ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد امریکہ نے ایران کی مدد سے انکار کیا تھا
امریکہ نے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد ایران کی جانب سے مدد کی درخواست کے باوجود وہ تہران کی مدد کرنے سے قاصر رہا۔
ترجمان محکمۂ خارجہ میتھیو ملر نے پیر کو پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد ایرانی حکومت نے مدد کی درخواست کی تھی جسے لاجسٹک مسائل کی وجہ سے قبول نہیں کیا جا سکا۔ امریکہ نے ایرانی حکومت پر واضح کر دیا تھا کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں مدد کی ضرور پیشکش کرتے۔ لیکن بڑے پیمانے پر لاجسٹک مسائل کی وجہ سے ہم انہیں مدد فراہم نہیں کر سکے۔
انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کون سے لاجسٹک مسائل تھے جس کی وجہ سے ایران کی درخواست قبول نہیں کی گئی۔
ایران کے صدر ابراہیم رئیسی، وزیرِ خارجہ حسین امیر عبدالہیان اور دیگر چھ افراد گزشتہ روز ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ تہران کی جانب سے حادثے کی وجہ تاحال نہیں بتائی گئی۔ امریکہ سمیت دنیا کے کئی ملکوں نے ہیلی کاپٹر حادثے میں ایرانی صدر سمیت دیگر کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔
ابراہیم رئیسی امریکی ساختہ ہیلی کاپٹر بیل 212 میں سوار تھے اور وہ اتوار کو آذربائیجان کے ساتھ متصل سرحدی علاقے میں واپس آ رہے تھے کہ ان کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ موسم کی خرابی کے باعث امدادی ٹیمیں کئی گھنٹوں بعد جائے وقوعہ پر پہنچ پائی تھیں۔
ایران کے سابق وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو کے دوران ہیلی کاپٹر حادثے کا ذمے دار امریکہ کو قرار دیا ہے۔ جواد ظریف نے الزام عائد کیا کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے تہران اپنی ایوی ایشن صنعت کے لیے جدید پرزے حاصل نہیں کر سکا جس کی وجہ سے اتوار کو ہیلی کاپٹر حادثہ پیش آیا۔
امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن سے جب ایران کی جانب سے الزامات سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا ہیلی کاپٹر حادثے سے کوئی تعلق نہیں اور وہ حادثے سے متعلق کوئی قیاس آرائی نہیں کر سکتے۔ لائیڈ آسٹن نے ان خدشات کی بھی تردید کی کہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد مشرقِ وسطیٰ پر اس کے کسی قسم کے اثرات مرتب ہوں گے۔