آزاد کشمیر میں احتجاج جاری، سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے بند
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر مہنگائی کے خلاف احتجاج منظم کرنے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
کمیٹی نے احتجاجی لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مظفر آباد میں بازاروں میں تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں جب کہ سرکاری عمارات بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب حکومت اور لانگ مارچ منظم کرنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں مذاکرات ہوئے جن میں کمیٹی نے حکومت کی کسی بھی یقین دہانی کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
کمیٹی نے لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ لانگ مارچ میں شریک قافلوں نے راولاکوٹ سے مظفرآباد کی طرف سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ کشمیر میں حکومت نے لانگ مارچ کے پیش نظر 13 مئی کو مظفرآباد میں سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دی گئی تھیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے موبائل انٹرنیٹ سروسز کے بعد اب موبائل فون سروس بھی معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کشمیر کی صورتِ حال پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس اسلام آباد میں طلب کر لیا ہے۔ پیر کو ہونے والے اجلاس میں کشمیر حکومت کے اعلیٰ حکام کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ قبل ازیں سوشل میڈیا پر ایک بیان میں شہباز شریف نے صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مطالبات کے حل کے لیے پرامن لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔
واضح رہے کہ اتوار کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری احتجاجی لانگ مارچ میں شریک قافلے موسم کی خرابی کے باوجود راولاکوٹ شہر پہنچے تھے۔ کشمیر میں احتجاج کا یہ سلسلہ تین روز قبل شروع ہوا تھا۔ احتجاج میں کئی مقامات پر پر تشدد مظاہرے ہو چکے ہیں جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور کئی درجن مظاہرین زخمی ہوئے۔
بجلی کی قیمتوں میں کمی اور گندم کے آٹے کی قیمت پر سبسڈی کی فراہمی کے مطالبات پر احتجاج کو منظم کرنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ مختلف شہروں میں پولیس نے کئی درجن مظاہرین کو گرفتار بھی کیا ہے۔ کشمیر میں احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ایک سال سے جاری ہے۔ اس دوران حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہو چکے ہیں تاہم یہ مذاکرات نتیجہ خیز نہیں رہے۔