’چوری شدہ‘ مینڈیٹ واپس کرنے پر ہی مذاکرات ہوں گے: عمران خان
بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کسی بھی ممکنہ مذاکرات کو اپنی پارٹی کے چوری کیے گئے مینڈیٹ کی واپسی اور بے گناہ قید کارکنوں کی رہائی سے منسلک کیا ہے۔
گزشتہ روز اڈیالہ جیل سے اپنے پیغام میں عمران خان نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے مقدمات کی سماعت کرنے والے ججوں پر بھی زور دیا کہ وہ غیر ضروری طور پر تاخیر کرنے کی بجائے اپنا فیصلہ دینے میں جلدی کریں۔
پی ٹی آئی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ نے جمعہ کو کہا کہ سابق وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہیں لیکن یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب ان کا چوری شدہ مینڈیٹ واپس کیا جائے اور بے گناہ کارکنوں کو رہا کر دیا جائے۔ عمران خان نے بظاہر اسٹیبلشمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات صرف مخالفین سے ہوتے ہیں اس لیے بات چیت بھی ان سے ہونی چاہیے جو اس وقت پی ٹی آئی کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ سب جانتے ہیں کہ ان کے خلاف القادر ٹرسٹ ، عدت، سائفر کیس سمیت تمام مقدمات من گھڑت، جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔عدلیہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے نوٹ کیا کہ 9 مئی کے فسادات سے متعلق پی ٹی آئی کی پٹیشن 25 مئی 2023 سے زیر التوا ہے۔ اور اس کی سماعت ابھی تک طے نہیں ہوئی۔
عمران خان نے کہا کہ 8 فروری کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دائر پی ٹی آئی کی درخواستیں بھی سماعت کے لیے مقرر نہیں کی گئیں اور پی ٹی آئی کی خواتین کی مخصوص نشستوں کے معاملے کو بھی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں نے نظریہ ضرورت کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے، فیصلے دباؤ اور دھمکی کے تحت کیے جا رہے ہیں جس سے ملک کا عدالتی نظام تباہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کے خط سے ثابت ہوا کہ ملک میں جنگل کا قانون ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج ہائی کورٹس کے ججوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور دباؤ اور جبر کے تحت غلط فیصلے دینے سے گریز کریں۔
پی ٹی آئی کے بانی نے قوم سے مطالبہ کیا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا ایک تاریخی موقع ہے کیونکہ عظیم قومیں ایسے مواقع سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو قومیں ظلم کے خلاف نہیں اٹھیں گی وہ ہمیشہ غلام رہیں گی۔