کیا ایرانی صدر کا دورہ نمائشی تھا (2)
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 04 / مئ / 2024
ایران اور اسرائیل کے موجودہ تنازعہ کے عالمی تناظر میں ایرانی صدر کا یہ دورۂ پاکستان کم از کم ان دنوں کسی طرح بھی پاکستان کے حق میں نہیں تھا۔
اس سے دنیا کو خواہ مخواہ اسی طرح کا غلط پیغام گیا جس طرح ایک تعلی باز کھلنڈرے پاکستانی وزیراعظم نے روس کا دورہ عین اس روز کیا جس روز روس نے یوکرین پر حملہ کردیا تھا۔ پوری مہذب دنیا میں روس کے خلاف تھو تھو ہورہی تھی اور پاکستان کا یہ عالمی تاثر جارہا تھا کہ وہ جارحیت کرنے والے کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہی تاثر ایران کے حوالے سے تھا جب ایرانی صدر اسلام آباد میں کھڑے یہ کہہ رہے تھے کہ فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے پاکستان اور ایران کا مؤقف ایک ہے۔ اگر صیہونی رجیم نے ایران کی مقدس سرزمین پر حملے کی دوبارہ غلطی کی تو نہ صرف یہ کہ اسرائیلی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا اور شاید ’اسرائیل کا کچھ بھی نہیں بچے گا‘۔
مغرب میں پاکستانی سرزمین پر دی گئی اس خوفناک ایرانی دھمکی کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے کہ ’اسرائیل کا کچھ بھی نہیں بچے گا‘ سے ان کی اصل خواہش زبان پر آگئی ہے کہ ہم اسرائیلی ریاست کا خاتمہ کردیں گے۔ کیا ریاستی سطح پر اقوام متحدہ کی رکن کسی بھی ممبر ریاست کے متعلق اس نوع کی زبان اور وہ بھی دوسرے کی سرزمین پر استعمال کی جاسکتی ہے؟ اسی سوچ یا ذہنیت کو حماس رہنما اسماعیل ہانیہ کے اس بیان کا ریفرنس سامنے رکھتے ہوئے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے پاکستانی مذہبی لیڈران سے خطاب کرتے ہوئے دیا تھا۔ یہ کہ ہم ایران سے بڑھ کر پاکستان سے اسرائیل کو اس نوع کی دھمکی دلوانا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان ایک نیوکلیئر صلاحیت کا حامل ملک ہے۔ اس لیے اس کی دھمکی زیادہ کارگر ثابت ہوگی۔ ملفوف پیغام یہ تھا کہ پاکستان اسرائیل کو ایسی دہشت دکھائے یا خوفزدہ کرے کہ وہ اس پر ایٹم بم دے مارے گا۔
درویش کی نظر میں پاکستان قطعی طور پر ایسی پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اسرائیل پر اسلامی ایٹم بم گراتے ہوۓ کوئی ایسا خودکش حملہ کرے گا۔ پاکستان ہرگز ایسی کسی حماقت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ لیکن پاکستان کے یہ بے وقوف دوست، اس نوع کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کرکے پاکستان کی عالمی حیثیت یا کردار کو مشکوک ضرور بنادیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں کسی بھی ملک کی نیوکلیئر پاور کو ایسی شک بھری نظروں سے نہیں دیکھا جاتا جیسے پاکستان کو۔ آج عالمی سپر پاور امریکا نے انڈین نیوکلیئر ٹیکنالوجی کو جس طرح قبول کرتے ہوئے، اسے جو سہولیات دے رکھی ہیں، پاکستان کے بارے میں اتحادی ہونے کے باوجود وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس کی وجہ کیا اسی نوع کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازیاں اور ہمارے عالمی رویے نہیں ہیں؟ جن کے کارن پاکستان کے ایٹم بم پر اسلامی ایٹم بم کی پھبتی کسی جاتی ہے اور یہ حرکت پاکستان کے عالمی کردار کو مزید مشکوک بنادیتی ہے۔ ایرانی صدر نے
بہت اچھا کیا کہ ہمارے مسخرے وزیراعظم کی کشمیری گردان پر کوئی لب کشائی نہیں کی، خواہ مخواہ بھارت کی نظروں میں خود کو مشکوک بنانے سے احتراز کیا۔ لیکن انہیں پاکستانی سرزمین سے اسرائیل کے متعلق بھی ایسی خوفناک دھمکیوں سے پرہیز کرنا چاہیے تھا جن سے پاکستان کی عالمی ساکھ مجروح داغدار یا مشکوک ہوئی ہے۔
عالمی سطح پر پاکستان کا یہ تاثر گیا ہے کہ جیسے یہ ملک لبنانی حزب اللہ، یمنی حوثیوں یا فلسطینی حماس کی طرح ایرانی پراکسی کا کردار ادا کرنے جارہا ہے۔ حالانکہ زمینی طور پر یہاں ایسی کوئی بات نہیں۔ پاکستانی نیوکلیئر صلاحیت کسی شدت پسند مذہبی تنظیم یا دہشت گرد گروہ کے ہاتھوں میں نہیں، پاکستانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے جن پر نہ صرف یہ کہ پینٹاگان اچھا خاصا اعتماد رکھتا ہے بلکہ ہماری فورسز کا سارا دارومدار امریکی ہتھیاروں اور پرزہ جات سے لے کر معاشی مسائل تک پینٹاگان اور امریکی دفتر خارجہ سے جڑا ہوا ہے۔ اور ہم یو این کے ممبر تمام ممالک میں سے کسی کی سیکیورٹی کے لیے بھی خطرہ نہیں ہیں۔ ہمیں خود کو دنیا کی ایک ذمہ دار قوم ثابت کرنا ہے ۔ ہم بھلا ایرانی پراکسی کیوں بنیں گے؟
ایران سے بلاشبہ ہم اچھی ہمسائیگی کے برادرانہ تعلقات کے خواستگار ہیں لیکن اتنے ہی ہم سعودی عرب کی دوستی کے بھی حریص ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ کنگڈم آف سعودی عریبیہ سے ہماری معاشی مجبوریاں اور قریبی تعلقات کی خواہش ایران سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی اس خواہش کے باوجود کہ وہ پاکستانی عوام سے براہِ راست اسی طرح مخاطب ہوں جس طرح امریکی صدر کلنٹن مخاطب ہوئے تھے یا ہماری پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اسی طرح خطاب کریں جس طرح ہمارے مغربی اور عرب دوست خطاب کرتے رہے ہیں، پاکستان نے اس سے معذرت کی ہے۔ اور ایسا موقع پیدا نہیں ہونے دیا۔ بلکہ ہمارے دفترِ خارجہ اور فارن منسٹر نے صاف کہا ہے کہ ایرانی صدر کا یہ دورہ پہلے سے طے شدہ تھا، اس کا موجودہ تلخ حالات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
ایران نے حالیہ دنوں گلف سے اسرائیلی تجارتی جہاز کو جس طرح اغوا کیا ہے اس میں کچھ پاکستانی انڈین اور دیگر ممالک کے شہری بھی سوار تھے۔ پاکستان نے اس غلط ایرانی اقدام کی حمایت میں کوئی ایک لفظ نہیں بولا بلکہ یہ کہا ہے کہ ہمارے یرغمالیوں کو فوری رہا کیاجائے۔
7 اکتوبر کو یومِ کپور کے موقع پر حماس نے اسرائیل کے اندر گھس کر جس طرح 1200 کے قریب بے گناہ اسرائیلیوں کو قتل کیا اور دو سو کے قریب اسرائیلی اور دیگر اقوام کے شہریوں کو اغوا کیا تھا، اس شدید ترین غلط اقدام کے ردِ عمل میں ہزاروں بے گناہ فلسطینی لقمۂ اجل بنے ہیں۔ یہ سب کچھ کس قدر دردناک اور افسوسناک ہے۔ بلاشبہ اسرائیل کو بھی اتنا شدید ردِعمل نہیں دکھانا چاہیے تھا لیکن ہمیں جہاں اسرائیلی شدید ردِ عمل کی مذمت کرنی چاہیے، وہیں حماس کی اس بربریت و دہشت گردی کو بھی بُرا کہنا چاہیے جو سراسر ایرانی شہ اور اشیر باد پر ہوئی۔
ہمارے ایرانی بھائیوں نے ایک متشدد فسلطینی گروہ سے ایسی حرکت کرواکر آخر کس کا بھلا کیا ہے؟ کیا اس سے اسرائیل ٹوٹ گیا ہے؟ یا دنیا بھر کے یہودی غریب بیماراور کمزور ہوگئے ہیں؟ یا مغرب کی ان کے لیے حمایت ختم ہوگئی ہے؟ یا فلسطینی ریاست کی ہموار ہوگئی ہے؟ کیا ردِ عمل میں اصل بربادی عام بے گناہ فلسطینی بھائیوں کی نہیں ہوئی ہے؟ ایرانی ولایت فقیہ کو فلسطینی بچے مروا کر فلسطینیوں کا پورا انفراسٹرکچر تباہ کروا کر آخر ملا کیا ہے؟ الگ فلسطینی ریاست کے لیے مغرب بالخصوص امریکا میں جیسی تیسی جو حمایت پائی جاتی تھی، آج وہ بھی بڑی حد تک ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ اس نے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی ایسی قرارداد دھڑلے سے ویٹو کردی ہے بلکہ اسرائیل کی حفاظت یا وجود کی سلامتی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے امریکی کانگرس نے 29ارب ڈالر کی خطیر رقم حال ہی میں بخوشی منظور کی ہے۔ اہلِ مغرب کا یہ احساس مزید مضبوط ہوا ہے کہ اسرائیل بدترین دشمنوں میں گھری ہوئی یہود کی دنیا میں واحد قومی ریاست ہے جس کے تحفظ اور بقا کی ذمہ داری پوری کرنے میں ہم کوئی کوتاہی نہیں کرسکتے۔ خوداسرائیل مغرب میں فلسطینیوں کے لیے جو اچھی خاصی مضبوط معتدل آواز تھی ایرانی پراکسی نے 7 اکتوبر کو جو احمقانہ و ناعقبت اندیشانہ حرکت کی ہے اس کے نتیجے میں یہود کی وہ معتدل آواز اتنی نحیف ہوگئی ہے کہ اسرائیل کے اندر آئندہ کوئی اس پر اعتبار نہیں کرے گا۔ کوئی مانے نہ مانے اسرائیل بہرحال ایک جدید جمہوری مملکت ہے۔ یہود کی جمہوریت ایران یا پاکستان سے زیادہ شفاف اور مضبوط ہے۔ کئی حکومتی بے اعتدالیوں کے باوجود ریاست اسرائیل نے اپنے شہریوں کے حوالے سے کبھی بنیاد پرست جنونیوں والا لیبل بھی خود پر نہیں لگایا، نہ اپنی قومی و جمہوری ریاست میں کبھی شریعت موسوی کو لاگو کرنے اور تورات و زبور کے احکامات نافذ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جیسی مذہبی جنونی حرکتوں کے ہم ایرانی و پاکستانی رسیا ہیں۔
بلکہ دیگر ہر اختلافی سوچ یا مذہبی فرقوں کا ہم لوگوں نے اپنے ممالک میں جینا حرام کیا ہوا ہے۔ ہمارے عام لوگوں کو تو شاید یہ تک معلوم نہیں ہے کہ اسرائیل کے اندر ان کی آبادی کا پانچواں حصہ کوئی بیس لاکھ سے زائد فلسطینی عرب مسلمانوں پر مشتمل ہے جو اسرائیلی ریاست کے اسی طرح شہری ہیں جس طرح دیگر یہود، یروشلم، حیفہ، تل ابیب سمیت کون سا اسرائیلی شہر یا قصبہ ہے جہاں ان مسلمان عربوں کی مساجد نہیں ہیں یا جہاں انہیں اپنی عبادات نماز، روزوں اجتماعات یا وعظ کی آزادیاں نہیں ہیں۔ صرف اس شرط کے ساتھ کہ وہ ریاست کے خلاف لوگوں کو نہ بھڑکائیں اور منافرت نہ پھیلائیں۔
ہمارے پاکستان اور ایران جیسے بنیاد پرست مذہبی ممالک کو ریاست اسرائیل کے خلاف منافرت پھیلانے اور بات بات پر گلے پھاڑنے کی بجائے یہود سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم دوسروں کو انسانی حقوق کے طعنے دینے سے پہلے حال ہی میں ہیومن رائٹس کے حوالے سے سامنے آنے والی امریکی رپورٹ کا مطالعہ کرلیں۔ اگر امریکی رپورٹ پر شک ہے تو خود ہر دو ممالک کی حقیقی صورتحال کا غیر جانبدارانہ تحقیقی جائزہ لے لیں۔