نیویارک کی جیوری نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا
نیویارک کی عدالتی جیوری نے خاموش رہنے کے لیے رقم کی ادائیگی سے متعلق تمام الزامات پر ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ پہلے سابق امریکی صدر بن گئے ہیں جنہیں فوجداری معاملے میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ان انتخاب سے قبل سامنے آیا جس مٰیں وہ صدارتی امیدوار ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق عدالت نے سابق صدر کو فحش فلموں کی اداکارہ اسٹارمی ڈینیئلز کو خاموش رہنے کے لیے کی گئی ادائیگی کو چھپانے کے لیے کاروباری دستاویزات میں جھوٹ بولنے پر عائد تمام 34 الزامات کے تحت مجرم پایا۔
امریکی عدالت کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد تمام 34 الزامات درست ثابت ہوئے۔ 11 جولائی کو ڈونلڈ ٹرمپ کی سزا کا اعلان کیا جائے گا۔ ستتر سالہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے۔ وہ اس فیصے کےخلاف اپیل کریں گے۔ انہیں زیادہ سے زیادہ 4 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور 81 سالہ جوبائیڈن ایک سخت صدارتی دوڑ میں شریک ہیں۔ رائٹرز/ اِپسوس پولنگ کے مطابق اس فیصلے سے ڈونلڈ ٹرمپ آزاد اور ریپبلکن ووٹروں کی کچھ حمایت کھو سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2016 کے صدارتی انتخاب سے قبل ایک پورن اسٹار کو ادا کی گئی ’ہش منی‘ (یعنی کسی شخص کو مخصوص راز افشا نہ کرنے کے عوض رقم دینا) کو چھپانے کے لیے کاروباری ریکارڈ میں ہیر پھیر کی ہے۔ سابق امریکی صدر نے پورن اسٹار کو ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکشن مہم چلانے سے نہیں روکا گیا اور وہ جیل جانے کی صورت میں بھی اپنے حریف جو بائیڈن کا مقابلہ کرسکیں گے۔ ان کے وکیل نے کہا کہ ان کی ٹیم فیصلے کے خلاف جلد از جلد اپیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک معصوم آدمی ہوں۔ انہوں نے پرعزم انداز میں کہا کہ حقیقی فیصلہ انتخابی دن ووٹرز کی جانب سے آئے گا۔ انہوں نے اپنے خلاف کیس کو غیر شفاف اور باعث شرم قرار دیا۔
جو بائیڈن کی ٹیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مقدمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، ہماری جمہوریت کو ڈونلڈ ٹرمپ سے درپیش خطرہ اب تک کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔
جج جوآن مرچن نے 11 جولائی کو سزا سنانے کا اعلان کیا جب کہ اس کے صرف 4 روز بعد ملواکی میں ریپبلکن نیشنل کنونشن ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کو پارٹی کی جانب سے باضابطہ صدر نامزد کیا جائے گا۔