جماعت اسلامی کی منتخب امارت (3)

درویش اپنے سکول اور کالج کے دور سے ہی ذہنی و فکری طور پر جماعتِ اسلامی اور اس کے بانی مولانا مودودی کے ”مخصوص فہم اسلام“ اور ”مکمل ضابطۂ حیات“ پر ایمان لے آیا تھا۔ اس کے بعد مولانا مرحوم کی شاید ہی کوئی کتاب ہو جس میں اس نے مغز ماری نہ کی ہو۔

سلاجقہ سے لے کر سیرت سرور عالم تک بلکہ بالفعل یہ نونہال مولانا مودودی کے حضور پیش ہوا اور ان کی گفتگو کو سرمایۂ زندگی یا آبِ حیات خیال کیا۔ مودودی صاحب کے بعد ان کے جانشین محترم میاں طفیل محمد کے ساتھ تو بہت قربت رہی۔ گھنٹوں طویل ملاقاتیں ہوتیں موقع ملا تو اس کی تفصیلات ضرور پیش کی جائیں گی۔ ایک روز میاں صاحب کے بیٹے میاں زبیر کسی کو بتارہے تھے کہ ریحان صاحب اکثر والد صاحب کو ملنے کے لیے تشریف لاتے تو میں میاں صاحب کو ان کے پاس بٹھا کر چلا جاتا۔ ان کی باتیں گھنٹوں ختم نہ ہوتیں۔

مشرقی پنجاب کی ریاست کپورتھلہ کے میاں طفیل محمد جماعت اسلامی کے بانیان میں سے تھے۔ آپ زندگی بھر نہ صرف یہ کہ ذاتی و جماعتی حیثیت سے مولانا مودودی کے معتمد ترین ساتھی رہے بلکہ طویل عرصے تک 1944 تا 1966تک جماعتِ اسلامی کے جنرل سیکرٹری (قیم) کی حیثیت سے ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہے۔ مابعد مولانا مودودی کے نائب امیر قائم مقام امیر اور مغربی پاکستان کی جماعت کے امیر کی حیثیت سے سرگرم عمل رہے ۔ 1972 میں مولانا مودودی نے خرابئ صحت کا جواز پیش کرتے ہوئے امیر جماعت کا عہدہ چھوڑ دیا تو میاں طفیل محمد تب سے لے کر 1987 تک مسلسل جماعتِ اسلامی کے امیر منتخب ہوتے رہے۔

میاں صاحب کے آخری دور میں قاضی حسین احمد ایک اچھی خاصی مگر نادیدہ پلاننگ کے ساتھ اُبھر کر سامنے آرہے تھے۔ میڈیا میں بھی قاضی صاحب کا خاصا اثر و رسوخ تھا جسے وہ اپنے حق میں خوب استعمال کرتے۔ انہیں دیکھنے سننے اور سمجھنے کے کافی مواقع ملے اور اپنے تاثرات سے میاں صاحب کو بھی آگاہ کیے رکھا۔ میاں صاحب کا اندرونی جھکاؤ چوہدری رحمت الہٰی کی جانب تھا۔ میاں طفیل محمد کا قاضی حسین احمد سے کیا ذہنی و فکری بُعد تھا، اس کی تفصیلات پر ضرور کسی وقت اظہار خیال کیا جاۓ گا۔

بہرحال جب میاں صاحب نے اپنی مجلس شوریٰ سے پیہم اور بھرپور استدعا کی کہ شوریٰ، ارکان جماعت کی رہنمائی کے لیے جو تین نام بھیجے ان میں میرا نام شامل نہ کیا جائے کیونکہ میں اب مزید امیر جماعتِ اسلامی کی ذمہ داری یا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہوں۔ اس پر درویش نے میاں صاحب کو ایک بھرپور خط لکھا کہ ایک ٹرم کا بوجھ آپ مزید اٹھالیں اور ابھی چھوڑ کر نہ جائیں۔ جماعت کے ریکارڈ میں وہ خط ضرور کہیں موجود ہوگا۔ بہرحال میاں طفیل محمد صاحب کی طرف سے درویش کے اس خط کا جو جواب بھجوایا گیا وہ اتنا دلچسپ ہے کہ حرف بہ حرف یہاں پیشِ خدمت ہے:
عزیزم ریحان صاحب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
محترم میاں طفیل محمد صاحب کے نام آپ کا محبت نامہ ملا۔ انہوں نے آپ کا خط ۔جواب کے لیے میرے سپرد کر دیا ہے اس لیے میں آپ کو جواب تحریر کر رہا ہوں۔ آپ کے جذبات اور خیالات نہایت قدر کے قابل ہیں ۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے خیالات آپ سے ملتے جلتے ہیں اور کئی حضرات نے اس کا اظہار بھی کیا ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ محترم میاں طفیل محمد صاحب ۶۸-۱۹۶۷ سے وقفے وقفے کے ساتھ کئی مرتبہ قائمقام امیر جماعت رہے ہیں۔ ۱۹۷۲ کے انتخاب امارت کے موقعہ پر مولانا مودودی مرحوم و مغفور نے امارت کے منصب پر منتخب کیے جانے سے معذوری کا اظہار ارکان جماعت کے نام ایک خط لکھ کر کر دیا تھا۔ اس پر ارکان کی واضح اکثریت نے محترم میاں طفیل محمد صاحب کو پانچ سال کے لیے امیر جماعت منتخب کر لیا ۔ اس کے بعد ۱۹۷۷ میں انہیں دوسری بار اور ۱۹۸۲ میں انہیں تیسری بار امیر منتخب کر لیا گیا ۔ اس کے بعد ۱۹۸۳ سے ۱۹۸۷ تک ہر مجلس شوری یا مجلس عاملہ کے اجلاس کے موقع پر محترم میاں صاحب اپنی جسمانی کمزوری ، خرابئ صحت ، نظر اور عمر کی کیفیت کے پیش نظر اپنا عذر پیش فرماتے رہے کہ میں اب جماعت کی امارت جیسے اہم منصب کی ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ اس لیے آپ میری جگہ کوئی دوسرا امیر بنالیں لیکن ہر مرتبہ مجلس شوری یا مجلس عاملہ ملکی حالات کے پیش نظر محترم میاں صاحب کی درخواست کو قبول نہ کرتی رہی ۔ اب اپریل ۱۹۸۷ میں مجلس شوری کے اجلاس کے موقع پر محترم میاں صاحب نے فرمایا که میری عمر ۷۳ سال هو چکی هے اور مرکز میں کام کرتے ہوئے مجھے قریبا ۴۴ سال ہو رہے ہيں۔ میں اپنی عمر ، صحت اور قوائے جسمانی کے ضعف کی وجہ سے زیادہ مشقت برداشت نہیں کر سکتا اور پبلک کے اندر کام کرنے اور دورے وغیرہ کرنے کے قابل نہیں رہا ۔

اس پر اگلی صبح جماعت کے نائب امرا اور قیم جماعت قاضی حسین احمد صاحب نے محترم میاں صاحب کے گھر جا کر ان سے درخواست کی کہ وہ اپنی معذرت واپس لے لیں اور حسب سابق کام کرتے رہیں لیکن اس مرتبہ انہوں نے اپنی معذرت پر بہت اصرار کیا بلکه مجلس شوری کے اجلاس میں بتایا که یہ پانچ حضرات مجھ سے گھر پر ملے ہیں لیکن میں نے ان کی بات منظور نہیں کی۔ اس لیے ارکان شوری نے جو تین نام اسی اجلاس میں تجویز کرنے ہیں، ان میں ان کا نام شامل نہ کیا جائے ۔ محترم میاں صاحب نے اس پر اس قدر اصرار کیا کہ ارکان شوری کے لیے ان کی معذرت قبول کرنے کے سوا کوئی چاره نه رہا۔

مجلس شوری نے جو تین نام تجویز کیے ہیں ان میں سے مولانا جان محمد عباسی صاحب ۱۹۷۲ سے جماعت کے نائب امیر چلے آ رہے ہین۔ وہ پورے پاکستان میں دورے کرتے رہتے ہیں اور جماعت کے معروف رہنما ہیں۔ اس کے علاوہ پروفیسر خورشید احمد صاحب ہیں جو ۱۹۷۸ سے امیر جماعت کے مشیر اور ۱۹۷۹ سے نائب امیر جماعت ہیں، وہ بھی پورے ملک میں معروف ہیں۔ تیسرا نام قاضی حسین احمد صاحب کا ہے جو ۱۹۷۸ سے قیم جماعت ہیں اور نو سال سے محترم امیر جماعت کے ساتھ ان کے مددگار اور ان کے معتمد نمائندے کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ وہ بھی پورے ملک میں اکثر دورے پر ہی رہتے ہیں اور جان مار کر جماعت کی دعوت ، تنظیم اور تربیت کا کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔

اب جب کہ امیر جماعت کے منصب کے لیے پرچہ ہاۓ راۓ دہی جاری ہو چکے ہیں، محترم میاں طفیل محمد صاحب نے ارکان جماعت کے نام ایک مفصل مراسله ۲۴ اگست کو بھیجا ہے جس میں انہوں نے اپنی عمر ، صحت اور قوائے جسمانی کے ضعف کا حال بیان کرکے فرمایا ہے کہ اب میں اس عریضہ کے ذریعے آپ سب بھائیوں اور بہنوں سے بھی عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ جس طرح مولانا سید ابوالاعلی مودودی رحمة اللہ کی خرابی صحت سے ان کی زندگی میں ہی امارت سے معذرت قبول کر لی گئی تھی، اسی طرح میری یہ درخواست قبول فرما کر میری اس ذمہ داری سے معذرت قبول فرما لیں۔ یعنی آئندہ انتخاب امیر کے سلسلے میں مجھے مستثنی کرکے دوسرے جن صاحب کو موزوں خیال فرمائیں ، ان کے حق میں رائے دیں…..

آپ اطمینان رکھیے کہ جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے ۔ ارکان جماعت انشا اللہ جو بھی فیصلہ کریں گے اس میں اللہ تعالیٰ خیر وبرکت ڈالے گا اور جماعت کیلیے بہتر ہو گا۔ پھر یہ پہلو بھی ملحوظ رکھیے کہ محترم میاں صاحب انشاء اللہ منصورہ میں ہی رہیں گے اور وہ جماعت کی اسی طرح سرپرستی و رہنمائی فرماتے رہیں گے جس طرح مرحوم و مغفور مولانا مودودی ۱۹۷۲ لیکر ۱۹۷۹ تک سرپرستی فرماتے رہے تھے ۔ جماعت کا جو بھی امیر منتخب ہوگیا وہ انشاء اللہ محترم میاں صاحب کا قابل اعتماد رفیق کار ہی ہو گا- امید ہے کہ اس جواب سے آپ کا اطمینان ہو جاۓ گا۔

آپ کا خط آپ کی جماعت سے محبت اور آپ کے خلوص کا آئینہ دار ہے اور جماعت سے آپ کی سچی خیر خواہی کا ثبوت ہے ۔ آللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرماۓ۔ آمین
خاکسار

‎( محمد اسلم سلیمی)
نائب قیم جماعت اسلامی پاکستان