بجلی کا مسئلہ پندرہ دن میں حل کرو ورنہ نتائج بھگتو

  • ہفتہ 18 / مئ / 2024

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ بجلی کا مسئلہ 15 دن میں حل نہ کیا تو بجلی کا بٹن میں آن آف کروں گا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت 16 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت چھوڑ کر گئی تھی، میں اپنے عوام کے لیے چور کا لفظ برداشت نہیں کروں گا، چور کون ہے سب جانتے ہیں، بات نہ سنی گئی تو خیبرپختونخوا میں واپڈا دفاتر پر قبضہ کرکے دکھاؤں گا۔

علی امین نے نگران دور کے تمام اقدامات کی تحقیقات کروانے کا اعلان بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نگران دور میں انتظامی اور معاشی اقدامات کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نگران حکومت کا دورانیہ بڑھنے کی وجہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تھی، جو بھی پی ڈی ایم نے کیا وہ ان کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ میں غیر ذمہ دارانہ بیان دیتا ہوں تو اپنے لوگوں کی حق کی بات کرنا غیر ذمہ داری ہے تو میں ہوں غیر ذمہ دار، ہم چپ نہیں ہوں گے، ہم حق لینا جانتے ہیں۔ ہم نے حق لے کے دکھایا بھی ہے۔ ہماری تاریخ عیاں ہے، بار بار درخواست نہیں کی جاتی ہے۔ اس کی بھی حد ہوتی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کا پیسہ صوبے کو نہیں ملا، ہمیں ہمارا حق دیا جائے، مجبور نہ کیا جائے۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے سلوک پر سیاسی جماعتوں کوایک نہ ایک دن ندامت ہوگی۔ کشمیر میں ایک دن میں آپ کی ہوا نکل گئی، ہم آگئے تو تمہارا کیا ہوگا؟ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے کے معاملات صوبے کے ساتھ بیٹھ کے حل ہوں گے، جو بھی ہوگا اس میں ہماری رضامندی ہوگی، عوام میری طاقت ہے، وہ میری ٹیم ہے، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے کے کام کی دیکھ بھال کریں۔