آئی ایم ایف کا ٹیکس ہدف 11 ہزار ارب روپے سے بڑھانے کا مطالبہ

  • جمعرات 16 / مئ / 2024

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان نئے قرض پروگرام کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جس میں نئے مالی سال کے دوران محصولات میں ایک ہزار ارب روپے سے زائد اضافے پر بات چیت کی گئی۔

ڈان نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف آئندہ مالی سال کے دوران محصولات کا ہدف 11 ہزار ارب روپے سے زائد چاہتا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے نئے اقدامات کے بارے میں وزارت خزانہ کو بریفنگ دی گئی، آئی ایم ایف نے زرعی آمدن کو بھی انکم ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کا مطالبہ کیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی میں زراعت کا 24فیصد حصہ ہے۔ زرعی آمدن کو نارمل انکم ٹیکس کے دائرے میں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر بھی آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پنشن پر بھی انکم ٹیکس کی چھوٹ ختم کی جائے۔

اسی طرح نان فائلرز کے لیے ٹیکس کے ریٹ مزید بڑھانے پر بھی آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے پر بھی انکم ٹیکس کے سلیب میں نظرثانی کرنے اور لگژری اشیا کی درآمد پر بھی ٹیکسوں میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے آئی ایم ایف کو خصوصی سرمایہ کاری کونسل (ایس آئی ایف سی) کے آپریشنز میں شفافیت کی یقین دہانی کرائی تھی۔

ایس آئی ایف سی میں سرمایہ کاری پبلک انویسٹمنٹ مینجمنٹ فریم ورک کے تحت کی جائے گی۔ ایس آئی ایف سی فورم کے ذریعے سرمایہ کاری کے غیر مساوی مواقع پیدا نہیں ہوں گے۔ واضح رہے کہ 10 مئی کو پاکستان کے ساتھ نئےقرض پروگرام پر مذاکرات کے لیے پہلے مرحلے کے لیے آئی ایم ایف کی تکنیکی ماہرین کی ٹیم پاکستان پہنچی تھی۔

نئے قرض پروگرام پر مذاکرات کا آغاز 15 مئی سے شیڈول ہے۔ آئی ایم ایف مشن چیف نیتھن پورٹر وفد کی قیادت کریں گے۔