بہت خوبصورت امی جان اور ان کے بہت سے دکھ

ماں کسی کی بھی ہو ہمیشہ خوبصورت ہوتی ہے اور ہمیشہ دکھ جھیلنے کے لیے ہی اس دنیا میں‌آتی ہے ۔ شاکر کی امی تو بہت خوبصورت تھیں ‌اور اسی لیے بہت سے دکھ جھیل کر آج اس جنت کی طرف روانہ ہو گئیں جو ان کے قدموں کے نیچے تھی ۔

میں نے امی کو پہلی بار کالج کے زمانے میں دیکھا تھا ۔ شاید 1981 کے ستمبر اکتوبر کی بات ہو گی جب یہ فیملی خونی برج سے چاہ بوہڑ والا منتقل ہوئی تھی ۔ میں خود ابھی جلیل آباد والے گھر میں نہیں آیا تھا اور کینٹ والے گھر میں ہی رہتا تھا ۔ ایک روز کالج سے سائیکل پر شاکر کو گھر چھوڑنے گیا تو امی نے دروازہ کھولا تھا ۔ اب یاد نہیں کہ میں اس روز شاکر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا یا نہیں لیکن امی کا وہ دروازہ کھولنا میرے ذہن میں اسی طرح نقش ہے ۔

بعد کے دنوں میں بارہا شاکر کا ڈرائینگ روم میرا مسکن رہا اور ہر مرتبہ امی نے پنجابی میں بہت محبت کے ساتھ میرا حال پوچھا ، میری امی کی خیریت دریافت کی ۔ ایک اپنائیت اور محبت ان کی گفتگو سے والہانہ چھلکتی تھی۔ ہمیشہ وہ مجھے دعا دیتی تھیں فرداً فرداً سب کا نام  لے کر خیریت دریافت کرتی تھیں ۔ میری بہن کیسی ہے ؟ بھائی کہاں ہوتا ہے ؟ آتا ہے تو ان سے ملے بغیر کیوں چلا جاتا ہے ؟ یہ سب سوال تھے جن کے جواب مجھے امی کو دینے ہوتے تھے ۔

پھر ہم 1983 میں کریم منزل سے جلیل آباد منتقل ہو گئے تو شاکر کے ساتھ محلے داری بھی ہو گئی ۔ اب میرے گھر کی گلی سے نکلتے ہی شاکر کے گھر کا دروازہ دکھائی دیتا تھا ۔ جس علی منزل میں شاکر  نے کئی سال بسر کیے، اسی علی منزل کا مرکزی دروازہ چاہ بوہڑ والا کی جانب تھا اور عقبی دروازہ جلیل آباد میں کھلتا تھا ۔ اندر ایک طویل راہداری تھی جس میں یہ سارا خاندان ایسے رہتا تھا جیسے موتیوں کی مالا پروئی ہو ۔ جب ہم جلیل آباد میں آ گئے تو پھر میری امی بھی شاکر کے گھر تواتر سے جانے لگیں۔ اور علی منزل سے بچے اور بچیاں قرآن پاک پڑھنے کے لیے ہمارے گھر آنے لگے ۔

میں 22 رجب کی نیاز صبح سویرے شاکر کے گھر جا کر ڈپٹی شاہ کے ساتھ کھاتا تھا۔ (ڈپٹی شاہ ایک درویش صفت ہستی تھی جنہیں شاکر کے گھر کے فرد کی حیثیت حاصل تھی) ربیع الاول کا مہینہ ہو یا محرم الحرام کی نیاز جلیل آباد آکر مجھے ان نیازوں کے دن بھی یاد ہو گئے ۔ یہ نیازیں‌ اس قدر لذیذ ہوتی تھیں‌کہ ہمیں ان کا انتظار رہتا تھا ۔ بیشتر پکوان امی کے ہاتھ کے بنے ہوتے تھے ۔ پلاؤ حلیم ، کھیر قورمہ ، ٹکڑیاں (جنہیں‌ہم مَٹھیاں بھی کہتے ہیں) ان سب میں امی کے خلوص اور بے لوث محبت کا ذائقہ شامل ہوتا تھا ۔ ہم سب ایک دوسرے کی خوشیوں اور دکھوں کا حصہ ہوتے تھے ۔ ۔ بعد کے دنوں‌میں جب عقائد نے رشتوں پر اثر انداز ہونا شروع کیا اور نیازوں کے
 ساتھ ذاکرین کرام کا رزق جڑ گیا تو میں نیاز کی ان محفلوں سے بے نیاز کر دیا گیا ۔ کچھ اس میں شاکر کا اس علاقے میں منتقل ہونا بھی وجہ بنا جہاں مجھ جیسا موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ کے بغیر تو بالکل نہیں جا سکتا ۔ لیکن پھر میں نے شاکر سے فرمائش کر کے نیاز منگوانا شروع کر دی۔ اور نیاز میں ذائقہ اس روز ختم ہوا جب امی میں نیاز بنانے کی سکت باقی نہ رہی ۔

یادوں کا ایک سیل ِ رواں ہے جو مجھے اپنے ساتھ بہائے چلا جا رہا اور مجھے یاد آ رہا ہے کہ حسین سحر کے ڈرائینگ روم میں جب میں رات بھر” اہلِ قلم“ کی کاپیاں جوڑتا اور شاکر سامنے بیٹھ کر جمائیاں لیتا تھا تو گھر سے امی کا ہی پیغام آتا تھا کہ تم لوگوں نے سونا نہیں اور سحر صاحب بھی تیزی سے سب کچھ سمیٹنے لگتے کہ باقی کام پھر سہی ۔

امی آخری دنوں میں جس تکلیف سے گزریں، اس نے ہمیں بہت آزردہ کیا ۔ میں کل ہی شاکر سے کہہ رہا تھا کہ ہمیں تکلیفوں سے بچانے والی ماؤں کی تکلیف ہمارے لیے بہت اذیت ناک ہوتی ہے ۔ شاکر سے تو میں امی کا حال کبھی کبھار ہی پوچھتا تھا کہ وہ ہمہ وقت ڈاکٹروں سے رابطوں میں الجھا رہتا تھا ۔ لیکن اگلے روز ثقلین اپنی دادو کا ذکر کرتا ہوا بہت آزردہ تھا ۔ امی 21 رمضان المبارک سے ہسپتال تھیں‌۔ عید پر انہیں گھر منتقل کیا گیا اور پچھلے کئی روز سے وہ کومہ میں تھیں اور ثقلین دکھ بھرے لہجے میں کہتا تھا کہ رضی انکل دادو  نے چپ سادھ لی ہے۔ وہ پچھلے ہفتے غصے اور تکلیف میں سہی لیکن بولتی تو تھیں۔۔ ہم سے ناراض تو ہوتی تھیں، ‌اب تو میں ان کے غصے کو بھی ترستا ہوں ۔

آج صبح دھاڑیں مارتے شاکر کے سر سے ہی ماں کا سایہ نہیں اٹھا، میں بھی امی کی دعاؤں سے محروم ہو گیا ۔ پہلے مجھے اپنی ماں کے ساتھ ساتھ شاکر کی امی کی دعائیں بھی میسر تھیں‌۔ آج میری دعائیں آدھی رہ گئیں‌۔ میری ہی نہیں ‌شاکر کی دعائیں بھی آدھی رہ گئی ہیں ۔ شاکر اپنی امی کی دعاؤں سے تو محروم ہوا لیکن میری ماں‌ تو میرے ساتھ ساتھ اس کے لیے بھی اسی طرح دعا گو رہتی ہے جیسے شاکر کی والدہ میرے لیے دعا گو رہتی تھیں‌۔

(ممتاز شاعر، ادیب اور دلنواز دوست شاکر حسین شاکر کی والدہ کے انتقال پر رضی الدین رضی کا گریہ)

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)