پنجاب: آسمانی بجلی گرنے سے 6 افراد جاں بحق
پنجاب کے مختلف اضلاع میں آندھی اور بارش کی وجہ سے آسمانی بجلی گرنے سے کم از کم 6 افراد ہلاک اور 5 زخمی ہو گئے۔
پنجاب ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان نے بتایا کہ جمعہ کی رات سیالکوٹ اور راولپنڈی اضلاع میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات پیش آئے اور وہ صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے زخمیوں کو فوری طبی امداد اور مرنے والوں کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے اس بات پر زور دیا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ چوکس اور فعال رہیں۔ انہوں نے انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار بھی کیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے طوفان کے دوران قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کے لیے بہترین طبی سہولیات کو یقینی بنانا ترجیح ہے۔
وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو متاثرہ علاقوں میں مؤثر امدادی کارروائیاں شروع کرنے اور پی ڈی ایم اے کو مزید بارشوں کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔
سندھ کے وسطی اور بالائی علاقے ہفتہ کو مسلسل پانچویں روز ہیٹ ویو کی لپیٹ میں رہے اور کم از کم 8 شہروں میں پارہ 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق دادو اور موہنجوداڑو میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 49.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، اس کے بعد جیکب آباد میں 49 ڈگری سینٹی گریڈ، پڈعیدن اور شہید بینظیر آباد میں48 ڈگری سینٹی گریڈ، سکھر، روہڑی اور لاڑکانہ میں 47.5 ڈگری سینٹی گریڈ، خیرپور میں47.4 ڈگری سینٹی گریڈ، سکرنڈ میں 46.5، میرپورخاص میں 43.5، حیدرآباد میں 44، بدین میں 42.2، ٹھٹھہ میں 37.5، چھور میں 46، مٹھی میں 45.5 اور ٹنڈوجام میں 44.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔