سپنا آگے جاتا کیسے؟.... منیر نیازی

منیر نیازی کی غزلوں کے کئی اشعار زبان زد ِعام ہیں اور مگر ان کی نظم کے اسلوب، طلسماتی فضا اور پراسراریت کے پیچھے جو عوامل کارفرما رہے ہیں، ان کا کھوج لگانے کی کم ہی کوشش کی گئی۔

اس سلسلے میں بہت کم معلومات میسر ہیں کہ جو مستند بھی ہوں اور منیر نیازی کی شخصیت سازی اور شعری اسلوب کی ساخت کی جانب اشارے کرتی ہوں۔سوشل اور پرنٹ میڈیا پر صرف ان کے انٹرویو موجود ہیں جن کی مدد سے ایسی قیاس آرائی کی جا سکتی ہے۔

 منیر نیازی نے اپنے ایک انٹرویوز میں بتایا: وہ ہندوستان میں ہوشیارپور کے قصبہ خانپور میں پیدا ہوئے، جہاں ان کا بچپن گزرا اور ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ خانپور میں روحانی سلسلے ''بسی والے'' کے بارہ خانوادے تھے جس کے اس علاقے کے لوگوں پر روحانی اثرات پڑتے رہے ہوں گے۔ پاکستان کے بعد بسی والوں کا ایک خانوادہ پاکپتن منتقل ہو گیا، ممکن ہے اسی وجہ سے منیر نیازی کے خاندان کے بہت سے افراد نے پاکپتن کے نزدیک ساہیوال کہ جو اس وقت منٹگمری کہلاتا تھا، 1947 کی مہاجرت کے بعد رہائش اختیار کی ہو۔ ویسے آپ کے آبااجداد کا جالندھر سے تعلق تھا۔ وہاں منیر نیازی کے چچاؤں کا ٹرانسپورٹ کا کاروبار تھا۔

 منیر نیازی کو جب خانپور میں اسکول پسند نہیں آیا تو وہ سری نگر چلے گئے وہاں اس وقت کے اساتذہ میں خلیفہ عبدالحکیم بھی شامل تھے۔ سری نگر کے فطری مناظر کا اکثر تذکرہ ان کی شاعری میں ملتا ہے۔ سری نگر کا نہایت خوبصورت نیچرل لینڈ اسکیپ تھا۔ یہ وہی سری نگر ہے جہاں مغل بادشاہ جہانگیر ہر سال گرمیوں میں جاتا تھا اور اس کے راستے میں ہی اس کی وفات ہوئی تھی۔ سری نگر میں شالیمار باغ تھا جو قدرتی جھرنوں، پھل دار اور پھول دار درختوں اور پودوں سے مزین تھا۔ پہاڑی پر ہونے کے سبب اس کی کئی سطحیں تھیں۔ اسی سے متاثر ہو کر بعدازاں شاہجہان نے لاہور میں شالیمار باغ بنوایا اور یہاں بھی وہی پھل دار اور پھول دار پودے لگوائے۔ اسی کی تقلید میں باغ کو تین سطحوں میں تقسیم کیا۔

 جن لوگوں کا جنگل میں سے گزرنے کا تجربہ ہے، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ جب گھنے جنگلوں میں شام ڈھلتی ہے تو سورج کی کرنیں کیسے کیسے رنگ اور شیڈ دکھاتی ہے۔ جنگل کو کس طرح پراسرار بناتی ہیں، دیکھنے والے کیسے اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ منیر نیازی کی شاعری میں جنگل، ہوا، شام، لینڈاسکیپ ممکن ہے، اسی بصری تجربے کے باعث آیا ہو جس کے حصار میں وہ اور ان کی شاعری پروان چڑھی۔

منیر نیازی کو ٹیگورکی شاعری پسند تھی۔ ٹیگوراس وقت تک انگریزی میں ترجمہ ہوچکے تھے اور انہیں نوبل انعام بھی مل چکا تھا۔ ٹیگور کے ہاں مشرق اور خصوصاً ہندوستان کی پراسراریت اور تہذیب کے خدوخال ملتے ہیں، جس کی جھلک ہمیں منیر نیازی کی شاعری میں بھی ملتی ہے۔ منیر نیازی نے انگریزی زبان میں شاعری کا آغاز کیا تھا اور گھر میں بھی انگریزی شاعری کی معیاری کتب موجود رہیں جن کا وہ مطالعہ کرتے تھے۔ بعد ازاں خورشید رضوی صاحب نے بھی اس کی تائید کی جب کہ ایک انٹرویو میں بیگم ناہید نیازی بھی اس کا ذکر کر چکی ہیں۔

منیر نیازی نے ساہیوال آنے کے بعد ''سات رنگ'' کے نام سے ایک ماہانہ ادبی رسالہ بھی نکالا جس کا اداریہ وہ خود لکھتے تھے۔ ایک پرنٹنگ پریس لگایا مگر معاشی حوالے سے رسالہ کامیاب نہ ہوا اور آپ بعد ازاں لاہور آ گئے۔ ساہی وال میں ابتدائی برسوں میں آپ انگریزی شاعری کرتے رہے۔ وہاں مجید امجد سے ملاقات کے بعد اردو شاعری اور خاص طور پر نظم کی جانب راغب ہوئے۔ پہلی اردو نظم مجید امجد کو ہی سنائی جس پر مجید امجد نے ستائش کی اور کہا کہ ایسی نظم اردو میں پہلے کبھی نہیں لکھی گئی۔ یہ نظم ایک ادبی رسالے میں شائع ہوئی اور آپ کے اوّلین شعری مجموعے میں بھی شامل ہے۔

جب تک منیر نیازی ساہیوال میں رہے، مجید امجد سے ملاقات رہی اور نظم لکھنے کے بعد پہلے انہیں ہی سناتے تھے۔ گویا نظم لکھتے وقت ان کے سامنے یہ بات ہوتی کہ مجید امجد کو نظم سنانا ہے۔ ایسی نظم کا معیار تو خود ہی اعلی ہونا تھا۔ لاہور آنے کے اوّلین برسوں میں انہیں یہی گلہ رہا کہ وہ نظم یا غزل لکھنے کے بعد لاہور میں کسے سنائیں؟ اس کا اظہار بھی ایک انٹرویو میں کیا۔ جب کوئی  مجید امجد کے معیار کا نہ ملا تو وہ ایک طرح سے اکیلے ہوگئے اور ان کی شخصیت اور شاعری کی پراسراریت اور طلسم میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔

اسلوب کے حوالے سے بھی منیر نیازی کی نظم بالکل الگ دکھائی دیتی ہے۔ اشفاق احمد نے ایک شعری مجموعے کے دیباچے میں منیر نیازی کی شاعری سے آسیب اور چڑیلیں برآمد کیں اور پھر جب بھی بات ہوتی، ان کے ہم عصر ان کی شاعری میں چڑیلوں کا ذکر کر کے بات غیرسنجیدہ کر دیتے۔

منیر نیازی نے زندگی میں کسی شاعر اور نقاد کو قریب نہیں آنے دیا کہ وہ اس کی شاعری اور اسلوب پر بات کرتا۔ منیر نیازی کی نظم میں ہمیں مجید امجد کی نظم سے جداگانہ اسلوب ملتا ہے جب کہ نظم کی فضا مجید امجد، میرا جی اور ن م راشد تینوں سے الگ ہے۔ انہوں نے زیادہ تر معریٰ نظمیں لکھی ہیں، کہیں کہیں ردیف قافیے کا اہتمام نظم میں غنائیت، موسیقیت اور روانی میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ مجید امجد کی نظم کی طرح منیر نیازی کی نظم میں آغاز، درمیان اور اختتام نہیں ہوتا۔ وہ کہیں سے بھی نظم شروع کر لیتے ہیں اور کہیں بھی اختتام کر دیتے ہیں مگر نظم اپنی معنویت اور فارم میں مکمل ہوتی ہے۔

گویا ان کے ہاں نظم کچھ یوں ہے کہ ان کے دماغ میں ایک چھپاکا ہوتا ہے، کوئی چمک ابھرتی ہے، اور وہ اس لمحے کو capture کرنے کے عمل میں نظم بناتے ہیں۔ اس وقت تک قطع و برید، ترمیم و اضافہ جاری رہتا ہے جب تک کہ مطمئن نہیں ہوجاتے۔ اسی سبب سے نظم میں تجریدیت درآتی ہے۔ عام گفتگو میں بھی وہ تمہید باندھے بغیر، بات کرتے وقت سیدھے اصل بات پر آ جاتے تھے۔ ان کے کمرے میں میز پر کاغذ اور پین ہر وقت موجود رہتا تھا۔ وہ نظم کی لائنیں لکھتے اور کاٹتے رہتے تھے گویا یہ ان کا تخلیقی عمل تھا جس سے گزر کر نظم مکمل ہوتی۔

منیر نیازی کی نظم کو انگریزی آرٹ کی Expressionism تحریک کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ Realism میں ارسطو کے نظریہ فن کے مطابق آرٹسٹ اصل کی ہو بہو نقل اتارنے کو فن کی معراج سمجھتا ہے، یہاں تک کہ انگور کی پینٹنگ بنا کر اگر باغ میں رکھ دی جائے اور پرندے آ کر انگور کے دانوں کو ٹھونگیں ماریں تو اسے فن کی معراج سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ ایکسپریشنزم میں تصویر کو پورا نہیں بنایا جاتا، کچھ حصے چھوڑ دیے جاتے ہیں تاکہ ناظر اپنی بصیرت اور بصارت سے وہ حصے مکمل کرکے، خود بھی اس کا حصہ بنے اور اپنے انداز میں معانی ترتیب دے۔

ایسی پینٹنگز کثیرالمعانی ہوتی ہیں۔ منیر نیازی کی نظمیں بھی اسی ذیل میں آتی ہیں اور انہیں سمجھنے اور محسوس کرنے کے لیے پڑھنے والے کی بصیرت اور بصارت درکار ہوتی ہے۔ منیر نیازی کی شاعری اور شخصیت دونوں میں یہ صفت تھی۔ اس لیے وہ جلد کسی کو اپنی شاعری اور شخصیت کے حصار میں داخلے کی اجازت نہ دیتے تھے۔ ان کی نظم میں جدید انسانی معاشرت اور شہری زندگی کے عکس لہراتے ہیں۔ منیر نیازی کی نظم کلاسیک سے الگ تھلگ کھڑی دکھائی دیتی ہے، یہی ان کی انفرادیت اور پہچان ہے۔

منیر نیازی مشاعرے میں شرکت کے لیے خصوصی تیاری اور لباس کا اہتمام کرتے تھے۔ گویا مشاعرہ اور اس میں شرکت ان کے لیے کوئی غیرمعمولی واقعہ ہو۔ ان کی شاعری اور اس کے موضوعات ان سے شروع ہو کر ان پر ہی ختم ہو گئے۔ یہ انفرادیت اور اسلوب کا نیا پن ان کی شاعری کی پہچان بنا ہے۔ وہ محفل کے آدمی تھے مگر ہم عصر شعرا سے زیادہ اپنے جونئیر شعرا کی محفلیں آباد رکھتے۔

26 دسمبر 2006 کو ان کا لاہور میں انتقال ہوا اور وہ ماڈل ٹاؤن قبرستان میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔