برطانیہ اپنی غلطیوں کا ازالہ کرے: سپریم کورٹ کا برطانوی ہائی کمشنر کو خط

  • جمعرات 30 / مئ / 2024

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کے نام خط میں کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے غلطیوں کا ازالہ کیا ہے اور برطانیہ بھی اپنی غلطیوں کا ازالہ کرے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی ہدایت پر رجسٹرار سپریم کورٹ نے برطانوی ہائی کمیشن کو خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا کہ ہے کہ برطانوی ہائی کمشنر نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جمہویت اور کھلے معاشرے کی بات کی۔ سپریم کورٹ  نے غلطیوں کا ازالہ کیا ہے۔ برطانیہ بھی اپنی غلطیوں کا ازالہ کرے۔ رجسٹرار سپریم کورٹ کے خط میں 1953 میں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے اور بالفور اعلامیے کے ذریعے اسرائیلی ریاست کے قیام کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔

 رجسٹرار سپریم کورٹ نے پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر جین میریٹ کے نام بھجوائے گئے خط میں کہا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں آپ کی پرجوش تقریر میں جمہوریت کی اہمیت، انتخابات اور کھلے معاشرے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ برطانوی حکومت کی طرف سے دکھائی جانے والی دلچسپی خوش آئند ہے۔ پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات کرانا ضروری تھا، انتخابات اس لئے بر وقت نہیں ہو سکے تھے کیونکہ صدر اور الیکشن کمیشن متفق نہیں تھے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ معاملہ صرف 12 دنوں میں حل کر دیا اور 8 فروری 2024 کو پورے پاکستان میں عام انتخابات ہوئے۔ رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا کہ آئیے ہم آبادکاروں کی نسلی برتری کے دہانے سے پیچھے ہٹیں ، ہم سب اٹھ کھڑے ہوں اور برابری، امن اور انسانیت کے لیے شمار کیے جائیں۔  آئیے ایمان دار بنیں اور کھلے پن کے جذبے کے ساتھ ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کریں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ماضی میں ہونے والی غلطیوں کو تسلیم کیا ہے،  ان غطیوں کا تفصیل سے ازالہ کیا ہے اور یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں کہ ان کا اعادہ نہ ہو۔

خط میں کہا گیا کہ چونکہ کنگ چارلس سوئم کی حکومت نے کھلے معاشروں اور جمہوریت کی ضرورت پر زور دیا ہے اور آپ کا ملک عوام کے لیے کھلے پن اور جمہوریت کے لیے اپنی تڑپ اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہے۔