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے پاکستان کا سہ روزہ دورہ کیا ہے جسے بظاہر بڑا کامیاب بتایا جارہا ہے جیسے کہ 8 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں اور ایرانی صدر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ باہمی تجارت کو دس ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔ فوری سوال ذہن میں آتا ہے کہ کس فیلڈ میں؟ سرمایہ کاری کے لیے ہر دو اطراف پلاننگ کیا ہے؟ گیس پائپ لائن کا منصوبہ 2013 سے لے کر اتنے طویل برسوں کے باوجود ابھی تک ادھورا پڑا ہے جس کی تکمیل کے حوالے سے طرح طرح کے وسوسے اور خدشات پائے جاتے ہیں۔ ایسا بڑا دعویٰ کرنے سے پہلے ذرا اپنے موجودہ تجارتی حجم پر ہی ایک نظر ڈال لی جائے۔ آج کی معاشی دنیا میں کسی بھی ملک کے لیے آئیڈیل اس کی برآمدات ہوتی ہیں نہ کہ درآمدات۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ گزشتہ تین برسوں کی برآمدات ملاحظہ فرمائیں تو حیران کن حد تک مایوسی ملے گی۔ زیرو جمع زیرو مساوی زیرو، ایسی دگرگوں صورتحال پر اجتماعی ماتم ہی کیاجاسکتا ہے۔
بھارت تو خیر اس وقت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے اور تیسری بڑی معیشت بننے جارہا ہے ہمارا تقابل اگر اپنے ہی سابق اٹوٹ انگ بنگلہ دیش سے کیاجائے تو انہوں نے اپنے لوگوں کو جس طرح محنت، ہنر، ٹیکنالوجی اور انڈسٹری میں ترقی پر لگایا ہے، مرد تو رہے ایک طرف ان کی عورتیں بھی چھوٹی چھوٹی صنعتوں میں جس انہماک اور لگن سے محنت کررہی ہوتی ہیں، ہماری اتنی ہی خواتین بینظیر فنڈ سے بھیک لینے کے لیے لائنوں میں لگی دکھائی دیتی ہیں۔ جس طرح ہم بیرون ملک کشکول یا کٹورا اٹھائے بھکاری کا لیبل سجائے گھوم رہے ہوتے ہیں، اسی طرح اندرونِ ملک بھی ہم نے اپنے غریب عوام کو یہی سکھلایا ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ حرمین شریفین میں چار ہزار سات سو بھکاری پکڑے گئے تو ان میں سے پورے چار ہزار پاکستانی تھے۔ واقعی ہمیں دوسرے ممالک سے تجارتی تعلقات بڑھانے چاہیں مگر ہمارے پاس دوسروں کو بیچنے کے لیے ہے کیا؟ محض کھیلوں کے سامان اور کاٹن کے کپڑوں سے ہم کتنا زرمبادلہ کماسکتے ہیں؟ ہماری پلاننگ کا یہ حال ہے کہ چند ماہ قبل ہماری کیئرٹیکر عارضی حکومت نے مہنگے داموں اتنی گندم منگوالی کہ آج ہمارا اپنا کسان پریشان ہے۔ حکومت نے گندم کے حوالے سے اسے بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے۔ سارا زور مصنوعی سستی روٹی پر ہے، جسے عدالت نے روک دیا ہے۔
بدقسمتی سے ایران خود اس وقت پوری دنیا میں تماشا بنا ہوا ہے۔ غربت مہنگائی و بے روزگاری اور مذہبی جنونیت کے ہاتھوں ایرانی عوام رو رہے ہیں۔ عالمی پابندیاں مزید لگنے جارہی ہیں۔ امریکیوں نے ہمیں صاف صاف کہہ دیا ہے کہ ذرا سوچ سمجھ کر بڑی چھلانگیں مارنا۔ واشنگٹن گزشتہ بیس برس سے پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ کار ہے۔ پاکستان کی جیسی تیسی برآمدات بھی سب سے زیادہ امریکا اور یورپ جاتی ہیں۔ ہم تو تجارت ہی نہیں ایف 16سے لے کر اپنی تمامتر اسلحہ بندی اور ان کے پرزوں تک امریکا کے مرہونِ منت ہیں جس کا ادراک ہماری طاقتور فورسز کو بھی ہے۔ ہمارے سب سے قریبی سعودی و اماراتی دوست بھی آئی ایم ایف اور امریکی اشاروں کے بغیر ایک قدم نہیں اٹھاتے ہیں۔ ہم جتنی مرضی بڑھکیں ماریں لیکن ویسٹ کا دباؤ سہنے کے قابل نہیں ہیں۔
انہی دنوں امریکا نے ہمیں بیلسٹک میزائل پروگرام میں تعاون فراہم کرنے والی چار کمپنیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ ان میں سے تین چینی اور ایک بیلاروس کی کمپنی ہے۔ ایرانی صدر کے ساتھ مشترکہ علامیہ میں دہشت گردی کے خلاف جو بھی
لفاظی کی گئی ہے لیکن تلخ زمینی حقائق یہ ہیں کہ ہم ایران اور افغانستان کی طرف سے ایسے متشدد گروپوں کو بری طرح سے بھگت رہے ہیں۔ پچھلے دنوں جو بدتر صورتحال پیدا ہوگئی تھی اگر ہم ایسی باہمی منافرتوں سے ہی باہر نکل آئیں تو بڑی بات ہوگی۔ کشمیر اور فلسطین پر ہم نے کیا کرنا ہے یہ محض کھوکھلی باتیں ہیں۔