صادق خان مسلسل تیسری بار لندن کے میئر منتخب ہوگئے

  • اتوار 05 / مئ / 2024

لندن کے میئر صادق خان ریکارڈ تیسری مرتبہ میئر منتخب ہو گئے ہیں۔ برطانیہ کی حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی کے لیے انتخابات سے قبل یہ بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

ہفتے کو انتخابی نتائج کے مطابق پاکستانی نژاد صادق خان کو 10 لاکھ سے زائد یا 44 فی صد ووٹ ملے۔ اُنہوں نے  مدِ مقابل کنزرویٹو پارٹی کی سوزن ہال سے 11 فی صد زائد ووٹ حاصل کیے۔ خیال رہے کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لیے جمعرات کو ووٹنگ ہوئی تھی۔

صادق خان 2016 میں پہلی مرتبہ لندن کے میئر منتخب ہوئے تھے۔ ماہرین اس الیکشن کو صادق خان کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے تھے۔ خاص طور پر گزشتہ برس لندن میں چاقو سے حملوں کے واقعات اور جرائم کی شرح میں اضافے پر اُنہیں تنقید کا سامنا تھا۔

صادق خان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بطور میئر اُن کی کارکردگی نے اُن کے تیسری مرتبہ منتخب ہونے کی راہ ہموار کی ہے جس میں گھروں کی تعمیر، ٹرانسپورٹ اخراجات میں کمی، چھوٹے بچوں کے لیے اسکولز میں مفت کھانا اور خاص طور پر اقلیتوں کے حوالے سے اُن کی پالیسیاں قابلِ ذکر ہیں۔ صادق خان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے لندن میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کو نظر انداز کیا۔ شہر میں اینٹی کار پالیسی اور ویک اینڈز پر فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں کی اجازت دی۔

انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد خطاب کرتے ہوئے صادق خان کا کہنا تھا کہ ہمیں مسلسل منفی مہم کا سامنا تھا۔ لیکن مجھے خوشی ہے کہ ہم نے خوف کا جواب حقائق کے ساتھ، نفرت کا جواب امید کے ساتھ اور تقسیم کرنے کی کوششوں کا متحد ہو کر جواب دیا۔

ہفتے کو ہونے والے انتخابات میں لیور پول، گریٹر مانچسٹر اور ویسٹ یارک شائر سے بھی لیبر پارٹی کے میئرز دوبارہ منتخب ہو گئے۔ ماہرین کے مطابق لیبر پارٹی کے لیے بلدیاتی انتخابات میں سب سے اچھا رزلٹ ویسٹ مڈلینڈ میں رہا، جہاں سے کنزرویٹو اُمیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔