عمران خان آرمی چیف کو خط لکھیں گے

  • ہفتہ 18 / مئ / 2024

سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو خط لکھ کر بتائیں گے کہ ’عوام اور فوج کو آمنے سامنے کبھی نہیں آنا چاہیے۔‘

پاکستان تحریک انصاف نے جماعت کے بانی کا اڈیالہ جیل سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’آرمی چیف کو خط اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ ملک کے لیے لکھوں گا۔ وکلا کو خط تیار کرنے کی ہدایات دے دی ہیں۔‘ عمران خان نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو بذریعہ خط یہ بتایا جائے گا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کیا ہو رہا ہے اور ملک کہاں جا رہا ہے۔ ’اس پر ہمیں سوچنا پڑے گا۔ فوج اور لوگوں کو آمنے سامنے نہیں کیا جاتا۔‘

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’فوج ملک کا ایک نہایت اہم ادارہ ہے۔ عوام اور فوج کو آمنے سامنے کبھی نہیں آنا چاہیے لیکن ہم آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔‘

پی ٹی آئی کے مطابق اس پیغام میں عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمارا یہ سوال ہے کہ ہماری نو مئی اور آٹھ فروری کے حوالے سے پٹیشنز کو کیوں نہیں سنا جا رہا؟ یہ نظامِ انصاف کی شکست ہے۔ اس سے عام آدمی کا نظامِ انصاف سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ جھوٹ کو بچانے کے لیے ججز اور میڈیا پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس میں پیشی سے متعلق عمران خان نے کہا کہ میں بولنے کے لیے مکمل تیار تھا لیکن مجھے بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ اس کیس کی کارروائی کو لائیو نشر کیا جانا چاہیے تھا۔ امید کرتا ہوں اگلی بار مجھے بولنے کا موقع دیا جائے گا۔

مذاکرات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’فارم 47 والوں سے کوئی مذاکرات نہیں کریں گے۔ نگران وزیراعظم کے بیان کے بعد اس حکومت کے قائم رہنے کا کیا جواز ہے۔ کاکڑ نے حنیف عباسی کو طعنہ دے کر شہباز شریف کو پیغام بھیجا۔ انوار الحق کاکڑ اور کمشنر راولپنڈی کے بیانات کی روشنی میں فارم 47 کی حقیقت کھلے گی تو یہ حکومت خود بخود گر جائے گی، ان سے کیا بات کروں۔‘

انہوں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے سوال کیا ہے کہ ’کیا مجھے فئیر ٹرائل دیا جا رہا ہے؟ ہم امید کرتے ہیں کہ انصاف ہو گا۔‘