آزاد کشمیر میں مہنگی بجلی اور آٹے کے خلاف ہڑتال ختم ہوگیا

  • منگل 14 / مئ / 2024

آزاد کشمیر میں مہنگی بجلی اور آٹے کے خلاف شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال آج 5ویں روز ختم ہوگئی۔ مطالبات کی منظوری کے بعد جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے احتجاج ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے تمام گرفتار افراد کی فوری رہائی اور احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین نے ذمہ داروں کو سزا دینا کا بھی مطالبہ کردیا۔

اس موقع پر شہدا کے خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور شہدا کے بلند درجات کے لیے دعا کی گئی۔

گزشتہ روز عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آزاد کشمیر میں مہنگی بجلی اور آٹے کے خلاف شٹرڈاؤن ہڑتال کے دوران کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ بند رہے جبکہ مختلف علاقوں سے احتجاجی قافلے مظفرآباد پہنچنے پر صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی۔ مظاہرین کی پولیس اور رینجرز سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔

وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے 23 ارب روپے کی منظوری دے دی تھی جس کے بعد بجلی اور روٹی کی قیمتوں میں کمی کر دی گئی۔ وزیراعظم کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی صورتحال پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں آزاد کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے 23 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا جس میں آزاد کشمیر حکومت، وزارت داخلہ کے نمائندے اور دیگر اہم حکام شریک ہوئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ 4 روز سے آزاد کشمیر میں سستی بجلی اور سستے آٹے کی فراہمی کے لیے جاری احتجاج اور ہڑتال کے دوران مشتعل مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے آگئے تھے جس کے دوران پتھراؤ کے جواب میں پولیس نے آنسوگیس کی شیلنگ کردی تھی۔

جمعرات کو چھاپوں کے دوران کم از کم 70 افراد کی گرفتاری کے بعد جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ ہڑتال اور احتجاج کے باعث آزاد کشمیر بھر میں تمام کاروباری مراکز، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند تھے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے بروقت نوٹس نے ہمیں ایک سانحے سے بچالیا، جس کی وجہ سے دشمن کی سازش ناکام ہوگئی۔ آزاد کشمیر میں مظاہرین کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔ میں سمجھتا ہوں یہ حکومت کی کامیابی ہے کہ کسی بڑے نقصان کے بغیر آزاد کمشیر میں ہڑتال ختم ہوئی اور مظاہرین منتشر ہوگئے۔