ناروے نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کردیا

  • بدھ 22 / مئ / 2024

ناروے کی حکومت نے فلسطین ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم یوناس گار ستورے نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں فلسطینیوں کی عیلحدہ ریاست کے بغیر امن ممکن نہیں ہے۔

وزیر اعظم گار ستورے نے اوسلو میں وزیر خارجہ ایسپن برتھ آئیدے کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دو ریساتی حل سے ہی اسرائیل اور فلسطینی باشندے پر امن ہمسایوں کی طرح رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے 1967 کی حد بندی کی بنیاد پر فلسطین کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کو بھی خود مختار ریاست کے طور پر رہنے کا حق حاصل ہے۔

ناروے کے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے بعد دوسرے ممالک کو بھی یہی اقدام کرنے پر آمادہ کریں گے تاکہ قیام امن کے لیے راستہ ہموار ہوسکے۔ اس سے پہلے سپین نے بھی فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے ان تمام ممالک کی مذمت کی ہے جو فلسطین کو تسلیم کرکے اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے احتجاجاً ان سب ملکوں سے اپنے سفیر واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ اسرائیل سعودی عرب معاہدہ میں بنیادی شرط فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اب اسرائیل کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ یہ راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔