نواز شریف صاحب! اب آگے بڑھنے کا وقت ہے

متوقع ہے کہ نواز شریف 28 مئی کو  منعقد ہونے والے انٹرا پارٹی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے نئے صدر منتخب کرلیے جائیں گے۔ شہباز شریف نے اس عہدے سے استعفی دے دیا ہے اور نئے صدر کے انتخاب تک وہ عبوری طور سے پارٹی کی قیادت کررہے ہیں۔

 ملک کی موجودہ مشکل سیاسی و معاشی صورت حال میں  لیڈروں  سے  مسائل کا حل تلاش کرنے، تنازعات و اختلافات ختم کرنے اور ملک کو آگے  بڑھنے کا راستہ دکھانے کی امید کی جاتی ہے۔ تاہم نوا شریف گزشتہ روز  پاکستان مسلم لیگ (ن) سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس  سے خطاب میں اس رویہ کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے۔ ان کی تقریر شکایات و شکوؤں سے بھری ہوئی تھی اور وہ  محض فوج، عدلیہ اور دیگر سیاسی رفقا سے ہی شکوہ کناں نہیں ہیں بلکہ انہیں ملک کے عوام سے بھی شکوہ ہے کہ انہوں نے 2017  میں ان کی عدالتی نااہلی کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کیا اور کیوں خاموشی سے اس ’ظلم‘ کو برداشت کرلیا۔

نواز شریف اس ملک کے  سینئر ترین سیاست دان ہیں۔ اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ قوم و ملک کو قومی و عالمی مسائل کے بارے میں ان کے تجربہ و مشاہدہ سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔  تاہم اس وقت پاکستان جس مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے، اس میں ماضی کی ’ناانصافیوں‘ کا حساب مانگنے، غلطی کا ارتکاب کرنے والے ججوں کو سزا دلوانے  اور عوام سے  شکایت کرنے کا وقت  نہیں ہے۔ نواز شریف کے قد کاٹھ کے لیڈر سے مثبت کردار ادا کرنے اور ایک قدم آگے بڑھ کر قوم کی رہنمائی کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ ماضی کی پریشانیوں میں ہی گھرے رہیں گے اور قوم کو یہی بتاتے رہیں گے کہ اگر 1993 میں ان کی حکومت کو علیحدہ نہ کیا جاتا تو پاکستان جنت نظیر بن جاتا اور اگر 2017 میں انہیں نااہل کرنے کی  ’سازش‘ نہ کی جاتی تو وہ پاکستان کو دنیا کی کامیاب ترین معیشت بنا چکے ہوتے۔ یہ باتیں  قائدانہ صلاحیت کی بجائے شکست خوردہ مزاج کی نشان دہی کرتی ہیں۔

اس وقت ملک کو سخت محنت، امید اور ماضی کی غلطیوں و کوتاہیوں کو بھلا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ نواز شریف نے8 فروری کے انتخابات کے بعد خود وزیر اعظم بننے سے گریز کیا۔ کل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس حقیقت کی تائید کی ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اور ان کی خواہش تھی کہ نواز شریف وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالیں لیکن انہوں نے مجھے یہ ذمہ داری پوری کرنے کی ہدایت کی تاہم اب ملکی سیاست میں ان  کا جائز حق واپس کرنے کے لیے انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے استعفی دے دیا ہے تاکہ  نواز شریف کا حق انہیں واپس مل سکے۔  یہ ’حق‘  واپس لینے کی تیاری کرتے ہوئے نواز شریف سے امید کی جاسکتی تھی کہ وہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ پیش کریں گے اور بتائیں گے کہ ان کی قیادت میں پارٹی کیسے پاکستانی سیاست کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرے گی۔  سیاست دانوں، نظام اور حکومت پر عوام کے  کمزور ہوتے ہوئے اعتماد کو کس طرح بحال کیا جائے گا ، وہ کیسے ایک ایسی پارٹی میں نئی روح پھونکنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو ملک کی اہم اور بڑی پارٹی ہونے کے باوجود  اس وقت ایک فیملی انٹر پرائز کی حیثیت رکھتی ہے۔

نواز شریف تین بار ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں۔ طویل عرصہ تک انہیں ملک سے باہر رہنے کا تجربہ بھی حاصل ہے ۔ اگرچہ دونوں بار انہیں تقریباً جلا وطنی کی زندگی  گزارنا پڑی تاہم ایک مسلمہ جمہوری معاشرہ میں کئی سال تک مقیم رہنے کے سبب کوئی بھی انسان اس نظام اور اس کے مثبت پہلوؤں سے کچھ سیکھتا ہے اور یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ نظام پر ویسا ہی اعتماد اور بھروسہ پاکستانی عوام کو کیسے حاصل ہوسکتا ہے۔

اس اعتماد کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ جیسے ممالک کا جمہوری نظام ہر شہری کو سیاسی کامیابی کا مساوی موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر کسی شخص میں صلاحیت ہے اور وہ محنت کرتا ہے تو اس کا پس منظر، سماجی حیثیت یا رنگ و نسل اس کی راہ میں رکاوٹ  نہیں بنتا۔ اسی لیے اس وقت برطانیہ کا وزیر اعظم بھارتی نژاد ایک شخص ہے جبکہ لندن کا مئیر ایک پاکستانی نژاد ہے جس کے والد نے ایک ٹرک ڈرائیور کے طور پر اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ نواز شریف تین سال سے زائد مدت تک حال ہی میں لندن مقیم  رہے ہیں۔ انہیں ضرور غور کرنا چاہئے کہ اگر برطانیہ میں عام شہری  کو یہ امکانات حاصل ہوسکتے ہیں تو پاکستان میں ایسا کیوں ممکن نہیں ہے اور وہ خود ایک تجربہ کار اور مستعد سیاست دان کے طور پر کیسے پاکستانی معاشرے میں یہ تبدیلی لانے کے لیے کام کرسکتے ہیں۔

اس کی بجائے اگر آپ پارٹی کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دوسرے اداروں اور لوگوں کے علاوہ پاکستانی عوام کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے تو  اسے عوام کی بجائے لیڈر کی  ناکامی سمجھا جائے گا۔ اس کی بجائے انہیں یہ بتانا چاہئے تھا کہ  ماضی میں بوجوہ وہ اپنی پارٹی کو عوامی امنگوں کا نمائیندہ نہیں  بنا سکے جس کی وجہ سے عوام کو سیاسی عمل میں حصہ داری کے لیے مناسب پلیٹ فارم حاصل  نہیں ہؤا۔ اور اب کسی حکومتی عہدہ  کے بغیر پارٹی کی صدارت کرتے ہوئے وہ پارٹی کو فعال اور عوامی بنانے کے لیے اقدمات کریں گے تاکہ  پارٹی کی  کسی گورننگ باڈی کو عہدوں کی تقسیم کے لیے صرف شریف خاندان یا چند  بااثر گھرانوں ہی کی طرف نہ دیکھنا پڑے۔ نواز شریف دیکھ سکتے ہیں کہ عمران خان کی کامیابی و مقبولیت کی ایک بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان کے خاندان کا  پارٹی پر کنٹرول نہیں ہے اور عام ورکر کو بھی  تحریک انصاف میں اہم پوزیشن حاصل کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ تحریک انصاف کی تمام تر بے اعتدالیوں کے باوجود تمام سیاست دان اس حقیقت سے سبق سیکھ سکتے ہیں کہ  سانحہ9 مئی کے بعد اہم اور نمایاں لیڈر وں نے پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹیوں  میں پناہ  لی یا سیاست سے کنارہ کش ہونے کا فیصلہ کیا لیکن اس کے باوجود تحریک انصاف کمزور نہیں ہوئی کیوں کہ عمران خان نئے  لوگوں کو آگے لاتے رہے اور  انہیں پارٹی کی نمائیندگی کا موقع دے رہے ہیں۔

نواز شریف اسی صورت میں عوام سے شکوہ کرسکتے تھے اگر انہوں نے  چالیس سالہ سیاسی زندگی میں اقتدار کی جد و جہد کے علاوہ اپنی پارٹی کو فعال اور مؤثر پلیٹ فارم بنانے کا کام کیا ہوتا جو کسی بھی سیاسی ناانصافی کی صورت میں قومی سطح پر آواز اٹھانے  کے قابل ہوتی۔  کسی بھی ملک کے عوام سیاسی پارٹیوں کے پلیٹ فارم سے ہی  اپنی  خواہشات و ترجیحات کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن نواز شریف سمیت کسی بھی لیڈر نے نہ تو اپنی پارٹی  منظم کی بلکہ   اقتدار کے لیے  اسٹبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ کرتے ہوئے  سیاسی پلیٹ فارم کو عوامی امنگوں سے دور کردیا۔ اس صورت میں  لیڈروں کو کسی تکلیف پر عوام سے  شکوہ کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔

اس تقریر میں نواز شریف نے  ماضی میں اپنی حکومتوں کو برطرف کرنے کے واقعات پر  افسوس ظاہر کرنے کے علاوہ متعدد ججوں کو اپنی سیاسی مشکلات کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے عمران خان پر بھی الزام لگایا کہ وہ 2013 میں ان کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے بعد  اسٹبلشمنٹ کا آلہ کار بن گئے اور 2014 میں ان کی حکومت کے خلاف  احتجاج و دھرنا دینے پر آمادہ ہوگئے۔ نواز شریف کی باتیں خواہ جتنی بھی سچی ہوں تاہم یہ تصویر کا ایک ہی رخ پیش کرتی ہیں۔ اگر  ماضی میں رونما ہونے والے واقعات کی بنیاد پر ہی کوئی پارٹی سیاست کرنا چاہے گی تو اس کی کامیابی  کا کوئی امکان نہیں ہے۔ پاکستان کی پوری تاریخ سازشوں اور سیاسی عمل کو  سبوتاژ کرنے کے طریقوں سے بھرپور ہے۔ اس عمل میں سیاست دان ہی ایک دوسرے کے خلاف غیر جمہوری و غیر آئینی  ہتھکنڈوں کا حصہ رہے ہیں۔ نواز شریف کا دامن بھی ایسی آلائشوں سے پاک نہیں ہے۔ دوسروں سے حساب مانگتے ہوئے انہیں خود بھی تاریخی تناظر میں  اپنے سیاسی کردار کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ تاہم اس وقت غلطیوں کی نشاندہی کرنے  اور ان پر حساب لینے کی بجائے ماضی بھلاکر مثبت طریقے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔   اپنی پارٹی کا صدر منتخب ہونے کے بعد نواز شریف اس طرف توجہ دے سکیں تو بہتر ہوگا۔ تاہم اس کے لیے انہیں شکوہ شکایت کی بجائے مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے کا خاکہ پیش کرنا ہوگا۔

نواز شریف کو بلاشبہ عمران خان سے شکوے ہوسکتے ہیں لیکن  ماضی میں نظام کے ستائے ہوئے سیاست دان کے طور پر انہیں یہ احساس بھی ہونا چاہئے کہ  عمران خان اس وقت  جیل میں قید ہیں، انہیں اظہار رائے کی آزادی سے محروم کیا گیا ہے، ان کی پارٹی کو شدید سیاسی مشکلات کا سامنا ہے اور  تحریک انصاف کا راستہ کاٹنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس وقت نواز شریف کو عمران خان کے ساتھ ماضی کی غلطیوں کا حساب برابر کرنے کی بجائے ایک بردبار سیاست دان کے طور پر ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی چاہئے۔ ایک سیاسی لیڈر کے طور پر  عمران خان کو سیاسی طور سے چیلنج کرنا چاہئے اور انہیں پسپا کرنے کے لیے انتظامی ہتھکنڈوں یا حکومتی اختیارات استعال کرنے کے طریقے کو مسترد کرنا چاہئے۔

یہ درست ہے کہ عمران خان   اور تحریک انصاف نے نواز شریف کی کردار کشی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور مسلسل انہیں مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ تاہم قوم کی رہنمائی کا عزم رکھنے والے لیڈر کو دل بڑا کرنا چاہئے  اور اپنے شدید سیاسی دشمن کے لیے بھی خیر سگالی کے جذبات کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ اسی صورت میں ملکی حالات میں بہتری کے آثار  پیدا ہوں گے۔