نوازشریف کا بیانیہ اور لیگی صدارت
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 23 / مئ / 2024
کئی زیادتیاں اور منافقتیں، منافرتوں میں ڈھل کر ایسی شدید ہوجاتی ہیں کہ کوئی بھی باضمیر و بااصول انسان مرتے دم تک ان دھوکے بازوں کو معاف نہیں کرسکتا۔
مفاد پرست لوگوں کو چاہیے کہ وہ دھوکہ دہی اور بے اصولی کرتے وقت ریڈلائن کراس نہ کریں جسے انسانی تعلقات میں پوائنٹ آف نوریٹرن کہاجاتا ہے۔ ہمارے کچھ نیک دل صلح جُو لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ چکنے اور میٹھے بھاشن دیتے ہوئے انسانی احساسات کا ادراک ملحوظ خاطر رکھیں، ورنہ ان کا رول ہماری روایتی دیہاتی پھپے کٹنی جیسا قرار پائے گا۔
کہا جاسکتا ہے کہ ہر پھڈے یا بدترین زہریلی تلخی کا اختتام تو بالآخر مذاکرات اور معافی تلافی پر ہی ہوتا ہے، درست ہے لیکن موذی سانپ جیسی ذہنیت کے زہریلے دانت توڑے بغیر کہاں کے مذاکرات اور کون سی معافی تلافی۔ ورنہ وہ اپنی سرشت سے مجبور ہوکر موقع ملنے پر آپ کو دوبارہ ڈسے گا اور سمجھ دار انسان ایک بل سے دوبارہ ڈنک نہیں کھاتا۔
ہماری قومی سیاست میں نوازشریف نہ تو مسیحا ہے اور نہ اتاترک جیسا کوئی آئیڈیل لیڈر، وہ کوئی فلاسفر ہے نہ تھنکر۔ وہ جب بات کررہا ہوتا ہے تو درویش کو کھٹکا لگا رہتا ہے کہ کہیں اکھڑ نہ جائے اس کے ساتھ ہی اگر تنقید نگار حوصلے سے کام لیتے ہوئے ضمیر کی مطابقت میں اظہارِ خیال کی اجازت مرحمت فرمادیں تو یہ عاجز عرض گزار ہے کہ پچھلے چھیتر ، ستتر برسوں میں اس ملک کو نوازشریف سے مخلص لیڈر ملا اور شاید نہ ہی مسلم لیگ کو 1906 سے لے کر ان جیسا بھلا مانس، ہمدرد اور دل درد مندرکھنے والا بااصول صدر ۔
نوازشریف پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیاجاتا ہے کہ وہ اسٹبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ کر کوچۂ سیاست میں نمودار ہوئے۔ کوئی شک نہیں مگر بال کی کھال ادھیڑنے والے ہمارے یہ معترضین شاید پاک ہند ہسٹری کا زیادہ ادراک نہیں رکھتے۔ ورنہ وہ اس حقیقت سے قطعی بے خبر نہ ہوتے کہ ہماری پیاری لیگ کی تو پیدائش ہی اپنے وقت کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی گود یا نرسری میں ہوئی تھی۔ ہمارے مرشد سرسیدؒ سے بڑھ کر بھی اس خطۂ ہند میں کیا انگریز سرکار کا کوئی وفادار تھا؟ 1906 کا کارنامہ کیا اُسی محسنِ اعظم کے شاگردوں نے سر انجام نہیں دیا تھا؟ جسے شک ہے وہ نومولود لیگ کے مقاصد قیام یا دستوری ضوابط بڑے شوق سے ملاحظہ فرمالے۔ ولادت تو رہی ایک طرف کیالیگ کی پوری گروتھ، اٹھان اور شباب اپنے وقت کی اسٹیبلشمنٹ کا مرہونِ منت نہیں تھا؟
یہ فخر واعزاز ٹیڑھی راہوں کے سیدھے مسافر کو جاتا ہے کہ جس نے لیگ جیسی اسٹیبلیشمنٹ کی باندی کو نیا حوصلہ، بیانیہ اور وژن دیتے ہوئے طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے بالمقابل لاکھڑے کیا۔ ”میں ڈکٹیشن نہیں لوںگا….“ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اتنا بڑا چیلنج کرنے کے لیے جس دل گردے کی ضرورت تھی وہاں بڑوں بڑوں کا پتا پانی ہوجاتا ہے۔ جب بندوق والا بالمقابل کھڑا آنکھیں پھاڑے چلارہا ہو کہ استفعیٰ لکھو اور اُسے جواب مل رہا ہو
on my dead body
انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد
نوازشریف نے لیگ کے ایک اجلاس میں اپنے اس کرب پر جلے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے پارٹی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ سنٹرل ورکنگ کمیٹی یا پارٹی کا نہیں تھا، ان لوگوں کا تھا جنہوں نے کہا کہ نوازشریف نے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی اس لیے اسے نااہل کردو، جیل میں ڈال دو، پارٹی صدارت سے ہٹا دو یہاں تک کہہ دیا کہ نوازشریف کے دستخطوں سے پارٹی سینٹرز کو ٹکٹ بھی جاری نہیں ہوسکتے۔ جسٹس صدیقی نے کہا میرے پاس جرنیل آئے اور کہا کہ نوازشریف اور مریم کو جیل میں رکھنا ہے باہر نہیں آنے دینا ورنہ ہماری دو برسوں کی محنت ضائع ہوجائے گی۔ ثاقب نثار کی آڈیو لیکس میرے پاس محفوظ ہے جس میں وہ یہ سب باتیں بحیثیت چیف جسٹس کہہ رہا ہے۔ کیا ان لوگوں کا احتساب نہیں ہونا چاہیے؟
مجھے بتائیں جو جج چیف جسٹس بننے والا تھا وہ وقت سے پہلے استعفیٰ دے کر بھاگ کیوں گیا؟ یہ لوگ مجھے ہٹا کر ایسے بندے کو لائے جس نے تباہی مچادی۔ ہماری سات دہائیوں پر محیط تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ 93 کی تاریخ 99 میں پھر دہرائی گئی۔
اپنی داستانِ الم سناتے ہوئے نوازشریف نے سابق کھلاڑی کے گھناؤنے رول کو کڑے ہاتھوں لیا۔ ان کے الفاظ تھے کہ ہم 2013 میں جیت کر آئے تو حکومت سنبھالتے ہی نوازشریف سب سے پہلے بنی گالہ جاتا ہے اور سابق کھلاڑی سے کہتا ہے کہ پینتیس پنکچرز کی رٹ چھوڑو ملک کی تعمیر و ترقی میں مل کر حصہ ڈالتے ہیں۔ اس وقت دونوں پارٹیوں کی قیادت وہاں موجود تھی۔ خوشگوار ملاقات ہوئی جب میں اٹھنے لگا تو مجھے بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ہماری بنی گالہ کی سڑک بنوادیں جو ہم نے پندرہ روز میں بنوادی۔ لیکن اس شخص نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا، مجھے کہا کہ آپ سے تعاون کروں گا دوسری طرف پتہ نہیں کہاں سے اشارہ ملا۔ لندن میں ظہیر الاسلام اور طاہر القادری سے ملے اور پھر دھرنے شروع ہوگئے۔
نوازشریف کی یہ ساری گفتگو اتنی بڑی سچائی ہے جسے اس دور کے اخبارات یا میڈیا میں ملاحظہ کیاجاسکتا ہے اور شاید ہی کوئی پڑھا لکھا بندہ اس سے بے خبر ہو۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ سابق کھلاڑی دھرنے شروع کرنے سے پہلے نوازشریف کو کامیابی کی مبارکباد بھی دے چکا تھا۔ آج بہت سے لوگوں کو اس سے ہمدردی ہوسکتی ہے لیکن سچائی کی نظر سے پرکھیں تو مکافاتِ عمل اور منفی ذہنیت فوری سامنے آجائے گی۔ درویش ہمیشہ عرض گزار رہا ہے کہ یہ شخص کرکٹ کا جیسا تیسا بھی کھلاڑی ہوگا سیاست کا اناڑی ہے۔ ورنہ سیاست میں 9 مئی جیسے واقعات کی گنجائش کسی صورت نہیں تھی۔ جس شخص کو ہٹانے کے لیے یہ خوفناک پلان بنایا گیا تھا کیا وہ ایسا گیا گزرا تھا کہ اسے اس کی سنگینی کا ادراک نہ ہو۔ سیاست جنونیت کا نام نہیں۔ یہ تدبر حوصلہ اور برداشت سکھلاتی ہے۔ جنونیت ہی نے تو ہماری قومی بربادی کر ڈالی ہے لہٰذا جس نے جو بویا ہے اُسے وہی کاٹنا ہے۔
نوازشریف نے اپنے خلاف ہونے والی تمام تر زیادتیوں اور بدسلوکیوں کے باوجود جس ہوشمندی، زیرکی اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا ہے آج اس کے ثمرات سب کے سامنے ہیں۔ یہاں بڑے بڑے تیس مار خاں آئے عسکری بھی عوامی بھی جو بیان بازیاں کرتے رہے کہ وہ تاریخ میں ظالم، دوغلے اور جھوٹے ثابت نہیں ہونا چاہتے مگر نوازشریف کے کرموں کا یہ پھل ہے کہ وہ آج تاریخ اور عوام کے حضور سرخرو ہیں۔ ان کے خلاف طوفانِ بدتمیزی اٹھانے والے آج تاریخ اور عوام کے سامنے ننگے ہوچکے ہیں۔ جبکہ میاں صاحب عوامی محبت و خدمت کا بیانیہ لیے ایک مرتبہ پھر سرگرمِ عمل ہیں۔
نوازشریف کی سیاست و قیادت لیگی صدارت کی محتاج نہیں لیکن ڈکٹیٹر ذہنوں اور ان کے ہمنواؤں کو ایکسپوز کرنے کے لیے پارٹی صدارت سنبھالنا ضروری تھی۔ انہوں نے روایتی لیگ کو جو نیا وژن دیا ہے، اس کی بدولت دوبارہ صدارت سنبھالنے پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ حق بہ حقدار رسید۔
۔