سپریم کورٹ، عمران خان کی تصویر اور سنسر شپ کا بھوت

سب خبریں یا تو عدالت سے متعلق ہیں یا عدالت  میں ہونے والی کارروائی کے بارے میں ہیں۔ ملک کے سب معاملات اب اعلیٰ عدلیہ کے ایوانوں سے ہوکر گزرنے ہیں۔  سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ  سکیورٹی اداروں اور عدلیہ کے درمیان  چپقلش چل رہی ہے ۔ عدالت کا کہنا ہے کہ انہیں پراکسی کے ذریعے دھمکیاں دی جارہی ہیں۔  ملک کے مستقبل  کے لیے اس الجھن کا دور ہونا ضروری ہے۔

اس دوران میں نیب آرڈی ننس میں ترامیم کوسپریم کورٹ سے  مسترد کرنے کےفیصلے کے خلاف  نظر ثانی  کی درخواستوں پر عدالت عظمی کے پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی۔ گزشتہ سماعت میں چیف جسٹس نے ان ترامیم کے خلاف درخواست دائر کرنے والے عمران خان کی پیشی کو یقینی بنانے کا حکم دیا تھا۔ عمران خان متعدد مقدمات میں سزا پانے کے بعد اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ خیال تھا کہ ویڈیو لنک کے ذریعےپیشی کے موقع پر فاضل جج حضرات ان کا مؤقف جاننے کی کوشش کریں گے لیکن آج کی سماعت سے تو یہی گمان ہؤا ہے کہ  محض عدالتی اتھارٹی کا مظاہرہ کرنے کے لیے  عمران خان کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ تین ساڑھے تین گھنٹے کی عدالتی کارروائی کے دوران میں  نہ تو ان سے کوئی سوال کیا گیا  اور نہ ہی عمران خان کو بولنے کا موقع دیا گیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے البتہ ایک موقع پر یہ ضرور کہا کہ حکومتی وکیل جو سوالات اٹھارہے ہیں، عمران خان انہیں نوٹ  کرلیں ، عدالت ان  کا جواب لے گی۔

کئی ماہ تک عوامی منظر نامہ سے دور رہنے کے بعد ویڈیو لنک پر عدالتی پیشی کی خبر سے عام طور پر یہ  امید کی جارہی تھی کہ  یوں  ان کے حامیوں اور دیگر پاکستانیوں کو ملک کے اہم لیڈر  کے خیالات جاننے اور آواز سننے کا موقع ملے گا۔ البتہ اس کی نوبت نہیں آئی۔ تاہم چیف جسٹس کے اشارے  سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ شاید مستقبل میں کسی موقع پر یہ امید بر آئے لیکن نیب کیس میں عدالتی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔  اس لیے خبر نہیں کہ ایسا موقع پھر کب آئے گا۔ ویڈیو لنک سے  عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم  بڑی مستعدی سے دیا گیا تھا۔ حتی کہ آج عدالتی کارروائی شروع ہوتے ہی چیف جسٹس نے سب سے پہلے عمران خان کو پیش کرنے کے بارے میں استفسار کیا ۔ جس پر عدالت میں نصب ٹیلی ویژن اسکرین پر عمران خان کی تصویر دکھائی دینے لگی۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی کے مصداق  لگا کہ عدالت اپنے حکم پر عمل درآمد سے خوش ہوکر مطمئن ہوگئی ہے۔ بہر حال یہ سوال تو بنتا  ہے کہ اگر آج کی سماعت میں عمران خان سے کچھ پوچھنا نہیں تھا تو انہیں پوری کارروائی کے دوران  میں ’حاضر رکھنے‘ کا کیا جواز  تھا۔ کیا ایک قیدی کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ عدالت میں پیش ہونے کے بارے میں خود کوئی فیصلہ کرسکے؟

البتہ اس معاملہ کا سب سے سنگین پہلو عمران خان سے طویل پیشی کے دوران میں سوال  نہ کرنے اور ان کی حاضری کو نظر انداز کرنے کے بارے میں نہیں ہے۔ زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ سابقہ سماعت کے برعکس آج کے روز عدالتی کارروائی کو براہ راست نشر نہیں کیا گیا ۔  چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالتی  کارروائی براہ راست نشتر کرنے کی روایت کا آغاز کیا ہے اور بیشتر اہم مقدمات  کی کارروائی سپریم کورٹ کی سائٹ پر نشر کی جاتی ہے اور پاکستان ٹیلی ویژن بھی اس کارروائی کو نشر کرتا ہے۔ البتہ جس وقت  پوری قوم  عمران خان سے محبت یا مخالفت سے قطع نظر جب اس عدالتی کارورائی کا انتظار کررہی تھی تاکہ ایک اہم لیڈر  کی بات سن سکے تو  کارروائی کو  عدالتی کمرے تک محدود کردیا گیا۔  یہ اقدام اس تناظر میں خاص طور سے بے حد تکلیف دہ  ہے  اور عدالتی اتھارٹی اور نیک نیتی پر  سوال کا موجب بنتا ہے کہ ملک میں  الیکٹرانک میڈیا  کو عمران خان کی تصویر دکھانے یا ان کا نام لینے سے منع کیا گیا ہے۔ 

سنسر شپ کی اس قسم کو سمجھنا ناممکن ہے۔   نہ جانے معاملات کنٹرول کرنے والے کون سے بزرجمہر  اس قسم کے احمقانہ  فیصلے کرتے ہیں  جن سے فائدہ کی بجائے نقصان ہی ہوتا ہے۔ اگر عوام کی اکثریت عمران خان کو پسند کرتی ہے اور  ان کے نام پر ووٹ  بھی دیتی ہے تو ٹی وی پر ان کی تصویر نہ دکھانے سے یہ رویہ تبدیل نہیں ہوگا۔ بلکہ اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ عمران خان اس وقت ریاستی جبر کا شکار ہیں  ۔ ریاستی ادارے اور حکومت عوام سے ان کا تعلق ختم کرنے کی کوشش کررہے  ہیں۔ عملی تجربہ یہی سکھاتا ہے کہ عوام ایسی پابندیوں کو ناجائز سمجھتے ہیں اور  ان کی  پرواہ نہیں کرتے۔ جوسنسر شپ عمران خان کو عوام سے دور کرنے کے لیے استعمال کی جارہی ہے، درحقیقت وہ ان کی مقبولیت میں  اضافہ کررہی ہے۔ لیکن اپنے تئیں راستے روکنے کی کوشش کرنے والے عناصر  اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر یہ امید کی جارہی تھی کہ جب عدالتی حکم  پر  عمران خان پیش ہوں گے اور    عدالتی کارروائی براہ راست نشر ہوگی تو حکومتی خواہش  کے برعکس ملکی میڈیا پر عمران خان کی تصویر براہ راست نشر ہوگی۔ خیال تھا کہ چیف جسٹس شاید پی ٹی وی کو بھی اس سماعت کی اہمیت کے پیش نظر اسے  براہ راست دکھانے  کا حکم دیں گے۔ لیکن اس کے برعکس سپریم کورٹ کی اپنی سائٹ پر بھی آج کی کارروائی  ٹیلی کاسٹ نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ سوائے اس کے کیا ہوسکتی ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران عمران خان کی موجودگی کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔ بلکہ جب عدالتی سماعت کے دوران ہی عمران خان کی تصویر کسی طرح ’اسمگل‘ کرکے سوشل میڈیا پر  عام کردی گئی تو پریشان حال پولیس اہلکار عدالت میں  یہ سراغ لگانے کی کوشش کرتے رہے کہ کس نے عمران خان کی تصویر ’ناجائز ‘ طور سے باہر بھجوا دی ہے۔

آج کل عدالتی  امور میں ایجنسیوں کی مداخلت  کے بارے میں بہت بات ہورہی ہے۔  کہا جارہا ہے کہ مختلف ہتھکنڈوں سے  ججوں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ عدلیہ کے ججوں کا دعویٰ  ہے کہ وہ  عدالتی آزادی و خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ اس تناظر میں عمران خان کی پیشی کے موقع پر لائیو نشریات سے گریز    اسی سنسر شپ   کا تسلسل ہے جو ملک کے الیکٹرانک میڈیا پر نافذ ہے۔ سپریم کورٹ کو اپنے فیصلوں میں حکومت کی ایسی خواہشات کو نہیں ماننا چاہئے۔ اور اگر   کسی تکنیکی عذر کی بنا پر  آج کی کارروائی لائیو نشر نہیں ہوئی تو   رجسٹرار سپریم کورٹ کو  اس کی  وضاحت کرنی چاہئے ورنہ یوں لگے گا کہ حکومت کا سنسر شپ صرف الیکٹرانک میڈیا تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اطلاق سپریم کورٹ  کی نشریات پر بھی ہوتا ہے۔ عدالتی خود مختاری کی جد و جہد کے موقع  پر یہ تاثر عدالتی اتھارٹی کے لیے براہ راست چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔

ایک طرف ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کے  منصف عدالتی خود مختاری یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں تو دوسری طرف  ایک کے بعد دوسرا سیاست دان  ریاستی اداروں کی ’حفاظت‘ کے لیے میدان  میں  اتر رہا ہے۔ سینیٹ کے آزاد رکن فیصل واوڈا نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’بار بار انٹیلی جنس اداروں کا نام لیا جارہا ہے، اب الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا۔ اب اگر کسی نے پگڑی اچھالی تو پگڑی کی فٹبال بنائیں گے اور ڈبل پگڑی اچھالیں گے۔ ججز کو الزامات سے دور ہونا چاہیے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کو  معلومات کے لیے خط لکھے 15 دن ہوگئے لیکن جواب نہیں آیا۔ کوئی کاغذ اور ثبوت نہیں آرہا جس کی وجہ سے لوگوں میں شک پیدا ہو رہا ہے۔ امید ہے جلد جواب آئے گا اور جواب لیں گے‘۔

 ابھی اس ہیجان خیز بیان  کی دھول نہیں بیٹھی تھی کہ  آج ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال اور  استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما عون چوہدری نے عدلیہ پر تنقید کی اور سکیورٹی اداروں کی حمایت  میں پریس کانفرنسیں کیں۔ مصطفیٰ کمال کاکہنا تھا کہ ’اب لگ یوں رہا ہے کہ عدلیہ اور فوج کے درمیان کوئی جنگ چل رہی ہے اور صرف فوج ہی نہیں بلکہ سب کے سب سکیورٹی کے اداروں کو اس میں گھسیٹا جا رہا ہے‘۔ استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما عون چوہدری نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں نیشنل پریس کانفرنس میں کہا کہ دوہری شہریت پر سیاستدانوں کو تو نکال باہر کیا جاتا ہے تو پھر ایسے لوگوں کو عدالتوں کا جج بننے کی اجازت کیوں کر دی جاسکتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ  ’بڑے آرام سے آپ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر  کہہ دیتے ہیں کہ ادارے کون ہوتے ہیں مداخلت کرنے والے۔ کبھی آپ نے  سوچا ہے کہ اگر یہ ادارے نہ ہوں تو ہمیں باہر سے لوگ آکر نقصان پہنچا کر آرام سے واپس چلے جائیں، اگر یہ ادارے اس مُلک  میں نہ ہوں تو یہاں قانون نام کی کوئی چیز نہ ہو۔ہم سیاستدان تو اپنا احتساب کرواتے ہیں مگر یہ کام سب کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ہمیں اس مُلک میں انصاف چاہیے‘۔ عون چوہدری کی تنقید  بھی عدلیہ پر ہی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ  ’جب رات میں عدالتیں کُھل سکتی ہیں اور فیصلے سُنائے جا سکتے ہیں تو  کسی ادارے پر اُنگلی اُٹھائی جاتی ہے تب بھی آپ ویسے ہی ایکشن لیں اور ویسے ہی فیصلہ کریں‘۔

ان دونوں بیانات میں براہ راست دھمکی تو نہیں ہے لیکن عدلیہ کی کمزوریوں کی نشاندہی کرکے متنبہ ضرور کیا گیا ہے کہ موجودہ صورت حال یوں ہی جاری رہی تو یہ بحث شاید عدالتی ایوانوں یا پارلیمنٹ تک محدود نہ رہے ۔     یہ  طریقہ بھی عدالتی خود مختاری  کے خلاف ہے کہ  بتایا جائے کہ ججوں کو کیسے کام کرنا چاہئے۔

نیب ترمیم کیس  کی سماعت کے دوران میں فیصل واوڈا  کی پریس کانفرنس کا چرچا رہا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اس حوالے سے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرکے کہا کہ ’ججوں کو پراکسی کے ذریعے دھمکایا جا رہا ہے۔کیا آپ پگڑیوں کو فٹبال بنائیں گے؟‘۔ اس پر اٹارنی جنرل عثمان منصور  اعوان نے کہا کہ  ’ یہ توہین آمیز تھا‘۔ اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جو کچھ کر رہے ہیں ان کو کرنے دیں، وہ خود کو ایکسپوز کر رہے ہیں۔البتہ اس کے فوری  بعد سپریم کورٹ نے  سو موٹو کے تحت فیصل واوڈا کے بیان پر کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ میں جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس نعیم اختر شامل ہوں گے جو  جمعہ کو اس  از خود نوٹس کی سماعت کریں گے۔

ملک کی اعلیٰ عدلیہ  اس وقت سیاسی طور سے تقسیم ملک میں   امید کی آخری کرن ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اس حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں ایک طرف عدلیہ کی  آزادی کو یقینی بنانا ہے تو دوسری طرف عوام تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گی اور آئین کی عمل داری کو یقینی بنایا جائے گا۔  تاہم  اس مقصد کے  لیے  ججوں کو  رول ماڈل بننا ہوگا اور اپنے ارادوں کو ریمارکس کی بجائے ٹھوس اور مضبوط فیصلوں کے ذریعے سامنے لانا چاہئے۔