کسانوں کے ملک بھر میں مظاہرے، حکومت سے گندم خریدنے کا مطالبہ

  • بدھ 22 / مئ / 2024

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کی کال پر ملک بھر کے 30 مختلف اضلاع میں کسانوں نے مظاہرے کیے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ کاشتکاروں سے گندم خریدے اور بحران میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے۔

ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں  لاہور، ملتان، بہاولپور، وہاڑی، جھنگ، پاک پتن، چنیوٹ، قصور، خانیوال، بہاول نگر، ڈیرہ غازی خان، بورے والا، چشتیاں اور جام پور میں احتجاج کیا گیا۔ سندھ میں کسان کراچی، شکارپور، نواب شاہ، قمر شہداد کوٹ، نوشہرو فیروز، میرپور خاص، دادو، سانگھڑ اور شاہ پور چکر میں سڑکوں پر نکل آئے۔ اسی طرح بلوچستان میں کوئٹہ اور جھل مگسی میں بھی احتجاج کیا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا میں پشاور اور مردان میں مظاہرے کیے گئے۔

لاہور میں مال روڈ چیئرنگ کراس پر خواتین اور نواجونواں سمیت سیکڑوں کسان جمع ہوئے۔ انہوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر کاشتکاروں سے گندم خریدی جائے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق طارق نے مطالبات کا چارٹر پیش کیا، جس میں کاشتکاروں سے گندم کی خریداری، فصل آنے سے قبل گندم کی درآمدات میں ملوث افراد کی گرفتاری، ہر پیداوار کی مناسب قیمت کو یقینی بنانے کے لیے مارکیٹ ریگولیشن کا مطالبہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ  نجی شعبے کو گندم درآمد کرنے کی اجازت دینے کی پالیسی واپس لی جائے۔ تمام فصلوں کے لیے امدادی قیمت دی جائے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ’کسان مخالف‘ پالیسیوں کو قبول نہ  کیا جائے۔ انہوں نے گندم اسکینڈل سے متاثرہ کسانوں کے لیے زر تلافی اور چھوٹے کسانوں کو سود پر قرض دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے مطالبات بھی کیے۔

لاہور میں احتجاج سے خطاب کرنے والوں میں صائمہ زا، رفعت مقصود، قمر عباس، ضیغم عباس، حسنین جمیل، علی عبداللہ اور دیگر شامل تھے۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔