امریکی صدر نے غزہ میں جنگ بندی کا نیا اسرائیلی منصوبہ پیش کردیا

  • ہفتہ 01 / جون / 2024

صدر جو بائیڈن نے جمعے کے روز حماس کے عسکریت پسندوں پر زور دیا ہےکہ وہ یرغمالوں کی رہائی کے بدلے غزہ میں جنگ بندی کی نئی اسرائیلی پیشکش پر رضامند ہو جائیں۔

بائیڈن کا کہنا ہے کہ اس ہلاکت خیز تنازعے کو ختم کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فورسز رفح میں مزید اندر تک داخل ہو رہی ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہیہ اس جنگ کے ختم ہونے اور نیا دن شروع کرنے کا وقت ہے۔ جنگ بند ہونے سے اس امداد کو محفوظ اور مؤثر طریقے سے ان تمام لوگوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جنہیں اس کی ضرورت ہے۔

صدربائیڈن پر انتخابی سال میں غزہ جنگ کو ختم کرانے کا دباؤ ہےجسے اب آٹھواں مہینہ شروع ہو چکا ہے ۔ بائیڈن نے اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کا نیا منصوبہ پیش کیاہے۔ یہ منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ہے۔ جس کا آغاز چھ ہفتے کی عارضی جنگ بندی سے ہوگا اور حماس کے ساتھ مزید مستقل جنگ بندی کا باعث بنے گا۔

بائیڈن نے کہا کہ پہلے مرحلے میں مکمل اور جامع جنگ بندی شامل ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ غزہ کے تمام آبادی والے علاقوں سے اسرائیلی فورسز واپس چلی جائیں گی ۔ اسرائیلی جیلوں سے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں خواتین، بوڑھوں، زخمیوں اور امریکی شہریوں سمیت بعض یرغمالوں کی رہائی عمل میں آئے گی ۔

روزانہ غزہ میں 600 ٹرک انسانی ہمدردی کی امداد پہنچائیں گے۔ اسرائیل غزہ میں مزید انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دے گا اور شمالی علاقوں سمیت غزہ کے تمام علاقوں میں فلسطینی شہریوں کو ان کے گھروں اور محلوں میں واپس جانے کی اجازت دے گا۔

بائیڈن نے خبر دار کیا کہ ابتدائی چھ ہفتوں کے وقفے کے بعد، آگے کا راستہ زیادہ پیچیدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا۔ پہلے مرحلے سے دوسرےمرحلے میں جانے کے لیے بہت سی چیزوں پر گفت و شنید کرنی ہوگی ۔ دوسرے مرحلے میں حماس اور اسرائیل جنگ کے مستقل خاتمے کی شرائط پر گفت و شنید کریں گے۔ اس مرحلے میں حماس کے زیر حراست مرد اسرائیلی فوجیوں سمیت، باقی تمام یرغمالوں کو رہا کیا جائے گا ۔

اسرائیلی فورسز غزہ سے انخلا کریں گی۔ اور جب تک حماس اپنے وعدوں پر قائم رہے گی، اسرائیلیوں نے جنگ کے مستقل طور پر خاتمے پر اتفاق کیا ہے۔ صدر نے کہا جب تک مذاکرات جاری رہیں گے،جنگ بندی برقرار رہے گی چاہے ابتدائی چھ ہفتوں میں مذاکرات ختم ہو جائیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکہ، مصر اور قطر کے ثالث تمام معاہدے طے پانے تک مذاکرات جاری رکھیں گے ۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں، غزہ کی تعمیر نو کا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا جائے گا۔ ہلاک ہونے والے یرغمالوں کی باقیات کو ان کے خاندانوں کو واپس کر دیا جائے گا۔

صدر نے کہا کہ اسرائیل کے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی سلامتی کو مزید خطرے میں ڈالے بغیر یہ پیشکش کر سکتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حماس کی فورسز کو تباہ کر دیا ہے۔ بائیڈن نے کہا کہ یہ تجویز قطر کےتوسط سے حماس کو بھیج دی گئی ہے ۔

بائیڈن کے بیان پر اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر یا حماس کی طرف سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ جمعرات کو حماس نے کہا تھا کہ اس نے ثالثوں کو مطلع کیا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ میں اپنی جنگ روکتا ہے تو وہ ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہیں، جس میں یرغمالوں اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ شامل ہے۔

اسرائیل اور حماس کی عسکری تحریک کے درمیان جنگ بندی کے بندو بست کے لیے مصر، قطر اور دوسروں کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات بار بار تعطل کا شکار رہے ہیں ۔ دونوں فریق پیش رفت کے فقدان پر ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

صدر بائیڈن نے اسرائیل میں ان لوگوں پر جو غیر معینہ مدت تک جنگ کےلیے دباؤ ڈال رہے ہیں زور دیاکہ وہ اپنا نظریہ بدل لیں۔ میں جانتا ہوں کہ اسرائیل میں ایسے لوگ ہیں جو اس منصوبے سے اتفاق نہیں کریں گے۔ اور جنگ کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا مطالبہ کریں گے۔ کچھ تو حکومتی اتحاد میں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ غزہ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ برسوں تک لڑتے رہنا چاہتے ہیں اور یرغمالی ان کے لیے ترجیح نہیں ہیں۔ میں نے اسرائیل کی قیادت پر زور دیا ہے کہ خواہ کوئی بھی دباؤ آئے وہ اس معاہدے پر قائم رہیں۔

صدر نے کہا کہ ایک ایسے شخص کے طور پر جس کی اسرائیل کے ساتھ زندگی بھر کی وابستگی رہی ہو، ایک واحد امریکی صدر کے طور پر جو جنگ کے وقت کبھی بھی اسرائیل گیا ہو، ایک ایسے شخص کے طور پر جس نے امریکی افواج کو براہ راست اسرائیل کے دفاع کے لیے اس وقت بھیجا ہو جب ایران نے اس پر حملہ کیا تھا، میں آپ سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کا کہتا ہوں۔ سوچیں اگر یہ لمحہ ضائع ہو گیا تو کیا ہوگا؟ ہم اس لمحے کو کھو نہیں سکتے،

اسرائیلی کے متعدد ذرائع ابلاغ نے جو بائیڈن کی جمعےکی تقریر کو ڈرامائی قرار دیا اور اسے اسرائیلی عوام سے براہ راست اپیل سے تعبیر کیا ۔