دوبئی ان لاک کو لاک ہی سمجھیں!

عوام کو تو عرصہ دراز سے  معلوم تھا کہ دوبئی میں ہے کچھ خاص جو ہر مالدار وہاں عجیب عالم شوق و مستی میں جاتا ہے۔ لاہور کراچی  کے مابین روزانہ فلائٹس اور ان کے مسافروں کی تعداد پاکستان  سے دوبئی روزانہ جانے والی فلائٹس اور مسافروں کی تعداد سے کہیں کم ہے۔

یہ سلسلہ ہائے ذوق و شوق آج کل کا قصہ نہیں بلکہ تیس پینتیس سال سے پروان چڑھتے چڑھتے اپنے جوبن پر آیا ہے۔ یو اے ای میں بالعموم اور دوبئی میں بالخصوص جنوبی ایشیا یعنی بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے باشندوں کی ایک کثیر تعداد مقیم ہے۔ بھارت اور پاکستانیوں کی تعداد اس قدر باافراط ہے کہ اردو یا ہندی ہی معروف ترین ذریعہ ابلاغ ہے۔

دوبئی کی آج کی لش پش میں ان ممالک کے باشندوں کا عمل دخل نمایاں ہے۔ اس لش پش میں ملازمتوں، لیبر اور کاروبار کا اہم دخل ہے۔ تاہم ایک اور کلیدی عنصر بھی اس لش پش کا باعث رہا ہے۔ دوبئی سمیت یو اے ای دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لئے پراپرٹی کی " جنت" سمجھا جاتا رہا ہے۔ کیوں؟ اول یہ کہ دوبئی گزشتہ چار دہائیوں سے مسلسل صحرا کو گل و گلزار اور آسمانوں میں بلند و بالا عمارتوں کے ٹاور کھڑے کر رہا ہے۔ دوم یہ کہ دنیا بھر کے لئے  بالعموم لیکن جنوبی ایشیا کے لئے بالخصوص سیاحت و تفریح کا بہترین اور قریب ترین مرکز ہے۔ اڑوس پڑوس کے ممالک کے ہاں سے بھی ویک اینڈ پر فلائٹس اور سیاحوں کے ریلے وارد ہوتے ہیں۔ سوم: دوبئی نے روایتی صحرائی بودو باش کے پس منظر کے باوجود  محفوظ شہری اور اوپن سوسائٹی کا ماحول بھی پورے اہتمام سے یقینی بنایا ہے۔

چہارم یہ کہ سوائے گزشتہ دو تین سال کے، دنیا بھر سے آنے والی سرمایہ کاری پر کوئی سوال  درکار تھا نہ پرکھ پرچول کا تکلف۔۔ ایسا عیش بابر اور  تجمل حسین خاں کو  بھی نصیب نہ ہوا ہوگا جو یہاں کے مالداروں کو میسر تھا اور یے۔

دوبئی بالخصوص اور یو اے ای میں بالعموم پراپرٹی کی سرمایہ کاری پاکستان کی اشرافیہ کو ہمیشہ انتہائی مرغوب و محبوب رہی ہے۔ اپنے ملک میں سرمایہ کاری سے گریزاں اشرافیہ اپنا سرمایہ یو اے ای لگانے کو ترجیح دیتا رہا۔  چند بار ایف بی آر  نے پاکستانی سرمایہ کاروں کی تفصیلات حکومتی سطح پر مانگیں مگر خاموشی اور اغماض کے سوا کچھ ہاتھ نہ ایا۔  پی ٹی آئی کے دور میں چیئرمین شبر زیدی نے کوشش کی تو سفارتی سطح سے وزارتی سطح تک یہی پیغام ملا۔۔۔ کس کام میں پڑ گئے ہیں؟ دوست ملک ہے ناراض ہو جائے گا؟ ابھی ابھی تو انہوں نے ڈیپازٹ کی فیور دی ہے۔۔ ہاتھ ہلکا رکھیں!

گزشتہ کئی سال سے یو اے ای اور بالخصوص دوبئی میں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں پاکستان کا نام  پہلے پانچ سات ممالک کی نمایاں فہرست میں شامل رہا۔ سرمایہ کاری کا حجم بھی سالانہ کروڑوں اربوں ڈالرز میں بتایا جاتا رہا۔ پاکستان کی اشرافیہ کے کم و بیش ہر طبقے کی وہاں جڑیں پھیلتی رہیں۔ کیا سیاستدان کیا کاروباری کیا صنعت کار کیا فیوڈلز، دوبئی میں پاکستانی سرمایہ کار پاکستان کے متمول ترین پر مشتمل رہے۔ پرویز مشرف کے دور میں پراپرٹی کو یہاں پر لگے تو وہاں دوبئی میں آسمان کو چھونے لگے ۔ 

اللہ بھلا کرے 90 کی دہائی کے فارن ایکسچینج رولز کا , بھیجنے والے سے کوئی سوال نہ حوالہ رقم منگوانے والے سے کوئی پوچھ گچھ۔ سبزی فروٹ کی خریداری میں شاید کچھ دیر لگ جاتی ہوگی مگر حوالہ رقم باہر بھجوانا یا منگوانا اس سے بھی کم وقت میں ممکن تھا۔ 90 کی دہائی سے جاری سیاسی مارا ماری سے تنگ ملک بدری اور نائن الیون کے بعد امریکہ اور یورپ وغیرہ میں ویزے اور سرمائے کی حسب نسب کی پوچھ گچھ شروع ہوئی تو دوبئی اشرافیہ کے لئے دوست شہر کے متبادل کے طور پر سامنے آیا۔  

اس پس منظر میں عوام کو تو بہت دیر سے یہ معلوم ہے کہ پاکستان کی ریاست چاہے ٹیکس جی ڈی پی کے جمود کا رونا روئے، عوام کرپشن کی دہائی دیں ، اشرافیہ کا جہاں اور ہے۔ ریاست قرضوں کے بوجھ تلے دبی جا رہی ہے اور نئے قرضوں کے لیے ہلکان ہے لیکن اس کی مالدار اشرافیہ کے ہاں دولت سنبھالنے اور ٹھکانے لگانے کی پریشانی ہے۔ دوبئی کے صحرا میں کھلنے والے گل و گلزار  اور سکائی سکرپرز  نے ان کی اس پریشانی کو گویا اپنا لیا ، اور وہ بھی بقول شخصے اپنے دکھ مجھے دے دو کی سی محبت اور چاہت کے ساتھ ۔

دو روز قبل دنیا کے کئی ممالک سے درجنوں تحقیقاتی رپورٹس کی تفصیلات سامنے آئیں تو انکشاف ہوا کہ آئی ایم ایف کی دہلیز پر 24ویں بار حاضری دینے والے ملک خداد کے 23 ہزار شہری صحرائے عرب میں ریاست پاکستان سے بھی آسودہ حال اور نہال ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی شہریوں بشمول سابق حکومتی عہدیداروں ، سیاسی شخصیات، بیوروکریٹس اور کاروباری افراد کی دبئی میں  مارکیٹ ویلیو کے حساب سے 12.5 ارب ڈالر مالیت کی جائیدادیں ہیں۔

یہ انکشاف منگل کو سامنے آنے والے "دبئی ان لاکڈ " کے نام سے عالمی تعاون پر مبنی صحافتی پراجیکٹ میں کیا گیا ہے جس میں دبئی میں لاکھوں جائیدادوں، ملکیت اور استعمال سے متعلق تفصیلات درج ہیں۔ بیشتر املاک سے متعلق تحقیقات 2020 سے 2022 کے درمیان کی گئیں۔

اعداد و شمار میں 17 ہزار سے زائد جائیدادیں شامل ہیں جو 2022 تک پاکستانی شہریوں کی ملکیت تھیں۔

احتیاط کا تقاضا نبھاتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا کہ اعداد و شمار میں صرف ذکر  سے کوئی مالی جرم یا ٹیکس فراڈ ثابت نہیں ہوتا۔ انویسٹی گیشن رپورٹ کے مطابق ڈیٹا میں رہائشی اسٹیٹس، آمدنی کے ذرائع، کرائے کی آمدن سے ٹیکس کی وضاحت یا مالی فوائد کے حصول جیسی معلومات شامل نہیں ہیں۔ میڈیا ہاؤسز کی جانب سے جائیدادوں سے متعلق تبصرے کیلئے رابطے کیے جانے پر مذکورہ شخصیات میں سے کئی نے بتایا کہ ٹیکس حکام کو اس بارے میں پہلے ہی مطلع کردیا گیا تھا یعنی ہمارے اثاثے تو ڈیکلیئرڈ ہیں۔ اللہ اللہ خیر صلا۔

یادش بخیر 2016 میں پانامہ لیکس نے دنیا بھر میں اودھم مچایا۔ پاکستان کے کم و بیش پانچ سو شہریوں کے نام سامنے آئے البتہ اودھم اور" قانونی کارروائی" صرف وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے حصے میں آئی ۔ رہے باقی پانچ سو افراد تو ایف بی آر نے جو نوٹسز بھیجے ان میں سے بیشتر بغیر وصولی واپس آ گئے۔ یوں وقتی شور و شغب کے باوجود بلا روک ٹوک سرمایہ باہر بھیجنے کا پرنالہ وہیں کا وہیں جاری و ساری رہا۔

اس پس منظر میں ہمارا گمان یہی ہے کہ دو دن کا غلغلہ ہے، کوئی اور سلگتا موضوع میڈیا پر الاؤ روشن کر دے گا ۔ دو دن بعد کسی کو یاد بھی نہیں رہے گا کہ دوبئی ان لاک میں 23 ہزار پاکستانیوں کی 17 ہزار سے زاید پراپرٹیز ہیں جن کی موجودہ مارکیٹ ویلیو 12.5 ارب ڈالرز ہے۔ جنہیں پوچھنے کا شوق تھا ان کی تشفی کے لئے بیشتر مشہور لوگوں نے کندھے اچکاتے ہوئے وضاحتیں جاری کر دیں کہ سب ڈیکلیئر ہے ۔" ان لاک دوبئی" کا اس سے بہتر جوابی "لاک" اور کیا ہوگا۔۔

رہی خلق خدا تو اسے معلوم ہے کہ پانامہ لیکس کا کچھ ہوا نہ دوبئی لیکس کا کچھ ہوگا ۔۔ ہوگا تو فقط ان کو بجلی گیس اور تیل کی قیمتوں کی مقابل اپنی جیبوں کی "لیکس" کا سامنا رہے گا۔۔۔