بشکیک حملے میں 4 سے 5 پاکستانی طلبہ زخمی ہوئے: اسحٰق ڈار

  • اتوار 19 / مئ / 2024

نائب وزیر اعظم اسحق ڈار نے کہا ہے کہ بشکیک حملے میں 4 سے 5 پاکستانی طلبہ زخمی ہوئے۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بسکیک میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔

کرغزستان میں طلبہ میں تصادم ہوا جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا، میری کرغزستان کے وزیر خارجہ سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم صاحب اس معاملے میں خود شامل ہوئے ہیں۔ وزارت خارجہ میں ایمرجنسی یونٹ فعال ہے اور لمحہ با لمحہ ہمیں تمام پیشرفت کے حوالے سے تفصیلات مل رہی ہیں۔ کرغزستان کے صدر سے سفارت خانے کے ذریعے رابطہ رہا۔  

اسحق ڈار نے کہا کہ کرغزستان کے وزیر خارجہ نے جو ہمیں نمبر دیے اس کے مطابق اس واقع میں 16 طلبہ زخمی ہوئے ہیں اور وہ ہسپتال میں داخل ہیں۔ ان میں 4 سے 5 پاکستانی طلبہ بھی شامل ہیں۔ کل 130 طالب علم پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ آج 3 خصوصی پروازوں میں 540 مزید طلبہ واپس آئیں گے۔ ہم نے ایئر فورس سے بات کی ہے اور ان کی آج فلائٹ جائے گی جس میں 130 لوگوں کی گنجائش ہے۔ ابھی تک 50 کے قریب بچوں نے سفارت خانے میں انٹری کروائی اور بتایا ہے کہ ہم ایئر فورس کے طیارے میں جانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کرغزستان کے وزیر خارجہ نے مجھے بتایا کہ ہم، ہمارے صدر اس معاملے کو خود مانیٹر کر رہے ہیں۔ اور یہاں کوئی اور مسئلہ نہیں ہوا، یہ کوئی غلط فہمی کی بنا پر واقعہ ہوا۔

اسحق ڈار نے کہا کہ یہ بد قسمتی ہے کہ ایسے واقعات پر بھی سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت پیدا کی جاتی ہے۔ لوگوں کو اکسایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنی مہم چلائی گئی اس کے برعکس حقائق کچھ اور ہیں۔ ہم سب پاکستانی ہیں اور یہ سب ہمارے بچے ہیں جو تعلیم حاصل کرنے گئے ہوئے ہیں۔ میں یقین دہانی کرواتا ہوں کہ کوئی خوفناک صورتحال نہیں ہے۔ جو زخمی ہیں ان کی دیکھ بھال بھی کی جارہی ہے۔ ہم ہر صورتحال کے لیے تیار ہیں، اگر بچے واپس آنا چاہ رہے ہیں ان کو واپس لایا جائے گا۔

بعد ازاں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستانی طلبہ اس حملے کا ہدف نہیں تھے، یہ عرب اور وہاں کے بچوں کا معاملہ تھا جس کی زد میں ہمارے بچے آگئے۔ ہمارے کرغزستان سے اچھے تعلقات ہیں، اس واقع کے فوراً بعد وزیر اعظم کا دفتر اور وزارت خارجہ فوری طور پر حرکت میں آگئے۔ میں سفارت کار کو بھی سلام پیش کرتا ہوں کہ وہ ایسے حالات میں باہر نکلے اور وہاں بچوں کی تیمارداری کی۔