اسلام ’زندہ‘ کرنے کی ایک اور کوشش
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 25 / مئ / 2024
سرگودھا کی مجاہد کالونی میں پولیس کی بھاری نفری نے بروقت پہنچ کر دو عیسائی خاندانوں کو محفوظ جگہ پر منتقل کیا ہے۔ دو ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار علاقے میں امن و امان قائم کرنے کے لیے متعین ہیں۔ تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ حالات قابو میں ہیں اور اس واقعہ میں کوئی شخص زخمی نہیں ہؤا۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اسد اعجاز ملہی نے سوشل میڈیا پر ہجوم کے ہاتھوں زخمی ہونے والے ایک بوڑھے شخص اور کمسن بچوں کی دیڈیوز کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ کسی اقلیتی رکن کو گزند نہیں پہنچی۔ ہجوم کو پولیس پرامن طور سے منتشر کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ البتہ آئی جی پنجاب کے ایک بیان کے مطابق اس کارروائی میں مشتعل لوگوں کے پتھراؤ سے 10 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اس بات پر محض حیرت و استعجاب کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ توہین مذہب کے نام پر عیسائی خاندانوں کو ’سزا‘ دینے کے لیے جمع ہونے والے ہجوم کے ہاتھوں شہری تو محفوظ رہے لیکن مسلح ہوکر ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنے والے پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
پولیس کے علاوہ سیاسی قیادت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مذہب کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کے واقعات کے بارے میں حقائق چھپانے سے ایسے رویوں کا سدباب نہیں ہوگا۔ بلکہ ان کے بارے میں حقیقی صورت حال سامنے لانے اور شہریوں کو اشتعال دلاکر جمع کرنے والے لوگوں کی شناخت عام کرنے سے ہی معاشرے کے بعض کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ اگر پولیس محض اپنی کارکردگی دکھانے کے شوق میں حقائق کی پردہ پوشی کرے گی یا حقیقی ملزموں کو چھپانے کی کوشش کی جائے گی تو مذہب کے نام پر معاشرے میں انتشار پھیلانے، قانون شکنی کرنے، معصوم لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی املاک تباہ کرنے جیسی قانون شکن کارروائیوں میں شامل ہونے والے عناصر اور ان کے سرپرستوں کے حوصلے بلند ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور سیکرٹری داخلہ نورالامین مینگل کوسرگودھا جانے کی ہدایت کی ہے۔ وہ حالات کا مشاہدہ کریں گے اور امن و امان کی صورت حال کے بارے میں وزیر اعلی کو رپورٹ کریں گے۔ نور الامین مینگل نے ایک بیان میں اس وقوعہ پر وزیر اعلیٰ کی شدید کا تشویش اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہوں گی اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ان کے مطابق مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’ پاکستان ہم سب کا ہے۔ مذہب کے نام پر کوئی ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی‘۔ صوبے کی چیف ایگزیکٹو کی طرف سے ایک اقلیتی عقیدے کے لوگوں کے خلاف پرتشدد واقعہ کا نوٹس لینے اور صوبے کے ایک اعلیٰ بیوروکریٹ کو جائے وقوعہ پر بھیجنے کا اقدام قابل قدر ہے لیکن مریم نواز کو اس معاملہ کی سیاسی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے تھی۔ سب جانتے ہیں کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے اشتعال انگیز واقعات انتظامی کی بجائے سیاسی معاملہ ہوتے ہیں۔ صوبے کی منتخب سیاسی حکومت کو محض بیان جاری کرنے اور پولیس یا بیوروکریسی سے حالات ٹھیک کرنے کے مطالبہ کی بجائے خود قیادت کی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے تھی۔
بہتر ہوتا کہ وزیر اعلیٰ خود فوری طور سے سرگودھا جاتیں اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرکے ان کی بحالی کی صورت حال اور ان کی املاک کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیتیں۔ اس اقدام سے پولیس اور دیگر سرکاری اہلکاروں کو بھی ذمہ داری کا بہتر احساس ہوتا۔ اگر کسی وجہ سے وزیر اعلیٰ خود نہیں جاسکتی تھیں تو انہیں کسی سینئر وزیر کو موقع پر پہنچ کر حالات و واقعات کے بارے میں مناسب فیصلے کرنے کا حکم دینا چاہئے تھا۔ جب تک سیاسی لیڈر مذہبی منافرت اور تشدد کے واقعات کے خلاف خود سرگرم نہیں ہوں گے اور انتشار پسند عناصر کو واضح پیغام نہیں دیا جائے گا کہ معاشرے میں مذہب کے نام پر بدامنی پھیلانے اور افواہوں کی بنیاد پر اشتعال انگیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا ،ا س وقت تک یہ صورت حال ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ ایک کے بعد دوسرا واقعہ یوں ہی معاشرے میں بے یقینی ، عدم تحفظ اور نفرت پھیلانے کا سبب بنتا رہے گا۔
غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق عیسائی خاندانوں کے خلاف مشتعل ہجوم کی اس کارروائی کے دوران میں دو خاندانوں کے گھروں اور ایک فیکٹری کو تباہ کیا گیا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایک بزرگ اور کئی معصوم بچے اس افسوسناک سانحہ میں زخمی ہوئے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ کسی عیسائی کی طرف سے توہین مذہب پر لوگ مشتعل ہوگئے اور ہجوم کی شکل میں مجاہد کالونی سرگودھا میں عیسائیوں کی املاک کے باہر جمع ہوگئے۔ پولیس اس بات کا کریڈٹ لینے کی کوشش کررہی ہے کہ اس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کوئی جانی نقصان نہیں ہونے دیا اور حالات پر قابو پالیا۔ حالانکہ اسے اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ کیسے محض ایک افواہ کی بنا پر عام لوگوں میں اشتعال پھیلایا جاتا ہے اور پولیس کیسے اس سارے عمل میں لاتعلق اور بے خبر رہ سکتی ہے۔ پولیس اگر چوکس ہوتی اور افواہ سازی کے مرحلے میں ہی ان لوگوں کی گرفت کرتی جو اشتعال انگیز باتیں کرکے عام لوگوں کو مذہب کے نام پر جمع کرتے ہیں اور قانون شکنی پر اکساتے ہیں تو معاملہ بگڑنے سے پہلے ہی سنبھالا جاسکتا تھا۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات میں پولیس کا تساہل یا کمزوری صورت حال سنگین کرنے کا سبب بنتی رہی ہے لیکن پولیس فورس کی تربیت میں کوئی تبدیلی نوٹس نہیں کی گئی۔
سرگودھا میں عیسائیوں پر حملہ آور ہونے والوں کے پاس معاشرے کے پرامن باشندوں کے خلاف اشتعال انگیزی کا کوئی جواز نہیں تھا۔ پولیس بھی ابھی تک یہ شواہد سامنے نہیں لا سکی کہ واقعی توہین مذہب کا کوئی واقعہ رونما ہؤا تھا۔ یوں تو اگر ایسا کوئی وقوعہ پیش بھی آتا ہے اور کوئی بدبخت واقعی اسلام یا اس کے شعائر کے بارے میں کوئی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرتا پایا جاتا ہے تو کسی شہری کو اسے نشانہ بنانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ ملک میں قانون کی عمل داری ہے اور پولیس ہی ایسے کسی فرد کو گرفتار کرکے عدالت سے اسے سزا دینے کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ توہین مذہب کے نام پر معاشرے میں افراتفری پیدا کرنےکے واقعات عام طور سے کسی درپردہ ایجنڈے کی تکمیل کے لیے رونما ہوتے ہیں۔ ملک کا تعلیمی نظام چونکہ نوجوانوں کو مذہبی رواداری کا سبق دینے میں ناکام ہے اور شہریوں کو قانون پر عمل درآمد کے لیے اپنی ذمہ دارویوں کا شعور نہیں ہے، اس لیے سماج دشمن عناصر کسی خفیہ ایجنڈا کی تکمیل کے لیے ہر تھوڑے عرصے کے بعد کسی ایسے واقعہ کا سبب بنتے ہی جس سے ایک طرف معاشرتی اضطراب و بے اطمینانی میں اضافہ ہوتا ہے تو دوسری طرف عالمی سطح پر پاکستان کو ایک شدت پسند اور مذہبی انتہا پسندی کے راستے پر گامزن ملک کی شہرت حاصل ہوتی ہے۔ یہ دونوں پہلو اپنی اپنی جگہ پر سنگین اور شدید تشویش کا باعث ہیں۔ اس لیے ان کے تدارک کے لئے مؤثر پالیسی بنانے اور ریاست کو دستیاب تمام وسائل کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔
کسی واقعہ کے بعد اس کی شفاف تحقیقات کرنے اور قصور واروں کو مناسب سزائیں دلانے میں ناکامی توہین مذہب کے نام پر تشدد کے تسلسل کی اہم ترین وجہ ہے۔ گزشتہ سال اگست کے دوران جڑانوالہ میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جہاں الزام تراشی کی بنیاد پر چند سو نوجوانوں پر مشتمل ہجوم نے عیسائیوں کے درجنوں گھر، چرچ اور املاک تباہ کردی تھیں۔ موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس وقت سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج تھے اور اس حیثیت میں وہ امدادی سامان لے کر عیسائی گھرانوں سے ملنے پہنچے تھے اور اس واقعہ پر شدید پریشانی کا اظہار کیا تھا۔ چند روز خبروں میں رہنے کے بعد اس واقعہ کو بھلا دیا گیا۔ پھر کسی کو معلوم نہیں ہوسکا کہ اس تباہی میں اپنے وسائل سے محروم ہونے والے مجبور عیسائی شہریوں کا کیا حال ہؤا۔ یا یہ اشتعال انگیزی کس مقصد سے کرائی گئی تھی۔
عام طور سے ذاتی دشمنی یا کوئی قیمتی جائداد ہتھیانے کے لیے اس قسم کے واقعہ کو اٹھایا جاتا ہے اور کسی پولیس تحقیق میں کبھی ایسے پس پردہ عناصر کا سراغ نہیں لگایا جاتا۔ پاکستانی عوام کو معلوم نہیں ہوسکا کہ جڑانوالہ سانحہ کے بعد مرکزی و صوبائی حکومتوں نے جو مستعدی دکھائی تھی، اس کا کیا نتیجہ نکلا اور کن لوگوں کو اس سماج دشمن حرکت پر کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔ سرگودھا میں رونما ہونے والا واقعہ بھی اسی طرح مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کیے گئے مظالم میں شامل ہوجائے گا اور چند دنوں یا ہفتوں میں اسے بھلا دیا جائے گا۔ لیکن اس قسم کے واقعات پاکستان کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہیں اور دنیا میں اس کی شہرت ک شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
انتظامیہ کی طرح سیاسی قیادت بھی فوری اقدامات کے بعد خاموش ہوجاتی ہے۔ کوئی واقعہ اسی وقت تک توجہ حاصل کرتا ہے جب تک اسے میڈیا میں جگہ مل پاتی ہے، اس کے بعد اسے بھلا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ معاشرے کی خرابی محض کسی خبر سے مشروط نہیں ہوتی۔ یہ تو اس وقت تک موجود رہے گی جب تک اسے دور کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ ہمارے لیڈر یہ علاج کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے کیوں کہ معاشرے میں پھیلائی گئی مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے وہ خود کو لاچار اور کمزور محسوس کرتے ہیں۔ سیاسی لیڈر وں کو مذہبی بنیاد پر پیش آنے والے تشدد پر بیان دینے سے پہلے ان مولویوں کا منہ دیکھنا پڑتا ہے جو مذہب کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں لیکن اقلیتوں کے خلاف جرائم پر دم سادھے رہتے ہیں بلکہ قانون شکن عناصر کی حفاظت کے لیے کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔ سیاسی لیڈروں کو سماجی خرابی پیدا کرنے میں دینی رہنماؤں کی اس اجارہ داری کو ختم کرنا پڑے گا۔
اسی طرح مذہبی رہنماؤں کو بھی غور کرنا ہوگا کہ وہ تادیر عوام میں انتہاپسندی پھیلا کر خود محفوظ نہیں رہ سکتے۔ کسی واقعہ کے بعد انتظامیہ کے تعاون سے ضلعی بنیاد پر قائم ہونے والی ’امن کمیٹیاں‘ متحرک ہوتی ہیں اور اقلیتی لیڈروں سے ’بھائی چارے‘ کے بیانات دلواکر سنگین جرائم کی پردہ پوشی کی جاتی ہے۔ حالانکہ ایسے افسوسناک سانحہ پر ملک بھر کے علما اور مساجد کے اماموں کو سخت اور یکساں مؤقف اختیار کرنا چاہئے۔ اسلام کو امن کا مذہب قرار دینے والے ان علما کو جمعہ کے خطابات میں ایسی مذہبی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے تاکہ معاشرے میں سب عقائد کے لوگ خود کو محفوظ محسوس کریں۔
لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ متعدد مذہبی لیڈر ایسے واقعہ کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح سے الزام متاثرہ اقلیت کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ باقی ماندہ ہزاروں عالم و شیوخ خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں ۔ گویا کسی اقلیت کے چند گھروں کو جلا کر ایک بار پھر اسلام کو ’زندہ‘ کرلیا گیا ہو۔