امن معاہدہ ماننے کےباوجود رفح میں اسرائیلی فوج کا آپریشن

  • منگل 07 / مئ / 2024

اسرائیلی رہنماؤں نے غزہ کی پٹی کے شہر رفح میں فوجی آپریشن کی منظوری دے دی ہے،جس کے بعد اب اسرائیلی فورسز اس علاقے میں اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

رفح میں زمینی فوجی حملے کی خبر حماس کی جانب سے مصر اور قطر کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے ایک بیان میں حماس کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدےکی تجویز منظور کرنے کے اعلان کے حوالے سے کہا ہے کہ مذکورہ تجویز اسرائیل کے ضروری مطالبات سے کہیں دور ہے۔ لیکن دفتر کا کہنا تھا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق بات چیت جاری رکھنے کے لیے مذاکرات کاروں کو بھیجے گی۔

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک رفح پر زمینی حملے کی مخالفت کرے گا جب تک اسرائیل وہاں کے شہریوں کے تحفظ کے لیے کوئی قابل اعتماد منصوبہ پیش نہیں کرتا۔ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فورسز کے حملوں اور بمباری سے بچنے کے لیے 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے رفح کے علاقے میں پناہ لے رکھی ہے اور ان میں سے اکثر عارضی خیموں میں رہ رہے ہیں۔

حماس کی جانب سے عارضی جنگ بندی کی تجویز قبول کرنے کے اعلان کے بعد رفح میں فلسطینیوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔ لیکن اس اعلان کے چند گھنٹوں کے بعد اسرائیلی فورسز نے رفح میں آپریشن شروع کر دیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ رفح حماس کے جنگجوؤں کا آخری مضبوط گڑھ ہے اور وہ حماس کو ختم کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کی اس تجویز پر، جسے حماس نے قبول کرنے کا اعلان کیا ہے، غور کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے ردعمل میں شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 35 ہزار تک پہنچ چکی ہے جن میں دو تہائی سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حماس کے عسکری گروپ کے خلاف کارروائیوں میں اب تک 13 ہزار جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم اس نے اپنے دعوے کے ثبوت میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔

اقوام متحدہ اور دیگر امدادی ادارے کئی بار یہ انتباہ کر چکے ہیں کہ رفح میں زمینی فوجی حملے سے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خطرہ ہے اور ایک بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔