9 مئی کی برسی اور آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس
- تحریر مختار چوہدری
- بدھ 08 / مئ / 2024
جب سے پاکستان ایک ملک کی حیثیت سے معرض وجود میں آیا ہے اور پھر جب سے ٹوٹ کر بقایا پاکستان قائم ہوا ہے، تب سے ہی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ، سیاستدانوں ، بیوروکریٹس اور اعلی عدلیہ نے کبھی عوام تک درست معلومات نہیں پہنچنے دیں۔ عوام کو کئی طریقوں اور مختلف بیانیوں سے بے وقوف بنایا جاتا رہا ہے۔ ایوانوں میں اور چٹانوں پر جو ہوتا ہے، عوام کو اس کی بھنک نہیں ہونے دی جاتی۔ پاکستان پر کتنے سانحات گزر گئے، آج تک ان پر بنائے کمیشنوں اور کمیٹیوں کی کوئی رپوٹ سامنے آئی نہ کسی کا کوئی فیصلہ ہوا۔ ہر دور کے سیاستدانوں پر بدعنوانی اور غداری کے الزامات لگے، مقدمات بنائے گئے۔ سیاستدانوں کو کئی کئی برس جیلوں میں بند کیا گیا مگر کسی سے لوٹی ہوئی رقم برآمد کی جا سکی، نہ کسی کو قانون کے مطابق سزا دی گئی۔ اگر کچھ لوگوں کو سزائیں دی بھی گئیں تو بعد میں ڈیل کرکے تھوکا چاٹ لیا گیا۔
گزشتہ روز سپریم کورٹ میں بھی یہ گونج سنائی دی ہے کہ عدالتوں میں مداخلت ہوتی ہے۔ ایک جسٹس صاحب نے ریمارکس دیئے کہ 76 برس سے پاکستان کے ساتھ جھوٹ بولے جا رہے ہیں۔
اب وقت بدل گیا ہے
دنیا کا ہر عقل مند یہ جانتا ہے کہ وقت اپنی رفتار سے چلتا ہے اور وقت کبھی رکتا ہے نہ ایک جیسا رہتا ہے۔ اس وقت دنیا حقیقت میں ایک گول گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب آ چکا ہے۔ گو کہ پاکستانی عوام بشمول نوجوان نسل ابھی تک اپنی سوچ کے زاویوں کو پورا گھما نہیں رہے ہیں لیکن پھر بھی دنیا میں گھومنے والے پاکستانی، پڑھے لکھے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والے نوجوانوں پر بہت کچھ عیاں ہو چکا ہے۔ کیونکہ اب وہ زبانی جمع خرچ پر یقین کرنے والے ہیں نہ جھوٹ سے ان کو لبھایا جا سکتا ہے۔
پاک فوج کا ادارہ عوام سے رابطے کا جو کام کرتا ہے جسے انگریزی حروف میں آئی ایس پی آر کہا جاتا ہے، یہ پچھلے کچھ عرصے سے وضاحتیں دینے میں مصروف ہے۔ گزشتہ روز اس ادارے کے سربراہ نے جو پریس کانفرنس کی ہے، اس سے لگ رہا تھا کہ وہ بہت غصے میں تھے اور پاکستان کی اکثریتی جماعت کو ایک انتشاری ٹولہ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ان سے بات نہیں ہو سکتی کیونکہ انہوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، فوجی سربراہان پر دشنام طرازی کی اور عوام کو فوج سے متنفر کیا ہے۔ ساتھ ہی عدالتوں کو اشارہ کیا کہ ان انتشار اور شر پسندوں کو جلد سے جلد سزائیں دی جائیں۔
جناب والا آپ عمران خان اور اس کی جماعت کے لوگوں کو سخت سے سخت سزائیں دیں اور دلوائیں اس سے راقم کو کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ میرا اس جماعت سے کوئی تعلق ہے نہ میں کسی لیڈر کو اس ملک کے لیے ناگزیر سمجھتا ہوں۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ملک نظام، آئین، قانون کی بالادستی اور اداروں کے ساتھ چلتے اور ترقی کرتے ہیں۔ کوئی شخص ناگزیر نہیں ہوتا لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ملک عوام کی ملکیت ہوتا ہے اور عوام ہی کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ جسے چاہیں اسے ملک کی باگ دوڑ تھما دیں اور اس وقت ملکی عوام کی اکثریت آپ کی بات سے اختلاف رکھتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟
کیا آپ نے اچھی طرح سوچ لیا ہے کہ کہیں آپ سے کوئی بھول چوک تو نہیں ہوئی ہے؟ کیونکہ اب کچھ لوگ حقائق کو سمجھ رہے ہیں۔ زمینی حقائق آپ کے بیانات کی تصدیق نہیں کر رہے ہیں۔ 9 مئی کو ایک سال بیت گیا ہے، ابھی تک اس پر کوئی عدالتی کمیشن بنا نہ اس سانحہ کے پیچھے چھپے محرکات کو سامنے لایا جا سکا۔ راقم پی ٹی آئی کے اس موقف کو بھی ہر گز تسلیم نہیں کرتا کہ 9 مئی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ کیونکہ پی ٹی آئی کے لوگ جلوس لے کر لاہور کور کمانڈر ہاؤس سمیت مختلف شہروں میں فوجی عمارتوں کی طرف گئے اور اپنے لیڈر کی گرفتاری کا سارا غصہ فوج پر نکالا۔ ہو سکتا ہے کہ اس موقع پر پی ٹی آئی مخالف قوتوں نے آگے بڑھ کر ایسی کارروائیاں کی ہوں جن سے پی ٹی آئی اور فوج کے بیچ دشمنی پیدا کی جا سکتی تھی۔ لیکن بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے یہ موقع خود اپنے مخالفین کو فراہم کیا، ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ پی ٹی آئی کے اپنے جوشیلے کارکنان کور کمانڈر ہاؤس کے اندر داخل ہوئے۔ انہوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے اور فوج کو برا بھلا کہا جسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔
اگر عمران خان کو غلط گرفتار کیا گیا تھا تو اس کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ ہو سکتی تھی اور بڑے پیمانے پر پر امن احتجاج بھی ہو سکتا تھا۔ لیکن براہ راست پاک فوج یا کسی ریاستی ادارے پر حملہ قطعی طور پر ناقابل قبول اور قابل مذمت ہے۔ اور ہم جنرل صاحب کی اس بات کی پر زور تائید کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو معافی مانگنی چاہیے اور آئندہ ایسے اقدامات نہیں ہونے چاہئیں۔ لیکن کیا ہمارے جنرل صاحبانِ بھی اپنی غلطیوں کا جائزہ لیں گے اور قوم سے معافی مانگ کر وعدہ کریں گے کہ آئندہ ایسی غلطیوں سے اجتناب کیا جائے گا جو ملک اور قوم کے لیے نقصان دہ ہوں گی؟
جناب والا آپ کے ادارے کے سربراہان نے قیام پاکستان سے اب تک جتنے سیاستدانوں کو ملعون کیا، ان پر غداری اور کرپشن کے الزامات لگا کر ان کو حکومتوں سے نکالا، انہیں جیلوں میں ڈالا یا جلاوطن کیا اور بعد میں ان پر لگے الزامات ثابت نہ ہوئے۔ کیا آپ ان سے معافی مانگیں گے؟ کیا اس ملک پر لگائے گئے مارشل لا جائز تھے؟ کیا آپ کو سقوط ڈھاکہ پر معافی نہیں مانگنی چاہیے تھی؟ جناب والا میاں نواز شریف سمیت کون سا سیاستدان ہے جسے آپ کے ادارے نے لانچ نہ کیا ہو؟ جن سیاستدانوں کو آپ خود لے کر آتے ہو، وہی بعد میں کرپٹ اور ریاست دشمن نکلتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے.؟ اب جبکہ میاں نواز شریف اور ان کا خاندان 2017 کے لگائے گئے تمام الزامات سے بری ہو چکے ہیں، کیا آپ کا ادارہ نواز شریف کو حکومت سے نکالنے، جیل میں ڈالنے اور جلا وطن کرنے پر ندامت محسوس کرتا ہے اور معافی مانگنے پر تیار ہے؟
جناب والا موجودہ انتشاری ٹولے کو کون لے کر آیا تھا؟ اس ٹولے کے سربراہ کو صادق و امین قرار دلوانے کے پیچھے کون سی طاقت تھی؟ کیا کوئی اپنی اس غلطی پر معافی مانگنے کو تیار ہے؟ جناب والا گستاخی معاف افغان جہاد میں شرکت کا فیصلہ کس کا تھا اور اس کی قیمت کیا تھی اس نقصان کی تلافی کون کرے گا اور اس کی معافی کون مانگے گا؟ جناب والا ہم ایک غریب اور مقروض ملک کے لوگ ہیں، کیا ہم کور کمانڈر ہاؤسز کی عیاشی کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ دنیا میں کتنے ممالک میں ایسے کور کمانڈر ہاؤسز ہیں؟ جناب ہم اپنی فوج سے لازوال محبت کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پاک فوج میں شامل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہم فوج کو عوام اور عوام کو فوج سمجھتے ہیں۔ ہم فوج اور پاکستان کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں۔ ہم اپنی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہم فوج کو پاکستانی عوام سے الگ دنیا میں نہیں دیکھنا چاہتے، ہم فوج اور عوام میں خلیج پیدا ہوتی نہیں دیکھنا چاہتے۔ اسی لیے سوال کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم ایک رہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے فوجی سربراہان ریٹائرمنٹ کے بعد ہم ہی میں رہیں۔ ہم ان سے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔
تحریر کی طوالت کو دیکھتے ہوئے کئی سوالات کو دل ہی میں رہنے دیتے ہیں۔ بس آخر میں اتنی گزارش ہے کہ پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتیں اور ان کی قیادت آپ کے پاؤں میں بیٹھنے کو تیار ہیں مگر انہیں اقتدار چاہیے۔ آپ جن کو اقتدار میں سے حصہ دیتے ہیں، وہ آپ کے گیت گاتے ہیں اور جن کو آپ راندہ درگاہ کر دیتے ہیں، وہ پھر ووٹ کو عزت دو یا حقیقی آزادی کے نعرے لگاتے ہیں۔ اور بعض اوقات اپنی اوقات سے نکل جاتے ہیں۔
مگر یہ عوام آپ کے دشمن ہیں نہ ریاست کے دشمن، اس لیے آپ اپنے ادارے کے معاملات دیکھیں اور جمہور کو ملکی فیصلے کرنے دیں۔ اگر ہندوستان میں ایک چائے والا ملک کو آگے لے جا سکتا ہے تو آپ بھی اپنے عوام پر بھروسہ کیجیے، آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔