اسرائیل اور حماس یکساں طور سے انسان دشمن ہیں
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 21 / مئ / 2024
عالمی فوجداری عدالت میں چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو، وزیر دفاع یوو گالانٹ کے علاوہ حماس کے تین لیڈروں اسماعیل ہانیہ،یحیٰ سنوار اور محمد دریف کے عالمی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا دائر کی ہے۔ پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ یہ سب لیڈر جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں اس لئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا جائے۔
اسرائیلی حکومت اور وزیر اعظم کے علاوہ امریکی صدر جو بائیڈن نے پراسیکیوٹر کے اس اقدام مسترد کیا ہے ۔ صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور حماس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس اقدام کو ایک تاریخی رسوائی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جبکہ نیتن یاہو نے پراسیکیوٹر کریم خان کو براہ راست نشانہ بنایا اور انہیں یہود دشمن اور نازی دور کےان ججوں کے مماثل قرار دیا جو ہولوکوسٹ پر خاموش رہے تھے۔ حماس نے بھی عالمی کریمنل کورٹ کے پراسیکیوٹر کے اقدام کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ’اس طرح مظلوم کا موازانہ ظالم سے کیا گیا ہے۔ حماس کے خیال میں ہزاروں جرائم کرنے کے بعد اسرائیلی قیادت کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست سات ماہ تاخیر سے آئی ہے۔
عالمی عدالت انصاف کے پراسیکیوٹر کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ پر اسرائیل کی انسانیت دشمن کارروائی کو آٹھواں مہینہ شروع ہوچکا ہے اور اسرائیلی فوج رفحہ پر حملہ کو توسیع دے رہی ہے۔ رفحہ میں پناہ لینے والے بارہ تیرہ لاکھ لوگوں میں سے 8 لاکھ کے لگ بھگ ایک بار پھر دربدر ہیں اور پناہ کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے پر مجبور ہیں۔ اسرائیلی بربریت پر پوری دنیا شدید رنج و غم کی کیفیت میں ہے اور درجنوں امریکی یونیورسٹی کے طالب علم اس جارحیت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ یورپ کے تمام بڑے شہروں میں تسلسل سے جنگ مخالف لوگ امن کی اپیل کرنے اور اسرائیلی مظالم کو مسترد کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
اس پس منظر میں عالمی فوجداری عدالت میں اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کے بارے میں پیش رفت پر اسرائیل کی بدحواسی قابل فہم ہے۔ پوری دنیا کے سامنے اس کی جارحیت اور نہتے انسانوں کے خلاف یک طرفہ شدید بمباری، پیش قدمی اور غزہ پر قبضہ کے ہتھکنڈوں سے اسرائیل کے چہرے سے مہذب ملک ہونے کا نقاب اتر چکا ہے ۔ اسرائیل جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے خود کو فلسطینی لوگوں سے نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے اور مغربی ممالک انسانیت کے جعلی دعوؤں کی آڑ میں اسرائیل کی انسان دشمنی کا دفاع کرنے پر مامور رہتے ہیں۔
تاہم عالمی کریمنل کورٹ میں دائر ہونے والی درخواست نے حقیقی صورت حال واضح کی ہے جس پر اسرائیل کا تلملانا قابل فہم ہوسکتا ہے۔ اس سے پہلے جنوبی افریقہ عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ قائم کرچکا ہے جس پر سماعت جاری ہے۔ اس صورت حال میں امریکہ اور مغربی ممالک کو اسرائیل کی بجائے عالمی فوجداری عدالت اور اس کے پراسیکیوٹر کی پشت پر کھڑا ہونا چاہئے تھا تاکہ اسرائیل کو باور کروایا جاتا کہ اب دنیا یک طرفہ جارحیت کے اقدامات کو حق دفاع کے نام نہاد ڈھکوسلے کی بنیاد پر قبول کرنے پر تیار نہیں ہے۔ لیکن بدقسمتی سے امریکہ و یورپی ملکوں کی حکومتیں اسرائیل کی واضح انسان دشمنی اور نہتے لوگوں پر مسلط کی گئی جنگ کے باوجود اس بہیمیت کو کھلے الفاظ میں مسترد کرنے پر تیار نہیں ہیں۔
امریکہ تسلسل سے سلامتی کونسل میں اسرائیلی جنگ جوئی کے خلاف قرارداوں کو ویٹو کرتا آیا ہے۔ امریکی حکومت کی طرف سے غزہ کے شہریوں کی دیکھ بھال اور سلامتی کے نام نہاد دعوؤں سے قطع نظر صدر بائیڈن انتہائی ڈھٹائی سے اسرائیلی جارحیت کو حق دفاع کا نام دے کر اپنے طویل سیاسی کیرئر پر سیاہ دھبے لگانے کا سبب بن رہے ہیں۔ صدارتی انتخاب جیتنے کی دھن میں وہ امریکہ کے یہودی ووٹروں اور اسرائیل نواز لابی کو ناراض کرنے کا حوصلہ نہیں کرتے۔ اس موقع پر وہ بھول جاتے ہیں کہ امریکہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کا علمبردار بنتا ہے اور ہر ملک سے معاملات طے کرتے ہوئے انسانی حقوق کی حفاظت کی ضمانت چاہتا ہے لیکن اسرائیل کا ذکر آتے ہی امریکہ کے یہ اصول دھڑام سے زمین بوس ہوجاتے ہیں۔
صدر جو بائیڈن نے وہائٹ ہاؤس میں یک یہودی ثقافتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نیتن یاہو سمیت سینئر اسرائیلی عہدیداروں کے وارنٹ گرفتاری کے لیے دی گئی درخواست پر تنقید کرتے ہوئے اس اقدام کو اشتعال انگیز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پراسیکیوٹر کا مطلب کچھ بھی ہو، اسرائیل اور حماس کے درمیان کوئی بھی برابری نہیں ہے۔ ہم اسرائیل کی سلامتی کو لاحق خطرات کے خلاف ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ اسرائیلی افواج غزہ میں حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی فوجی مہم میں نسل کشی نہیں کر رہی ہیں‘۔
امریکی صدر کا یہ مؤقف امریکی اقداار، انسانی اصولوں، عالمی رائے عامہ اور جان و مال کی حفاظت کے تمام بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس بیان سے یوں لگتا ہے کہ امریکہ ، اسرائیل کو خوش کرنے کے لیے فلسطینیوں اور عرب باشندوں کا خون بہانا جائز سمجھتا ہے۔ امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ حماس اور اسرائیل کی برابری نہیں ہوسکتی۔ اس بیان کو زاویہ تبدیل کرکے دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ واقعی یہ برابری ممکن نہیں ہے۔ اسرائیل ایک منظم اور جدید ہتھیاروں سے لیس ایک بڑی فوجی طاقت ہے جبکہ وہ اپنے ہی دعوے کے مطابق حماس کا مقابلہ کررہا ہے۔ حماس ایک چھوٹا سا گروہ ہے جسے کسی قسم کی رسد کی فراہمی کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے جبکہ امریکہ اسرائیل کو ہر قسم کی فوجی امداد فراہم کررہا ہے اور اس کی حفاظت کے لیے بحیرہ روم میں امریکی بڑا بھی تعینات کیا گیا ہے۔
اس صورت میں اسرائیل اور حماس کا کوئی مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک دونوں کے جرائم کی نوعیت و سنگینی کا تعلق ہے، ان کا بھی باہم کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ حماس نے 7 اکتوبر کی دہشت گردی میں 1200 اسرائیلی شہری ہلاک کیے اور چند سو یرغمال بنالیے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کے پچیس لاکھ لوگوں پر سات ماہ سے جنگ مسلط کی ہوئی ہے اور 35 ہزار سے زائد شہریوں کو ہلاک کرچکا ہے۔ وزیر دفاع یوو گالانٹ نے جنگ کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں نے غزہ کے مکمل محاصرے کا حکم دیا ہے۔ بجلی، خوراک، ایندھن، سب بند کر دیا گیا ہے۔ ہم انسانی جانوروں سے لڑ رہے ہیں اور ہم اس کو ذہن نشین کرتے ہوئے عمل کریں گے‘۔
مہذب دنیا کا نام نہاد لیڈر امریکی صدر اس ملک کی حمایت میں ہر اخلاقی بنیاد کو پامال کرنے پر تیار ہے جو غزہ میں رہنے والے لوگوں کو انسان بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حماس ضرور تشدد اور دہشت گردی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے لیکن دنیا بھر میں اسے دہشت گرد گروہ ہی مانا جاتا ہے اور غزہ کے شہری بھی اس کے مظالم کا نشانہ ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل خود کو مہذب جمہوری ملک کہتا ہے لیکن اس کا طرز عمل غیر انسانی ہے اور تمام عالمی ضابطوں کے خلاف ہے۔ اس پس منظر میں اس مقابلے میں اسرائیل بدترین مجرم کے طور پر سامنے آتا ہے۔ خاص طور سے اگر اس کی جنگ جوئی کو فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہتھکنڈے کے طور پر دیکھا جائے تو ساری حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔ اسرائیل عالمی طور سے تسلیم شدہ اصول دو ریاستی حل کو ماننے پر آمادہ نہیں ہے اور کسی بھی طرح فلسطینی علاقوں پر یہودی آبادیوں کے ذریعے فلسطینیوں کی زیادہ سے زیدہ زمین ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ غزہ میں جنگ جوئی کا مقصد حماس کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ وہاں سے فلسطینی باشندوں کا خاتمہ ہے۔ یہ بات عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ کے استغاثہ سے بھی ثابت ہوچکی ہے اور اب عالمی کریمنل کورٹ کے پراسیکیوٹر کی درخواست میں بھی یہی واضح کیا گیا ہے۔
انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کے چیف پراسیکوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ بنیامن نیتن یاہو اور ان کے وزیر دفاع یوو گالانٹ نے غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سرزد کیے ہیں ۔ اس بات پر یقین کرنے کی معقول وجوہات ہیں۔ انہوں نے حماس کے تین اہم رہنماؤں اور اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیر دفاع پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ کریم خان کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کی درخواست کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور مسلح تصادم کے قوانین کا اطلاق تمام فریقوں پر ہوتا ہے، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ کوئی سپاہی، کمانڈر اور نہ ہی سویلین رہنما، حدود کے بغیر کام نہیں کر سکتا۔ قانون لوگوں کے لیے مختلف نہیں ہو سکتا، اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم خود اس کی تباہی کے ذمہ دار ہوں گے‘۔
پراسیکیوٹر کے مطابق یہ دونوں فریقوں کے طرز عمل کو بین الاقوامی قانون کے مطابق پرکھنے کا معاملہ ہے۔ آئی سی سی کے پراسیکوٹر کریم خان نے صرف یہ کہا ہے کہ دونوں فریقوں نے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ ان کی درخواست میں دونوں فریقوں کا کوئی براہ راست موازنہ نہیں کیا گیا۔
اس حوالے سے اسرائیل کی مرکزی انسانی حقوق کی تنظیم بسلم کا کہنا ہے کہ یہ وارنٹ اسرائیل کی تیزی سے اخلاقی گراوٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کا مزید کہنا ہےکہ ’بین الاقوامی برادری بھی اسرائیل کو یہ عندیہ دے رہی ہے کہ وہ اب تشدد، قتل و غارت اور تباہی کی پالیسی جاری نہیں رکھ سکتا‘۔ انسانی حقوق کے کارکن بہت عرصے سے اس بات کی شکایت کر رہے ہیں کہ امریکہ کے زیر قیادت طاقتور مغربی ممالک نے اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ ان بیانات کی روشنی میں صدر بائیڈن یا برطانوی وزیر اعظم کے بیانات کو پرکھا جائے تو ان کا دوغلا پن اور انسانیت کے جعلی دعوؤں کا پول کھل جاتا ہے۔ مغربی ممالک کے لیڈر خود اپنے لوگوں میں اعتبار کھو رہے ہیں۔ جنگ کے خلاف امریکہ اور یورپ میں ہونے والے مظاہرے اس کا بین ثبوت ہیں۔
اسرائیل کا المیہ یہ ہے کہ نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوگئے تو ان کے ماتھے پر لگا ہؤا یہ کلنک اس بات کا ثبوت ہوگا کہ ان کی قیادت میں اسرائیل نے تمام انسانی اصولوں کو پامال کیا۔ بائیڈن اور رشی سونک کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ وہ اس کلنک کو ابھی سے دھونے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔