شمالی وزیرستان میں پاکستانی فورسز پر حملوں میں سات اہلکار جاں بحق

  • ہفتہ 11 / مئ / 2024

افغانستان سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں تین مختلف واقعات میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے نتیجے میں سات اہلکار جاں بحق اور چھ زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق عسکریت پسندوں کے حملوں میں ایک اہلکار کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔ زخمیوں کو بنوں کے فوجی اسپتال منتقل کر دیا ہے جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ  نے فوری طور پر ان واقعات کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ البتہ شمالی وزیرستان کے سول، پولیس اور دیگر سیکیورٹی عہدیداروں نے عسکریت پسندوں کے حملوں کی تصدیق کی ہے۔

حکام نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز پر پہلا حملہ تحصیل دتہ خیل کے علاقے حسن خیل میں ہوا جس میں پانچ اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے جب کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک اہلکار لاپتا بھی ہو گیا ہے۔ دہشت گردی کا دوسرا واقعہ شمالی وزیرستان کے دوسرے بڑے قصبے میر علی میں پیش آیا جہاں مبینہ عسکریت پسندوں نے سیمان چیک پوسٹ پر جدید خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

اس حملے میں حکام نے دو سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ حکام نے بتایا کہ دہشت گردی کا تیسرا واقعہ میرعلی سب ڈویژن کے علاقے اسپین وام میں بارودی مواد یا بموں کو ناکارہ بنانے والے بم ڈسپوزل اسکواڈ پر ہوا جو کہ دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم سے کیا گیا تھا۔

اس حملے میں مالی اور جانی نقصان کے بارے میں مزید تفصیلات اب تک سامنے نہیں آئی ہیں۔ شمالی وزیرستان میں حالیہ عرصے کے دوران نہ صرف سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ نامعلوم مسلح ملزمان کی جانب سے کارروائیاں بھی بڑھ گئی ہیں۔

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب میر علی سب ڈویژن کی تحصیل شیواہ میں دہشت گردوں نے لڑکیوں کے نجی اسکول کو بارودی مواد سے تباہ کر دیا تھا۔