جماعت اسلامی کی نومنتخب امارت (2)

عنوانِ بالا کے تحت پچھلی قسط میں ہم نے جماعت اسلامی کی نظریاتی پختگی یا شدت کا جائزہ لیتے ہوئے مولانا مودودی مرحوم اوران کے جانشین میاں طفیل محمد سے لے کر ان کے بعد جماعتی امارت پر فائز ہونے والی چاروں شخصیات قاضی حسین احمد، سید منور حسن، سراج الحق اور حافظ نعیم الرحمن کا اجمالاً تذکرہ کیا تھا۔

اور یہ بھی کہ جماعت کے اندر قیادت پر فائز ہونے کا طریقِ کار کیا ہے؟ جماعت اسلامی ایک طرف جمہوریت کی علمبردار و دعویدار ہے۔ دوسری طرف جمہوریت کے مروج ومسلمہ ضوابط کی نفی کرتی ہے جیسے کہ کسی بھی شخص کا کسی بھی عہدے کے لیے کھڑے ہونا اور اپنی انتخابی مہم چلانا جماعت کی نظر میں نجویٰ، گناہ یا خلافِ اسلام فعل ہے۔ اسی طرح جماعت کے حلقوں میں علامہ اقبال کے وہ تمام اشعار جو جمہوریت کی مخالفت یا نفی میں وارد ہوئے ہیں یا جن میں جمہوریت کا مذاق اڑایا گیا ہے خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھے سنے جاتے ہیں۔ بالخصوص اقبال کا یہ زبان زدِ عوام و خوص شعر:
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تو لا نہیں کرتے

مطلب کہ حکومت سازی میں ایک پڑھے لکھے قابلِ حضرت صاحب یا مفتی صاحب کی رائے کو فوقیت ہونی چاہیے، کسی بھی ان پڑھ، مزدور، کسان یا عامی پر۔ دوسرے الفاظ میں بندگانِ خدا کو گننا نہیں تولنا چاہیے۔ اب اس ترازو یا میزان کا معیار کیا ہوگا یہ بھی ایک الگ طویل بحث ہے جس کی تان اس لے پر ٹوٹتی ہے کہ جمہوریت ایک ابلیسی نظام ہے:
جمہور کے ابلیس ہیں اربابِ سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہ افلاک

یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی میں اپنے امرا کو منتخب کرنے کا حق عام کارکنان کو حاصل نہیں ہے بلکہ ایک مخصوص نظریاتی پراسس اور معیار پر تقویٰ سے گزر کر آنے والے اراکین کو ہے۔ اور کوئی بھی شخص کسی بھی عہدے کے لیے نہ خود کھڑا ہوسکتا ہے، نہ اپنی انتخابی مہم چلاسکتا ہے۔ جنرل ضیا الحق مرحوم چونکہ نظریاتی طور پر جماعتِ اسلامی کے متاثرین میں سے تھے، اس لیے صدر منتخب ہونے کے لیے انہوں نے جو ریفرنڈم کروایا تھا، عام لوگوں کو سمجھ نہیں آئی تھی کہ انہوں نے اپنے لیے کیوں ایک سوال جاری فرمایا تھا۔ کہ کیا آپ پاکستان میں اسلامائزیشن پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے نفاذ کا پراسس جاری دیکھنا چاہتے ہیں؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ میں پانچ سال کے لیے آپ کا صدر منتخب ہوگیا ہوں۔ درویش اس امر کا جائزہ بھی پیش کرنا چاہتا ہے کہ جنرل ضیا الحق  نے جماعت کی جتنی خدمت کی ہے، اپنی تمامتر ہمدردیوں اور تعاون کے باوجود کوئی اور جنرل اتنی بھلائی نہیں کرسکا ۔

ہمارے عام لوگوں حتیٰ کہ پڑھے لکھے بہت سے صحافیاں کرام کو بھی جماعتِ اسلامی یا اس کے بانی محترم کی کنٹرولڈ ڈیموکریسی یا شورائیت کا زیادہ ادراک نہیں ہے۔ اس لیے انہیں سمجھ نہیں آتی کہ جماعت اپنی اتنی طویل سیاسی جدوجہد کے باوجود آج تک کیوں کبھی یہاں جمہوری یا انتخابی کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔ پہلے تو پھر بھی مختلف النوع سیاسی و جمہوری اتحادوں کا حصہ بن کر کچھ نہ کچھ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی تھی مگر جب سے جماعت نے اپنا مخصوص سیاسی وجود منوانے کے لیے تنہا پرواز کی روش اپنائی ہے سیاسی کامیابی اس سے مزید دور چلی گئی ہے۔ اب احتجاجی سیاست یا سٹریٹ پاور میں تو پھر بھی جماعت کا کچھ نہ کچھ وزن ہے، مروجہ انتخابی سیاست یا بیلٹ باکس میں اسے پیہم جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس سے جماعت کی سیاسی اہمیت ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ ہر قومی الیکشن کے بعد جماعت اپنے تئیں یہ خیال کرتی ہے کہ شاید آخری ہو ان کی یہ شکست اور شاید لوگ آئندہ ہماری عظمت کا سکہ مان لیں، بس ہر شکست یہ سوچ کر ہم سہہ گئے۔

درویش کی نظر میں جماعتی زعما کو بلاآخر یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ یا تو وہ فکرِ آخرت کے تحت دعوتی و تبلیغی گروہ کے طور پر اپنے محدود رول پر اکتفا کریں یا مولانا مودودی کی نظریاتی شدت سے باہر نکل کر سیدھے سبھاؤ ایک جمہوری سیاسی جماعت بنیں جس کے لیے ان کے سامنے واجپائی اور مودی جی کی بی جے پی کی اٹھان رول ماڈل ہو سکتی ہے۔ کیونکہ پاکستان میں ایران، افغانستان یا سعودی عرب کا مذہبی و سیاسی ماڈل نہیں اپنایا جاسکتا۔

برٹش انڈیا میں ہمارے لوگوں کی جو ذہنی ٹریننگ ہوئی ہے اس میں ہم عرب و عجم یا دیگر خطوں کی بجائے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے زیادہ قریب ہیں۔ بی جے پی آج انڈیا میں اپنا جو مخصوص چورن بیچنے میں کامیاب ہوئی ہے تو اس کا اعزاز روایتی ہندو سویلائزیشن کو نہیں بلکہ ہماری راسخ العقیدگی پر مبنی مسلم شدت کو جاتاہے جس سے آج کانگرس خود کو انرگ اور باجپا سورگ میں محسوس کررہی ہے۔

درویش کا یہی گمان ہے کہ حالات کا جبر بالآخر جماعت کی قیادت کو مجبور کردے گا کہ وہ بلند ہواؤں میں اڑنے کی بجائے زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اتحادی سیاست پر اکتفا کرلیں۔ اس خواب کو بھول جائیں کہ یہاں کوئی اسلامی انقلاب آئے گا یا اقتدار پکے ہوئے پھل کی طرح ان کی جھولی میں آن گرے گا۔ یا متناسب نمائندگی کا کوئی نیا ضابطہ وہ منواسکیں گے (جاری)