نواز شریف: پارٹی کی صدارت مبارک ہو مگر سیاست میں نیا خون بھی لائیے

نواز شریف  ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کے صدر منتخب کرلیے گئے ہیں۔ اس سے پہلے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا تاکہ نواز شریف پارٹی کی قیادت سنبھال سکیں۔ 2018 میں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد   انہیں پارٹی کی صدارت چھوڑنا پڑی تھی  تاہم مسلم لیگ  (ن) کو فیملی کنٹرول میں رکھنے کے لیے شہباز شریف  کو رسمی صدر بنا دیا گیا تھا۔

اس دوران میں نواز شریف  اگرچہ کسی باقاعدہ عہدے پر فائز نہیں رہے لیکن پارٹی نے انہیں  ’رہبر اعلیٰ‘  تسلیم کیا ہؤا تھا۔  وہ کوٹ لکھپت جیل سے علاج کے لیے لندن جانے کے بعد تین سال تک وہاں مقیم رہے۔  البتہ ملکی معاملات میں نواز شریف  کی رائے ہی  معتبر  سمجھی جاتی رہی۔  سابق آرمی چیف جنر ل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی مدت میں توسیع سے لے کر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے اور پھر شہباز شریف کی قیادت میں پی ڈی ایم کی حکومت  قائم کرنے کے اہم ترین معاملات  میں نواز شریف کی مشاورت ہی نہیں بلکہ رضامندی  بھی شامل تھی۔ بلاخوف تردید  کہا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن کے فیصلے نواز شریف کی مرضی کے بغیر  نافذالعمل نہیں ہوسکتے تھے۔ اس طرح  پارٹی صدارت اور ملکی سیاست  سے نکال باہر کرنے کے عدالتی فیصلے کے بعد بھی نواز شریف ہی پارٹی کے اہم ترین لیڈر رہے۔

شہباز شریف کی قیادت میں بننے والی حکومت بھی  بڑی حد تک نوازشریف کے مشوروں سے ہی چلتی رہی تھی۔ شہباز شریف حکومت چلانے کے لیے لندن میں موجود بھائی سے مشورہ کرنے کے پابند تھے۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ لندن میں بیٹھے نواز شریف ہی درحقیقت اپریل 2022کے بعد ملک کے ڈی فیکٹو وزیر اعظم تھے ۔   کوئی بڑا سیاسی یا حکومتی فیصلہ ان کی رضامندی کے بغیر طے نہیں پایا۔ اس لیے ان فیصلوں کے اچھے  یا برے نتائج کی تمام ذمہ داری بھی نواز شریف ہی کو قبول کرنا پڑے گی۔ ان میں دو فیصلے اہم ترین سمجھے جائیں گے۔ ایک جنرل باجوہ کو توسیع دینے کا معاملہ تھا  اور دوسرا عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لاکر  خود ااقتدار سنبھالنے کا فیصلہ تھا۔ ان دونوں فیصلوں نے ملکی سیاست کا حلیہ تبدیل کیا۔

  مسلم لیگ (ن) کی حمایت کے بغیر شاید آرمی ایکٹ میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ایسی ترمیم ممکن نہ ہوتی  کہ آرمی چیف توسیع حاصل کرپاتے۔ اب یہ کوئی راز نہیں ہے کہ ا س فیصلہ کے ملکی سیاست پر دوررس اثرات مرتب ہوئے۔ ان اثرات کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ  نواز شریف کے علاوہ عمران خان بھی جنرل باجوہ کو سیاسی معاملات میں مداخلت اور اپنی حکومت کے خلاف سازش کرنے کا قصور وار سمجھتے ہیں۔

البتہ ملکی نظام پر ابھی تک پاک فوج کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ جنرل باجوہ تو درکنار سابق آئی ایس چیف جنرل فیض حمید کو   فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر قائم کیا ہؤا تحقیقاتی  کمیشن بھی بیان دینے کے  لیے طلب نہیں کرسکا  اور اسے جنرل (ر) فیض حمید کے تحریری جواب  پر ہی انحصار کرنا پڑا۔ بعد ازاں چیف جسٹس اس ’ناکامی‘ پر چین بچیں ہوکر رہ گئے اور کابینہ نے بھی اپنی ’پریشانی‘ کا اظہار کمیشن کی   نااہلی کو قرار دیا۔ کیوں کہ  شاید کوئی بھی فریق  یہ حقیقت تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے کہ فوج بطور ادارہ مضبوط اکائی  ہے اور  قیادت میں تبدیلی اور داخلی اختلافات سے قطع نظر فوج اپنے ادارے کی ’اتھارٹی‘ پر کمپرومائز کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

اس میں غلط درست کا سوال نہیں بلکہ فوج یہ سمجھتی ہے کہ اس  سے متعلق رہنے والے  اعلیٰ عہدیداروں کو  بعد از وقت تحفظ فراہم کرنا فوج کی ذمہ داری ہے۔ یہ تحفظ آج کل جنرل باجوہ اور فیض حمید کو  حاصل ہے جبکہ ماضی میں  آئین شکنی کے مرتکب تمام جرنیل اس فوجی روایت سے استفادہ کرتے رہے ہیں۔ حتی کہ  سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے پرویز مشرف کی ’حفاظت‘ کے لیے اس وقت کی فوجی قیادت نے نواز شریف حکومت کو مجبور کرکے انہیں  بیرون ملک بھجوانے کا اہتمام کیا تھا۔

نواز شریف اس سارے عمل میں  ’مظلوم‘ بھی رہے ہیں لیکن  جب انہیں فیصلوں  پر اثر انداز ہونے کا موقع ملا تو  وہ کوئی ایسا فیصلہ کرنے  کا حوصلہ نہیں کرسکے  جس کا دعویٰ وہ ’ڈکٹیشن نہیں لوں گا یا ووٹ کو عزت دو‘ جیسے سیاسی نعروں میں کرتے رہے ہیں۔  اس وقت ملکی سیاست میں اگر سیاسی پارٹیوں کو فوج کی  بی ٹیم کی حیثیت حاصل ہے تو اس کی ذمہ  داری نواز شریف پر بھی عائد ہوگی۔ سیاسی قوتوں کی بے وقعتی کا اندازہ  سابق صدر عارف علوی کے اس  تازہ بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ‘عمران خان  صرف ان لوگوں سے بات کریں گے جن کے ہاتھ میں اصل طاقت ہے‘۔   یا مسلم لیگ (ن) کی جنرل کونسل میں نواز شریف کے  انتخاب سے پہلے   فوج کی محبت سے سرشار  شہباز شریف کی پرجوش تقریر میں  ملکی سیاست کی کشش ثقل کے اصل مرکز  کا سراغ لگانے  کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ شہباز شریف نے جوش خطابت میں عمران خان کے فوج سے تعلق کے بارے میں جو الفاظ  استعمال کیے، وہ  اگرچہ خود ان پر بھی  صادق آتے ہیں لیکن پھر بھی کسی وزیر اعظم  کے منہ سیاسی مخالف کے بارے میں ایسا لب و لہجہ افسوسناک ہے۔

لیگی قیادت کا اصرار ہے کہ حق بحق دار رسید کے مصداق نواز شریف کو ان کا جائز عہدہ واپس مل گیا ہے کیوں کہ مسلم لیگ (ن)   تو ان ہی کی  پارٹی ہے۔عدالت کے ناجائز فیصلوں کی وجہ سے  انہیں 6  سال پہلے  پارٹی سصدارت سے محروم کیا گیا تھا لیکن حالات تبدیل ہونے کے بعد انہیں جیسے ہی ’انصاف‘  ملا اور وہ تمام الزامات سے بری ہوگئے تو پارٹی کی صدارت ان کا حق تھا جو انہیں مل گیا۔ اس حد تک بات کو مان لیا جائے تو بھی  ملکی سیاسی پارٹیوں میں پارٹی قیادت اور حکومتی  سربراہی  میں تقسیم کی روایت موجود نہیں ہے۔  عام طور سے  جب کسی پارٹی کو اقتدار ملتا ہے تو اس کا صدر  ہی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالتا ہے۔ موجودہ حالات میں شہباز شریف ملک کے وزیر اعظم اور نواز شریف  پارٹی کے صدر ہوں گے۔ اس طرح مفادات کے ٹکراؤ   یا اختیارات کی تقسیم کے سوال پر کج رو ی دیکھنے میں آئے گی۔

پاکستانی سیاسی پارٹیوں میں   مشاورتی  یا پالیسی سازی کا  کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ لیڈر کی بات ہی حرف آخر ہوتی ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) کا ڈھانچہ یوں استوار ہوتا کہ پارٹی کی مجلس عاملہ میں یا مشاورتی بورڈ میں فیصلے ہوتے اور  اس کی حکومت کا وزیر اعظم ان پالیسی فیصلوں پر عمل درآمد کا پابند ہوتا تو بھی اسے اختیارات میں ایک مناسب توازن کا نام دیا جاسکتا تھا۔ پارٹی سربراہ اگر وزیر اعظم بن جائے تو  کوئی مشکل پیش نہیں آتی لیکن اب پارٹی کے صدر نواز شریف ہوں گے اور حکومت کی سربراہی شہباز شریف کے پاس ہے۔ ایسے میں اگر حکومت نواز شریف کی مرضی کے مطابق فیصلے نہیں کرتی تو  اختلافات کی راہ ہموار ہوتی ہے اور اگر شہباز شریف تمام سرکاری معلومات نواز شریف کو بتا کر ان سے رہنمائی لیتے ہیں تو یہ  سرکاری امور میں اخفائے راز کے اصول کی خلاف ورزی کے زمرے میں آئے گا۔ یا تو نواز شریف کو خود ہی وزیر اعظم بھی      بن جائیں یا پھر صدارت  بھی شہباز شریف کے پاس ہی رہنے دیتے۔ موجودہ حالات میں سیاسی اور انتظامی امور  میں الجھاؤ کی ناقابل قبول صورت حال دیکھنے میں آسکتی  ہے۔

اس مشکل صورت حال سے نکلنے کا دوسرا راستہ یہی ہوسکتا ہے کہ نواز شریف حکومتی امور  میں  مداخلت کی بجائے اپنی پوری توجہ پارٹی منظم کرنے پر صرف  کریں اور پارٹی کا ڈھانچہ یوں استوار کیا جائے کہ نیا خون سیاسی عمل کا حصہ بن سکے۔ اب   خاندانی بنیادوں پر  عہدے بانٹنے اور سنبھالنے والے سب لیڈروں کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ پارٹی اپیل میں اضافہ کے لیے  قیادت کے امکانات  صرف خاندان کے ارکان تک محدود نہ رکھے جائیں  بلکہ  ایسے لوگوں کو بھی اہم پوزیشنز  لینے کا موقع دیا جائے جو  کسی پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرتے۔ اگر پارٹیوں پر شخصی تسلط کا طریقہ قائم رکھا جائے گا تو یہ سیاسی پارٹیاں نہ تو عوام  میں جڑیں بنا سکیں گی اور نہ ہی ان کا اثر زیادہ وسیع حلقے تک پھیل سکے گا۔ اس صورت میں جوڑ توڑ  کی سیاست  محض اقتدار کے حصول  تک محدود رہے گی۔

نواز شریف تجربہ کار سیاست دان ہیں لیکن جمہوری سیاسی عمل صرف تجربے کی بنیاد پر نہیں بلکہ نئے خیالات اور نئے لوگوں کو ساتھ ملانے سے  مؤثر و فعال ہوتا ہے۔  نواز شریف کے پاس اب یہ موقع ہے کہ وہ کم از کم اپنی پارٹی کو اس راستے پر گامزن کریں۔ وہ ملک میں جمہوریت کی جد و جہد میں تو کامیاب نہیں ہوئے لیکن اگر ایک سیاسی پارٹی کو فعال اور  جمہوری طور سے متحرک بنا سکیں تو دوسری پارٹیوں کو بھی ان کی تقلید کرنا پڑے گی۔

ملک سنگین سیاسی چیلنجز کا سامنا کررہا ہے۔ نواز شریف مسلسل یہ اشارے دیتے رہتے ہیں کہ سیاسی عمل شفاف ہونا چاہئے جس پر ریاستی ادارے اپنا تسلط قائم نہ کریں۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو جمہوری ، نمائیندہ، منظم اور متحرک ہوں ۔ نواز شریف مسلم لیگ (ن) کو ایک مؤثر اور شفاف سیاسی قوت بنا کر  اس طرف پیش قدمی کرسکتے ہیں تاہم یہ مقصد  پارٹی قیادت میں نیا خون شامل کیے بغیر پورا نہیں ہوسکتا۔

سینئر سیاست دانوں کو خود ہی مناسب وقت پر  عملی سیاست سے دست کش ہوکر  فیصلوں کا اختیار نئی نسل کے حوالے کردینا چاہئے۔ لیکن پاکستان کی سیاسی پارٹیوں  میں تو لیڈر اپنے بچوں تک کو یہ حق دینے پر آمادہ  نہیں ہوتے۔ ایسے ماحول میں سیاسی رویوں میں تبدیلی اور جمہوری عمل میں پختگی کا  خواب پورا ہونا محال ہے۔