انیس احمد کا ناول ’نکا‘
- تحریر ڈاکٹر غافر شہزاد
- ہفتہ 25 / مئ / 2024
اپنے اسلوب اور تکنیک کے لحاظ سے ایک روایتی طرز کا قرار پاتا ہے۔ اس میں بہاولپور کے شہر یزمان میں واقع مزار چنن پیر اور صحرائی خانہ بدوشوں کی زندگی پیش کی گئی ہے جو بالآخر ایک جگہ قیام پذیر ہو جاتے ہیں۔
ناول میں ایک جانب خالص روحانی تجربے سے سرشار کردار حضرت چنن پیر کے دربار اور میلے پر آنے والے کرداروں کی حقیقی زندگی ہے اور دوسری جانب ایک ایسا گدی نشین ہے جو پیری فقیری کے نام پر معصوم عورتوں کو اپنے حجرے میں رات گزارنے کے لیے مجبور کرتا ہے۔ اور پھر اس سے 'نکا' جیسے کردار پیدا ہوتے ہین۔ ایک طرف زندگی مردہ اور مدفون ہو کر بھی ژندہ ہے اور دوسری جانب پیر صاحب ژندہ ہو کر بھی مردہ ضمیر کردار نبھا رہے ہیں۔ گویا زندگی کا وجود ان دو متضاد جگہوں پر اپنے اپنے انداز میں قائم ہے۔ اسی تصور نے تصوف کو بدنام کر رکھا ہے۔
زن، زر اور زمین پر لڑائی دراصل حق ملکیت جتانے پر ہوتی رہی ہے۔ اس ناول میں زن کو کشمکش کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔ پیر صاحب کے حجرے میں چلہ کاٹنے کے سبب پیدا ہونے والا ’نکا' اپنے چہرے کے خدو خال بھی پیر صاحب کی مشابہت میں لے آتا ہے جس کے سبب پیر صاحب کو پہلے شک پڑتا ہے اور پھر یقین ہو جاتا ے کہ ’نکا' ان کے اور امیر مائی کی نسل میں سے ہے۔ اسے وہ اپنا خون سمجھتے ہیں مگر کسی کو بتا نہیں سکتے۔ اپنے دوست شیرانی سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ نکے کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرے۔ دوسری جانب نکے کو جوگی بننے کا شوق ہے اور وہ بار بار اپنے اس شوق کا اظہار کرتا ہے۔
ناول میں ایک تیسرا مقام تنور والی مائی ہے جہاں ہر گھر سے روٹیاں لگوانے بچے بڑے عورتیں آتی ہیں۔ ناول کے کردار اور واقعات یہاں بھی کافی انجام پاتے ہیں۔ یہ جگہ بھی بہت متحرک اور اس طبقے کی زندگی کے مختلف عوامل کو ہمارے سامنے لاتی ہے۔ یہیں پر ایک مرتبہ ناگ نکل آتا ہے جسے پکڑنے میں کئی باتیں کھلتی ہیں یہاں تک کہ ناول کا کردار دلاور جو موچی بنا ہوا ہے، وہ اصل میں ایک ایسے قبیلے کا فرد ہے جو ناگ پالتے ہیں، اس کے کاٹے کا علاج کرتے ہیں اور ان کے پاس گیدڑ سنگھی بھی ہوتی ہے۔ یہاں اس کے خاندان کی کہانی کھلتی ہے۔
’نکا' ناول میں سرائیکی کلچر اور ثقافت کے خدو خال محفوظ کر دیے گئے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ پیروں فقیروں اور وڈیروں کے زیر سایہ زندگی گزارنے والوں کا اپنی عصمت سمیت سب کچھ انہی کا ہوتا ہے۔ وہ جب اور جیسے چاہتے ہیں، انہیں استعمال کرتے ہیں ان کی عورتوں کو کبھی پیر صاحب اور کبھی جاگیردار اپنی نفسانی خواہشات اور جنسی بھوک مٹانے کے لیے استعمال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔
نکے کی ماں پیر صاحب کے اس زبردستی کے عمل کو پسند نہیں کرتی اور دریا میں اپنے جسم کو صابن سے مل مل کر دھوتی ہے۔ اسی طرح جب دوسری بار جاگیردار اس سے زبردستی جنسی فعل سر انجام دیتا ہے اور وہ حاملہ ہو جاتی ہے تو دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لیتی ہے۔ یہ عورت کا کردار ہمیں انگریزی فلم Indecent proposal کی ہیروئن ڈیمی مور کے اس فلمی سین کی یاد دلاتا ہے جب ایک ملین ڈالر کے لیے اس کا منگیتر ایک رات ایک امیر آدمی کے ساتھ گزارنے کے لیے قائل کر لیتا ہے۔ اور صبح اپنے باتھ روم میں جس طرح وہ صابن سے رگڑ رگڑ کر اپنے جسم سے احساس مٹا دینا چاہتی پے، ویسے ہی نکے کی ماں کرتی ہے۔
’نکا' یونیورسٹی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب ایک لڑکی کہ جو اس کلاس فیلو ہوتی ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتی ہے، جب اس کے باپ کہ جو ایک بیوروکریٹ ہے، کے روبرو حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے کہ وہ پیر زادہ نہیں بلکہ حرامزادہ ہے تو اسے ایک سخت ردعمل کا سامنا کرتا ہے۔ یہی وہ مقام زندگی ہے جب وہ یہ زندگی چھوڑ کر جوگ لیتا ہے پہلے بالناتھ کے ٹلہ جوگیاں جاتا ہے۔ چالیس سال گزار دیتا ہے اور پھر واپس اپنے گاؤں آتا ہے جہاں نازو اسے بتاتی ہے کہ اس کا بڑا بیٹا اس چنن پیر کے میلے میں صحرا میں ان کے جسمانی اتصال کا حاصل ہے۔ یہاں ’نکا' اپنے بیٹے کو ساتھ لے جانے سے انکاری ہے اور چاہتا ہے کہ وہ نازو اور اس کے میاں کا بیٹا بن کر ہی باقی زندگی گزار دے۔
ناول کے آخر میں ’نکا' تبت کی جانب سفر پر روانہ ہو جاتا ہے جہاں انسان خود کو پا لینے کے ایک اور روحانی عمل سے گزرنے کے سفر پر روانہ ہوتا ہے۔
یہ ناول عکس پبلی کیشنز کے فہد نے خوبصورت انداز سے شائع کیا ہے۔ 500 صفحات سے زیادہ پر مشتمل یہ ناول اپنے اسلوب، زبان اور بیانیہ کے اعتبار سے نہایت طاقتور ہے جو اپنے قاری کو پکڑ لیتا ہے۔ ایسے ناول بہت کم اردو زبان میں لکھے گئے ہیں۔