مستقبل کا راستہ تلاش کرنا ہوگا

پاکستان نے آگے بڑھنا ہے اور عوامی مفادات کو بالادست بناناہے تو موجودہ پالیسیوں کو خیرآباد کہنا ہوگا ۔ ماضی کی پالیسز پر قائم رہنے کی ضد سے ہمارے مسائل کسی بھی صورت میں حل نہیں ہوں گے۔

ماضی سے سبق سیکھ کر ہم آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرسکتے ہیں اور اپنی حکمت عملیوں میں ایسا کچھ کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں جو ہماری ساکھ قائم کرسکے۔ جو لوگ ماضی میں رہنا چاہتے ہیں، ان کا طرز عمل آگے بڑھنے کے راستوں کو محدود کرتا ہے ۔ ہمیں قومی مسائل کے حل میں خود کو مسائل کے حل کے طور پر بطور فریق پیش کرنا چاہیے ۔ یہ تاثر عام نہیں ہونا چاہیے کہ ہم مسائل کے حل کے بجائے اس میں بگاڑ پیدا کرنے میں اپنی توانائیوں کو ضایع کرتے ہیں ۔

کیا سیاسی طور پر یا دیگر مختلف فریقین کی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ الجھنا ہماری مجبوری بن گئی ہے اور کیوں ہم مل جل کر نہ تو کام کرنے کے عادی ہیں اور نہ مل کر کوئی ایسا منصوبہ بناتے ہیں جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ اس وقت ہمارا نظام ایک دوسرے کے ساتھ ہی الجھا ہوا ہے۔ ہر قوم پر ایک مشکل وقت ضرور آتا ہے اور بظاہر ایسے لگتا ہے کہ ہم کہیں گم ہوکر رہ گئے ہیں ۔ لیکن ایک اچھی اور متوازن قیادت ہی بحرانوں سے نکلنے کا راستہ تلاش کرتی ہے۔ غلطیاں سب سے ہوتی ہیں مگر ان غلطیوں پر قائم رہ کر ہم کچھ نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی ترقی کے عمل کو پورا کرسکیں گے ۔

سانحہ 9مئی ہماری تاریخ کا بدنما دن ہے ۔ کاش یہ سانحہ نہ ہوتا ۔ ہم اپنی سیاسی حکمت عملیوں میں غیر سیاسی حکمت عملیوں کو بنیاد بنا کر سیاسی مہم جوئی کو فروغ نہ دیتے۔  سانحہ 9مئی ہماری تاریخ میں کئی نشان چھوڑ گیا ہے اور ایک تقسیم کو پیدا کرنے کا سبب بنا ۔ اسی سانحہ کی بنیاد پر ہم آگے بڑھنے کے بجائے بظاہر ایک بہت ہی بڑے ڈیڈ لاک کا شکار ہوگئے ہیں اور عملاً ایک بند گلی ہماری را ہ دیکھ رہی ہے۔ سانحہ 9مئی میں کون غلط تھا اور کون درست اس پر اپنا اپنا بیانیہ ہے ، تلخیاں بہت بڑھ چکی ہیں۔

 سوشل میڈیا جلتی پر آگ کا کام کررہا ہے۔ مخصوص ایجنڈا رکھنے والے سوشل میڈیا گروہ ریاستی ادارے کو متنازعہ بنانے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ اس کی ایک جھلک ہم نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور پی ٹی آئی کی جوابی پریش کانفرنس کی صورت میں دیکھی ہے ۔ اب آگے بڑھنے کے راستے محدود ہوتے جارہے ہیں ۔

آگے کیسے بڑھنا ہے یہ سوال کہیں گم ہوگیا ہے۔ 9 مئی میں جو لوگ بھی ملوث ہیں اور جو لوگ بھی اس کی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں اور تحقیقات میں ان پر جرم ثابت ہوتا تو انہیں لازمی سزا ملبی چاہیے۔ ادھر عدلیہ میں سے بھی ایسی آوازوں کو سامنے نہیں آنا چاہیے کہ ہم پر دباؤ ہے اور ہمارے کام میں مداخلت ہورہی ہے۔ میں قومی سیاست میں مفاہمت کا آدمی ہوں اور سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر ہی مسائل کا حل تلاش کرنے پر زور دیتا ہوں ۔

کچھ لوگوں کے خیال میں مفاہمت کے امکانات بہت محدود ہیں لیکن اس کے باوجود میں نہ تو مایوس ہوں اور نہ ہی مفاہمت کے بیانیہ سے باہر نکلنے کے لیے تیار ہوں۔ ہمیں مجموعی طور پر موجودہ سیاسی ، معاشی اور سیکیورٹی کے حالات سے نمٹنے اور بہتر گورننس کے نظام کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑے گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ یہ ڈائیلاگ ایک یا دوفریقوں تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ اس میں سیاسی اور غیر سیاسی سب کو مل کر بیٹھنا بھی ہوگا اور ایک دوسرے کے لیے ان کو راستہ بھی دینا ہوگا۔

تاریخ کا یہ ہی سبق ہے کہ مسائل کے حل کا جنگ نہیں امن ہے۔ حکومت میں شامل جماعتوں کو لگتا ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان تلخیاں، ان کی جیت ہے ۔ کیونکہ اگر ان دونوں میں ٹکراؤ کا ماحول موجود رہے گا تو اس کا براہ راست سیاسی فائدہ حکومتی طبقہ کو ہی ہوگا۔ لیکن یہ فائدہ وقتی تو ہوسکتا ہے مگر اس کے نتائج مستقبل کی سیاست کے تناظر میں اچھے نتائج نہیں ہوں گے ۔ اس لیے پاکستان میں رائے عامہ بنانے والے افراد یا ادارے جن میں سول سوسائٹی ، میڈیا، دانشور، اہل قلم ، استاد ، علمائے کرام اور سیاسی جماعتیں یا وکلا شامل ہیں ان کو اپنے اپنے ذاتی سیاسی ایجنڈے اور سیاسی خواہشات کے کھیل سے خود کو بھی نکالنا ہے اور دیگر کو بھی نکالنا ہے۔

ہم سب کو ایک ہی نکتہ پر زور دینا چاہیے کہ ایک دوسرے کے لیے راستہ نکالنا ہے ۔ سخت گیر موقف یا اپنے موقف میں بغیر کسی لچک کے کھڑے رہنا کوئی دانش مندی نہیں بلکہ اس عمل سے مفاہمت کے امکانات محدود ہوں گے ۔ جب کہ ہمارا قومی ایجنڈا ایک مضبوط سیاست و معیشت کے لیے سوائے حقیقی مفاہمت کے علاوہ کوئی ایجنڈا ہماری ترجیح نہیں ہونا چاہیے ۔