جماعت اسلامی کی منتخب امارت( 4)

میاں طفیل محمد کی پراصرار معذرت اور امارت سے رضاکارانہ سبکدوشی کی استدعا کے باوجود 1987 کے جماعتی انتخاب میں اراکین کی اچھی خاصی تعداد نے انہیں امیر بنانے کے لیے ووٹ کاسٹ کیا۔ لیکن اکثریت نے قاضی حسین احمد کو پسند کیا۔

ان دنوں جنرل ضیا الحق پر ہمارے قومی میڈیا میں شدید ترین تنقید ہورہی تھی وہ ایک دہائی قبل نوے دن کا وعدہ کر کے برسراقتدار آۓ تھے۔ کئی ایسی وجوہ تھیں جن کے کارن ضیا الحق کی عدم مقبولیت میں مزید اضافہ ہوگیا جس کی آمریت سے چھٹکارا پانے کے لیے لوگوں کو کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ میاں طفیل محمد ضیاالحق کے بھرپور حمایتی گردانے جاتے تھے۔ بیگم شفیقہ ضیا کے توسط سے ضیا الحق کے ماموں ہونے یا میڈیا میں ایسا قریبی رشتہ دکھانے کی خوب تشہیر ہورہی تھی۔ اس امر میں کوئی اشتباہ بھی نہ تھا کہ دونوں جالندھر کی آرائیں فیملی سے تعلق خاطر رکھتے تھے۔ بیگم ضیا کے ننہال کا وہاں میاں صاحب کی فیملی سے تعلق رہا تھا۔ ایسے میں ایک طرف جب میاں طفیل محمد ضیا الحق کا دفاع کرتے محسوس ہوتے تو دوسری طرف قاضی حسین احمد جنرل ضیا الحق پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے غیر مقبول ضیا پر تنقید کا کوئی موقع ضائع نہ ہونےدیتے۔ ان کی تقاریر بلند بانگ ہوتیں کہ نہ جانے وہ کیا کر گزریں گے۔ اسی رواروری میں جہاد کشمیر اور بالخصوص افغان جہاد کے ثمرات سے پوری طرح مستفید ہونے کے باوجود قاضی صاحب امریکا پر الزامات کی بھی خوب بوچھاڑ کرتے پائے جاتے۔

میاں طفیل محمد کے برعکس میڈیا میں نمایاں رہنے کا فن بھی قاضی صاحب کو خوب آتا تھا۔ صحافیوں میں اُن کا ایک وسیع حمایتی طبقہ تھا۔ جماعت کے اندرونی لوگ مانیں نہ مانیں جماعت کا طاقتور یسٹیبلشمنٹ سے تعلق ہمیشہ کسی نہ کسی صورت قائم رہا ہے۔ مولانا مودودی کی کئی کتابیں ہمارے عسکری اداروں کے نصاب کا حصہ رہی ہیں اور آج بھی ہیں۔ علاوہ ازیں جماعت کے امرا بنانے یا ہٹانے میں اوران کے ارکان کی ذہن سازی میں ہمارے قومی میڈیا یا میڈیا کے مؤثر لوگوں کا بھی اچھا خاصا رول رہا ہے۔ قاضی حسین احمد تو اس سلسلے میں کوئی ہچکچاہٹ رکھے بغیر بارہا برملا کہا کرتے تھے کہ یہ میڈیا اور پروپیگنڈے کا دور ہے چار آنے کی چیز بناؤ ایک روپے کی تشہیر کرو اور ڈیڑھ روپے میں بیچ دو۔

امیر جماعت کی شخصی پروجیکشن کے اصل معمار قاضی حسین احمد ہی تھے۔ ان سے پہلے ایسی روایت نہ تھی میاں طفیل محمد ایک سادہ لوح، بھلے مانس اور مرنجاں مرنج انسان تھے جو اسلام کے پورے سٹرکچر کو مولانا مودودی کی عینک سے دیکھتے تھے۔ اپنی سوچ میں پختہ تر ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی پروجیکشن تو دور کی بات میڈیا کو اپنی یا تنظیمی ضروریات کے لیے بھی استعمال کرنے پر کبھی خاص دھیان نہیں دیا۔ جبکہ مولانا مودودی تو ازخود میڈیا کے آدمی تھے جن کی شخصیت بوجوہ اتنی ابھر چکی تھی کہ انہیں اپنی پروجیکشن کے لیے پاپڑ بیلنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ میڈیا از خود ان کے حضور پہنچا ہوتا بلکہ ان کی شان میں تو اچھی خاصی شاعری بھی ہوتی جبکہ قاضی حسین احمد کو درویش نے بارہا اپنے لیے بھرپور لابنگ کرتے پایا۔

یہی صورتحال بعد کے امرا میں بھی رہی۔ سید منور حسن البتہ ایک حوالے سے مختلف تھے وہ میڈیا میں تشہیر کے لیے بھی اپنے اندر مخصوص لچک پیدا کرنے سے صاف انکار کردیتے۔ وہ ظاہری عاجزی کے ساتھ خود کو بڑے متقی و صالح اور اونچے قد کاٹھ کا آدمی خیال کرتے۔ یوں بارہا اکھڑ مزاجی تک چلے جاتے۔ ٹھیٹھ کھراپن جتنا میاں طفیل محمد میں تھا، پوری کی پوری جماعتِ اسلامی میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ لیکن سید منور حسن اس کی حدود کراس کرتے ہوئے اپنی سخت گیری کو عزیمت کا لبادہ پہناتے یا ایسے خیال کرتے تھے۔

قاضی حسین احمد بظاہر جتنی ملائمت دکھاتے تھے۔ سید منور حسن اتنی ہی غصیلی طبیعت یا بے لچک رویے سے مالامال تھے۔ وہ اسامہ بن لادن یا کسی بھی دہشت گرد کی شان میں رطب اللسان ہوتے تو بے تکان بولتے چلے جاتے۔ اپنی فوج کے محسنوں پر تنقید شروع کرتے تو یہ بھول جاتے کہ وہ جماعت اسلامی جیسی ملٹری الائنس یا فوج کی فطری اتحادی جماعت کے امیر ہیں۔ اس کی پاداش میں انہیں محض ایک ہی ٹرم کے بعد جماعت کی امارت سے فارغ ہونا پڑا۔

قاضی حسین احمد ہوشیار، موقع شناس اور زمانہ ساز آدمی تھے۔ وہ ہمیشہ اس بات پر نظر رکھتے تھے کہ لوگ کس چیز کو پسند کرتے ہیں اور کس ایشو کو ناپسند۔ بالخصوص اپنے جماعتی حلقوں میں وہ اپنی پاپولیریٹی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ چاہے اس کے لیے انہیں بے اصولی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ مثال کے طور پر جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر کے حوالے سے وہ عسکری اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیوں کی آنکھوں کا تارا تھے۔ ان سے بھرپور مفادات اٹھاتے گلبدین حکمت یار کو براستہ جنرل حمید گل اسٹیبلشمنٹ کا منظور نظر یا موسٹ فیورٹ بنوانے میں ان کا رول سب سے بڑھ کر تھا۔ مگر ساتھ ہی اپنی پاپولیریٹی مینٹین رکھنے کیلیے اسٹیبلشمنٹ بالخصوص جنرل ضیا الحق پر تنقید کا کوئی موقع وہ جانے نہ دیتے تھے۔

”جہادِ افغانستان“ میں امریکنوں کا جو کلیدی و بنیادی رول تھا اس سے کون بے خبر ہے یا انکار کر سکتا ہے؟ قاضی صاحب ایک طرف اپنے تئیں اس جہاد کے سرخیل بنے ہوئے تھے، دوسری طرف امریکا اور اس کے اتحادیوں کی بدترین حجامت کرنے یا درگت بنانے میں پیش پیش رہتے تھے۔ حتیٰ کہ کئی مواقع پر انہوں نے دانستہ سرخ سویرے والوں کو یہ تاثر دینے کی کاوشیں کیں کہ وہ تو روس یا سوویت یونین کے مخالف نہیں ہیں اس حوالے سے اس دور کے اخبارات میں ان کی تقاریر اورسفارتی سرگرمیاں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ ان کی کچھ اسی نوع کی روش سعودی عرب اور ایران کے حوالے سے بھی تھی۔

اس پس منظر میں درویش نے انہیں اس دورخے پن پر بھرپور تنقیدی خط لکھا ان کی طرف سے اس کا جو جواب موصول ہوا وہ اب بھی پرانے کاغذات میں کہیں موجود ہوگا۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں، وہ تو کرہی رہے ہیں میرے تنقیدی بیانات سے کیا فرق پڑ جائے گا۔ اس سے امریکی پالیسیاں تو بدل نہیں جائیں گی اور پھر اردو یا پشتو میں کی گئی میری تنقیدی باتیں انہیں کب سمجھ آتی ہیں۔ (جاری )