پاکستان اور افغان رہنماؤں کا مشترکہ جرگہ، سرحد پر فائر بندی پر اتفاق
پاکستان اور افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان سرحد پر لگ بھگ پانچ روز تک فائرنگ کے تبادلے کے بعد ہفتے کو فائر بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔
دونوں ملکوں کے سرحدی اہلکاروں کے درمیان فائر بندی کا فیصلہ سرحدی گزرگاہ خرلاچی میں ایک جرگے کے دوران ہوا۔ جرگے میں پاکستانی وفد کی قیادت بریگیڈیئر شہزاد عظیم نے کی جب کہ افغان وفد کی قیادت پولیس چیف شیر محمد خان نے کی۔ جرگے میں فیصلہ ہوا کہ قبائلی ضلع کرم اور افغانستان کے سرحدی صوبہ پکتیکا کے قبائلی رہنماؤں پر مشتمل روایتی جرگہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کو باہمی بات چیت سے حل کرے گا۔
دونوں ملکوں کے سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان 13 مئی کو دوطرفہ فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا تھا جو جمعے کی شام تک وقفے وقفے سے جاری تھا۔ مقامی سرکاری عہدیداروں کے جاری کردہ بیان کے مطابق مشترکہ جرگے کی کارروائی لگ بھگ دو گھنٹے تک جاری رہی جس میں سرحد پر فائرنگ کے واقعات کی روک تھام کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔
کرم کے سول اور سیکیورٹی عہدیداروں کے جاری کردہ بیان کے مطابق قبائلی جرگہ میں تین نکات پر اتفاق ہوا ہے جس کی رو سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے خلاچی گیٹ کھولا جائے، تین روز بعد دونوں طرف سے افغان مشیران اور پاکستانی مشیران کا جرگہ منعقد کیا جائے جس میں تنازعات کے حل کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ تنازعات کے حل کے لیے دونوں اطراف سے ایک ماہ میں کمیٹیاں بنائی جائیں گی جس میں تجارتی کمیٹی الگ اور اقتصادی کمیٹی الگ الگ مسائل پر رابطہ کریں گی۔
سرکاری طور پر دونوں جانب سے سوموار کی شام سے جمعے کی رات تک وقفے وقفے سے جاری مسلح تصادم میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ البتہ کرم کے مرکزی انتظامی شہر پاڑہ چنار میں حکام اور قبائلی رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ سرحد پار فائرنگ سے لگ بھگ 15 طالبان اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جب کہ افغان اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔
سرحد پر دو طرفہ فائرنگ کے باعث 500 سے زائد خاندانوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی جب کہ علاقے میں تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے تھے۔